آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے ساتھ بدلنے کے عمل میں انسان کی تنگ نظری اور انتہا پسندی سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ انتہا پسندی ہر دور میں انسانی معاشرے کا مسئلہ رہی ہے۔ جس نے انسانی تہذیب و تمدّن کے ارتقاء کے روکنے اور وقت کے دھارے کو پیچھے موڑنے کی کوشش کی ہے ۔ وقت کے فطری بہائو کو روکنے کی اس سعی لا حاصل میں سماج کے مختلف گروہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں جس سے بعض اوقات وسیع پیمانے پر تباہی پھیلتی ہے اور سماجی زندگی کا ارتقاء رک جاتا ہے۔ انتہا پسندی کی کئی شکلیں ہیں ۔مسلکی،گروہی اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی، خاندانی اور معاشرتی اقدار کے بارے میں انتہا پسندی ، رسم و رواج کے حوالے سے انتہا پسندی ، سیاسی نظریات لسانی ، علاقائی اور ذاتی پسند نا پسند کے بارے میں انتہا پسندی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کیفیت کو انتہا پسندی کے علاوہ بنیاد پرستی اور تنگ نظری سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ ذہن کی اس فکری کیفیت کا نام ہے جب انسان کی سوچیں ایک بند گلی میں محصور ہو جاتی ہیں۔ جس میں سے نکلنا اس کے لئے محال ہو جاتا ہے اور وہ دنیا کے بدلتے ہوئے منظر نامے اور تقاضوں سے بوجوہ عہد برآہ نہ ہونے کی وجہ سے ردّ عمل کے طور پر اپنی سوچ کو حتمی سمجھ لیتا ہے۔ یہ سوچ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک فرد یا گھرانے سے لیکر پورے معاشرے یا بعض

اوقات پوری دنیا کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، جیسے قومی بالا دستی کی انتہا پسندی یا تنگ نظری جسے بیسویں صدی میں اوڈلف ہٹلر نے عظیم جرمن اور آریائی قوم کی بالادستی کے نام پر دوسری عالمی جنگ کی صورت میں ساری دنیا پر مسلّط کر دیا تھا۔ اسی طرح بارہویں صدی میں عیسائی پادریوں نے مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کا آغاز کردیا۔ جس میں دو سوسال تک لاکھوں بیگناہ مسلمان اور عیسائی مارے گئے۔ ہندوئوں کے مذہبی پیشوائوں یعنی پنڈتوں نے ستی جیسی انسانیت کش رسم کے ذریعے صدیوں تک معصوم خواتین کو زندہ جلانے کا عملِ قبیح جاری رکھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے سمندر پار سفر کو بھی اپنی مذہبی تعلیمات کے خلاف قرار دیکر ہندوئوں کو جاہل ، گنوار اور پسماندہ رکھنے میںکوئی کسر نہ اٹھا رکھی چونکہ مذہبی انتہا پسندی کا جال انسانی فطرت کو زیادہ آسانی کے ساتھ اپنا شکار بنا لیتا ہے اور اسکی فتنہ گری بھی نسبتاََ دوسری انتہا پسندیوں کے زیادہ مہلک ہوتی ہے لہذٰا عرفِ عام میں اپنے اپنے مذاہب کے تناظر میں اس کیفیت کو پاپائیت، ملائیت اور پنڈدیت بھی کہتے ہیں۔ نفسیاتی لحاظ سے ہر انتہا پسندی میں دو عوامل پائے جاتے ہیں۔ اوّل کسی معاملے یا زیرِ بحث مسئلے کی یک رخی یعنی اس مسئلے کے صرف ایک ہی پہلو کو فوکس کرنا اور اسے کل کی بجائے جزوی طور پر لینا۔ دوسرے اپنی دانست میں جو کچھ جان لینا اور جتنا جان لینا چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو اس پر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور عقل ِ کل سمجھنا یعنی کم علمی کے ساتھ برتری کی سوچ انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے یہ کیفیت جو بنیادی طور پر کم علمی کی پیداوار ہوتی ہے ۔ انسانی سوچوں کو محدود کردیتی ہے جس میں کسی نئے علم کی گنجائش نہیں رہتی ۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا۔
قوم کیا ہے قوموں کی امامت کیا ہے اس کو کیا سمجھیں گے یہ دو رکعت کے امام
علم جو سمندر کی طرح وسیع ہے اور انسانی ظرف میں وسعت ، ٹھہرائو اور گہرائی پیدا کرتا ہے۔ اسکی کمی انسانی فطرت کو کنویں کے مینڈک کی طرح بنا دیتی ہے جو اپنی چھوٹی سی دنیاکے باہر کچھ نہیں جانتا۔ تھوتھا چنا، باجے گھنا کے مصداق انتہا پسندشخص کی تنگ نظری اسے تنگ مزاج بنا دیتی ہے وہ اختلاف ِ رائے یا معمولی سی تنقید اور رائے عامہ یا جمہوریت کا مخالف ہوجا تا ہے کیونکہ اس کے اندر سے برداشت کا مادہ ختم ہوجا تاہے اور وہ بات بات پر مرنے مارنے پر اُتر آتا ہے۔ اور ایک وقت میں یہ کیفیت اس پر اتنی غالب آجاتی ہے کہ اس کے سب نظریات اسکی انتہا پسندی کے نیچے دب جاتے ہیں۔ اور مذہبی انتہا پسند اکثر مذہبی اصولوں کے خلاف عمل کرتا ہے ۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبہ میں پائے جانے والے انتہا پسند شخص پر صادق آتے ہیں ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں غیرت، خاندانی فخر و غرور اور قبیلے کی حرمت پر محض اس انتہا پسندی کے جذبے کے تحت بے انتہا خون بہایا گیا۔ میڈیکل سائنس کے مطابق کچھ بیماریوں کے جراثیم آکسیجن کے بغیر گھٹن میں پلتے ہیں اور آکسیجن کی موجودگی میں مر جاتے ہیںانہیں (An AEROBES)کہتے ہیں۔ انتہا پسندی یا تنگ نظری این ایروبز کی طرح ہے جو صرف جہالت کی گھٹن میں پرورش پاتی ہے اس کا خاتمہ صرف اور صرف علم کی آکسیجن سے ہی ممکن ہے۔ اگرہم اپنے معاشرے میں دائمی طور پر تنگ نظری ، بنیادی پرستی اور انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں علم کی زیادہ سے زیادہ شمعیں روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ انتہا پسندی کی لہر ہمارے معاشرے کو صدیوں پیچھے لے جائے گی۔