• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور آزادانہ بحری تجارت کیلئے کثیرالقومی فورس بھیجنے پر غور


فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی 

آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے برطانیہ اور فرانس کی میزبانی میں کانفرنس پیرس میں آج ہور ہی ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون اور برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی زیرصدارت اتحادی ممالک کے اجلاس میں آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور آزادانہ بحری تجارت یقینی بنانے کے لیے کثیر القومی فورس بھیجنے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن کے قیام کے بعد نہ صرف جہاز رانی کو محفوظ بنایا جائے بلکہ عالمی تجارت کے تسلسل کو بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ توانائی کی عالمی منڈی کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، ایران کی جانب سے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد بند کر دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اگرچہ اس وقت جنگ بندی موجود ہے، امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔

یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ ناکہ بندی جاری رہی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر سامنے آئیں گے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ، خوراک کی قلت اور ایندھن کی کمی کے باعث پروازوں کی منسوخی کا بھی امکان ہے۔

اجلاس میں شریک تقریباً 30 ممالک کے رہنما  جن میں (زیادہ تر ویڈیو لنک کے ذریعے) شریک ہوئے  اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولا جائے اور عالمی تجارت کو بحال کیا جائے۔

ایلیزے پیلس کی جانب سے جاری دعوت نامے کے مطابق اتحادی ممالک ایک "سخت دفاعی نوعیت کی کثیر القومی فوجی مشن" کی تیاری بھی کریں گے، جو صرف اس وقت تعینات کیا جائے گا جب جنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

اس مجوزہ مشن کا مقصد بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا، بارودی سرنگوں کی صفائی میں مدد، عالمی تجارت کو یقین دہانی فراہم کرنا شامل ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق اس مشن کے لیے ضروری ہوگا کہ ایران بحری جہازوں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائے، امریکا آبنائے میں داخل ہونے یا نکلنے والے جہازوں کو نہ روکے۔

یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یورپ، امریکا سے ہٹ کر ایک متبادل سفارتی اور سیکیورٹی کردار دکھانا چاہتا ہے۔

اجلاس میں جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز اور اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی ذاتی طور پر شریک ہوئے، جبکہ دیگر یورپی، ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے بھی شرکت کی۔

برطانوی حکومت کے مطابق فوجی قیادت آئندہ ہفتے مزید منصوبہ بندی کے لیے لندن کے قریب نارتھ ووڈ ہیڈکوارٹر میں ملاقات کرے گی۔

مجموعی طور پر یورپی ممالک ایک ایسے تیسرے راستے کی تلاش میں ہیں جو نہ مکمل جنگ ہو اور نہ ہی صرف دباؤ کی پالیسی، بلکہ ایک متوازن حکمتِ عملی کے ذریعے خطے میں استحکام اور عالمی تجارت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید