پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، فریقین کے درمیان تعطل ختم ہونے کے قریب ہے اور جلد کسی معاہدے کا امکان ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد تہران پہنچا جہاں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی، وفد امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کے دوسرے دور کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اہم تنازع ایران کی یورینیئم افزودگی (انرِچمنٹ) کی مدت اور 440 کلو گرام افزودہ یورینیئم کے ذخیرے پر ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی توجہ 5 سے 20 سال تک افزودگی روکنے کے درمیان کسی درمیانی حل پر مرکوز ہے جبکہ ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے یا کم سطح پر لانے جیسے آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب خطے میں جنگ سے ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان حملے رک گئے ہیں تاہم لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دورے پر ہیں تاکہ علاقائی حمایت حاصل کی جا سکے۔
’الجزیرہ‘ میں شائع کی گئی ماہرین کی آراء کے مطابق یہ ’دہری حکمتِ عملی‘ ہے جس کا مقصد کسی ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ آئندہ 2 دن اہم ہو سکتے ہیں اور جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق پاکستان میں ہونے والے مذاکرات مثبت اور جاری ہیں تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
ادھر آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے جس پر ایران نے شدید ردِعمل دیا ہے اور تجارت روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں آنے والے دن اس بحران کے حل کے لیے فیصلہ کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔