دبئی کے سیون اسٹار ہوٹل برج العرب کو مرمت کے لیے 18 ماہ بند کرنے کا اعلان کردیا گیا ۔
دبئی کا مشہور لگژری ہوٹل برج العرب صرف اپنی منفرد “کشتی نما” شکل کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنی تعمیر اور ڈیزائن کے حیرت انگیز پہلوؤں کے باعث بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔
برج العرب ہوٹل کی 1999 کے بعد پہلی بڑی مرمت کا آغاز ہورہا ہے، کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ مرمت کے دوران کشتی نما ہوٹل کی منفرد ساخت کو برقرار رکھا جائے گا اور ہوٹل کے اندرونی ڈیزائن اور طرزِ تعمیر کو محفوظ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
برج العرب کی تعمیر سے پہلے سمندر میں ایک مصنوعی جزیرہ بنایا گیا، جو جمیرہ بیچ سے تقریباً 280 میٹر دور ہے۔ اس جزیرے کی تعمیر میں تقریباً تین سال لگے، جو خود ہوٹل کی عمارت کی تعمیر سے بھی زیادہ عرصہ ہے۔
ہوٹل کے اندرونی حصوں میں 24 قیراط سونے کی تہہ بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی ہے، جو ستونوں، دیواروں اور دیگر سجاوٹی حصوں کو شاہانہ انداز دیتی ہے۔
کبھی اس ہوٹل میں قیام کرنے والے مہمانوں کو 24 قیراط گولڈ پلیٹڈ آئی پیڈ فراہم کیا جاتا تھا، جس کے ذریعے وہ ہوٹل کی تمام سہولیات تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔
ہوٹل میں تقریباً 30 اقسام کے قیمتی پتھر اور سنگِ مرمر استعمال کیے گئے ہیں، جن میں اطالوی اسٹاچوریو ماربل بھی شامل ہے، جو کلاسیکل فنِ تعمیر سے جڑا ہوا ہے۔
برج العرب کا مشہور ’’انڈر واٹر‘‘ ریسٹورنٹ حقیقت میں سمندر کے نیچے نہیں بلکہ ایک بڑے ایکوئریم کے ذریعے ایسا تاثر دیا گیا ہے۔ اس ایکوئریم میں لاکھوں لیٹر پانی اور مختلف اقسام کی مچھلیاں موجود ہیں، جو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتی ہیں۔
ہوٹل میں مہمانوں کے لیے 17 اقسام کے تکیوں کا انتخاب موجود ہے، جبکہ ہر کمرہ دراصل دو منزلہ (ڈوپلیکس) سوٹ پر مشتمل ہے۔ رائل سوٹ میں ایک گھومنے والا بستر بھی شامل ہے۔
200 میٹر سے زائد بلندی پر واقع ہیلی پیڈ کو مختلف عالمی ایونٹس کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے، جن میں ٹینس میچ (راجر فیڈرر اور آندرے آگاسی)، گالف شاٹ (ٹائیگر ووڈز) اور دیگر نمایاں مظاہرے شامل ہیں۔
1999 میں افتتاح کے بعد برج العرب نے دبئی کو عالمی لگژری سیاحت کے نقشے پر نمایاں کیا۔ آج جب برج خلیفہ اور میوزیم آف دی فیوچر جیسے نئے منصوبے سامنے آ چکے ہیں، تب بھی برج العرب اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آئندہ ہونے والی 18 ماہ کی بحالی کے بعد اس تاریخی ہوٹل کی کون سی روایات برقرار رکھی جائیں گی اور کن میں تبدیلی آئے گی۔