کراچی(رفیق مانگٹ) وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے اپنی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ شروع کر دیا ہے، جبکہ اسی دوران امریکی اور ایرانی ٹیمیں پاکستان میں متوقع اہم مذاکرات کی تیاری کر رہی ہیں، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی افواج ممکنہ آپریشنز کے پیش نظر تیزی سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور ایک امریکی عہدیدار کے مطابق حال ہی میں لڑاکا طیارے اور حملہ آور طیارے خطے میں پہنچ چکے ہیں۔ مزید برآں، امریکی فوج کی ایلیٹ 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے تقریباً 1,500 سے 2,000 اہلکار آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچ سکتے ہیں۔ اسی دوران ہزاروں امریکی نیوی اہلکار اور میرینز بھی خطے کی طرف روانہ ہیں۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS George H.W. Bush اور اس کے ہمراہ جنگی جہاز مارچ کے آخر میں ریاست ورجینیا سے روانہ ہوئے اور اس وقت بحرِ اوقیانوس میں موجود ہیں۔ اسی طرح USS Boxer اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز، جو 11ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کو لے جا رہے ہیں، مارچ کے وسط میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوئے اور اس وقت بحرالکاہل میں ہیں۔ امریکی بحری حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں ایک ہفتے سے زائد وقت لگ سکتا ہے۔