• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’انکار‘‘ رومانٹک ہے۔ معاشرے کے جبر کا انکار کرنیوالا، صاحبِ اختیار کے جبر کا انکار کرنے والا، مروجہ نظام کے جبروت کا انکار کرنے والا، جاذب نظر آتا ہے۔ اکثریت تو طاقت کے سامنے حالتِ رکوع میں ہوتی ہے اور جو پورے قد کے ساتھ کھڑا ہو وہ ویسے ہی منفرد دکھائی دینے لگتا ہے، اور بلاشبہ انفرادیت توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔ دیکھنے والے حرفِ انکار کو بہت سی نایاب انسانی خوبیوں کا نتیجہ مانتے ہیں۔ صاحبِ انکار کو اخلاقی طاقت کا استعارہ سمجھا جاتا ہے جو اپنے سے بہت بڑی دنیاوی طاقت کی بیعت سے انکار کرتا ہے۔ صاحبِ انکار بے خوف و پُر اعتماد، آزاد و خود مختار نظر آتا ہے چاہے اسے زنجیروں میں ہی کیوں نہ جکڑ دیا جائے۔

’’انکا‘‘ کی جاذبیت میں کچھ کلام نہیں حال آں کہ اس سے کچھ التباس بھی جُڑے ہیں۔ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ جو شخص ایسے ایقان کا مظاہرہ کر رہا ہے، مشکلات برداشت کر رہا ہے، یقیناً اس کے پاس کوئی متبادل نظریہ موجود ہے، اور اس کے اندر یہ قابلیت بھی موجود ہو گی کہ اگر موقع ملے تو وہ معیشت و معاشرت کی اصلاح کر پائیگا۔ لازم نہیں کہ ایسا ہو، مگر یہ آگے کی باتیں ہیں، اس وقت ہمارا مرکزی نقطہ انکار کی جاذبیت ہے۔ تصور یہی ہے کہ باغی ظلم کے خلاف کھڑا ہے، اصولوں پر ڈٹا ہوا ہے، ہماری عزتِ نفس کا محافظ ہے، ہمارے لیے کھڑا ہے، وہ قربانی جو ہم نہیں دے سکتے، صاحب انکار دے رہا ہے، ہماری پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، ہمیں انصاف دلانے کیلئے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہے۔

تاریخ میں کتنے ہی کردار ہیں جو اپنے انکار کے باعث ہمیں آج تک محبوب ہیں۔ بلکہ یہ سلسلہ اساطیر سے شروع ہو جاتا ہے، پرومتھیس نے انسانوں کی خاطر خداؤں کا انکار کیا تھا اور اس جرم کی پاداش میں ابدی سزا کا مستوجب ٹھہرایا گیا، یونانی دیو مالا کا یہ کردار اسی لیے بیسیوں اساطیری کرداروں میں جاذب تر نظر آتا ہے۔ سقراط کی تعلیمات کیا تھیں، کیا وہ یونانی خداؤں کا منکر تھا، کیا وہ جمہوریت کا مخالف تھا، کیا وہ واقعی ایتھنز کے نوجوانوں کو بہکا رہا تھا، عام آدمی ان باتوں سے بے نیاز ہے۔ عوام تو بس یہ جانتے ہیں کہ وہ ریاست کے جبر کا شکار ہوا تھا، وہ ظلم کے خلاف سچ کا استعارہ ہے، اس نے جیل سے فرار ہونے سے انکار کیا تھا، اس نے طاقتوروں کا انکار کیا تھا، اور اس نے زہر کا پیالہ پی لیا تھا۔ سقراط کے انکار میں بے پناہ جاذبیت ہے۔ اطالوی سائنس دان گیلیلیو نے کوپر نکس کے نظریے کی تائید کی، یعنی زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، کیتھولک چرچ نے اسے الحاد قرار دیا، گلیلیو نے کہا میں نہیں میری ٹیلے سکوپ ملحد ہے، بہرحال گیلیلیو کو تاریخ فقط ایک عظیم سائنس دان کے طور پر ہی نہیں بلکہ زندہ خداؤں اور مذہبی جبر کے انکار کے استعارے کے طور پر یاد کرتی ہے۔ گیلیلیو کی علمی بغاوت میں انتہائی جاذبیت ہے۔ کسی عہد پر نظر ڈال لیں، کسی شعبے کو دیکھ لیں، آپ کو انکار کی جاذبیت کی مثالیں دکھائی دیں گی۔ ادب میں اپنے ہاں دیکھ لیجیے۔ فیضؔ صاحب آمریت کا انکار کرتے ہیں تو مزید جاذب نظر آتے ہیں، منٹو معاشرے کی منافقت کا انکار کرتا ہے تو اس میں ایک پراسرار محبوبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جالبؔ کی شاعری ایک قدم پیچھے کھڑی ہے، اس کی جرات انکار سینہ تان کر آگے کھڑی ہے اور آج بھی دلوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ یہی کشش ہے جو ہمیں ٹیپو سلطان سے بالاکوٹ کے شھداء تک میں محسوس ہوتی ہے، یہ لوگ سامراج کے جبر و قہر کا انکار کر رہے تھے۔ بھگت سنگھ نہ شاعر تھا، نہ نیتا، نہ مذہبی رہ نما، وہ بس برطانوی استعمار کا انکار کر رہا تھا، اس عہد میں روئے زمین کی سب سے بڑی طاقت کا انکار، اور اسی جرم کی پاداش میں وہ 23 سال کی عمر میں تختہء دار پر جھول گیا۔

عوام ہونٹوں پر حرفِ انکار سجانے والے سیاست دانوں کی طرف کھنچتے ہیں۔ آغاز سے پاکستان کے سب مقبول سیاست دان بنیادی طور پر جبر کا انکار کر رہے تھے، یا کم از کم یہ تاثر قائم کرنے میں کام یاب ہوئے، اور نتیجتاً عوام ان میں کشش محسوس کرتے تھے۔ یہ سلسلہ مادرِ ملت فاطمہ جناح سے شروع ہوا جنہوں نے آمریت کا انکار کیا، اور پھر اس کی قیمت بھی چکائی۔ شیخ مجیب الرحمان بنگال میں اسی لیے مقبول تھے، بھٹو صاحب آج اسی لیے یاد کیے جاتے ہیں، نواز شریف دو دہائیوں تک اپنی جرات انکار کے باعث ہی مقبول ترین راہ نما رہے، اور آج عوام عمران خان کیلئے اسی باعث کشش محسوس کرتے ہیں۔ بحث یہ نہیں ہے کہ ان کرداروں میں سے کس کا انکار باعثِ انتشار تھا یا کس کا انکار اعلیٰ مقصد کیلئے تھا، ہم صرف اس کشش کا ذکر کر رہے ہیں جو صاحبِ انکار کے گرد ایک غیر مرئی سا ہالا بُن دیتی ہے۔ خلیجی جنگ میں ایران کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ایران انسانی تاریخ کی سب سے بڑی طاقت کا انکار کر رہا ہے، ایران اپنے سے بہت بڑے حریف کے آگے جھکنے کیلئے تیار نہیں ، ایران قربانی دے رہا ہے، ایران اس کرہ کی آبادی کی اکثریت کی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، ایران وینز ویلا اور کیوبا سے عراق و شام تک کروڑوں انسانوں کی عزتِ نفس کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہم اپنے آس پاس دیکھتے ہیں، احباب عرب و عجم اور مسالک کی سطح سے اوپر اٹھ کر ایران کی طرف ایک کشش محسوس کر رہے ہیں۔ یہ ہے جرات انکار کا اسرار۔

تازہ ترین