لبنان کے ساتھ جاری مذاکرات میں اسرائیل کا بنیادی اور مرکزی مطالبہ حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ یہ ذمے داری لبنانی حکومت اور فوج کو اٹھانی ہو گی، خاص طور پر اس وقت سے جب اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے لبنان پر بمباری یا جنوبی لبنان میں مزید فوج بھیج کر حزب اللّٰہ کو غیر مسلح نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے لیے پورے ملک پر قبضہ کرنا پڑے گا، جو کہ ممکن نہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اسی لیے اسرائیل مسلسل لبنانی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس گروہ کے خلاف کارروائی کرے، جبکہ حالیہ ہفتوں میں سخت وارننگز بھی دی گئی ہیں کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو لبنان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے لبنانی حکومت کی مقبولیت یا صلاحیتیں زیادہ اہم نہیں، بلکہ وہ اپنے عوام کو مطمئن کرنے پر توجہ دے رہا ہے، خاص طور پر شمالی اسرائیل کے وہ علاقے جو حزب اللّٰہ کے راکٹ حملوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں نے ناصرف روزمرہ زندگی کو متاثر کیا بلکہ وہاں کے شہریوں میں عدم تحفظ بھی بڑھایا ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ حزب اللّٰہ اس علاقے میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے اور اسرائیلی فوج کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ تمام صورتِ حال اسرائیلی داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، جہاں بعض حلقے فوج میں تھکن اور حکمتِ عملی کی غیر واضح صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔