جنگوں کے ذریعے علاقوں پر قبضہ اب ایک فرسودہ حکمت عملی ثابت ہوئی ہے۔ اسکے برعکس ’’ناپسندیدہ‘‘ دورِ حکومت (Regime) کی تبدیلی امریکی جمہوریت کی مرغوب پالیسی ہے جس میں بڑی کامیابی ہے۔ نئی حکومتوں کے خیموں میں اسلحہ اور تیل کی کمپنیاں خاموشی سے داخل ہو کر نئے تجارتی فوائد حاصل کر لیتی ہیں، پیٹرو ڈالر حاصل کرتی ہیں اور مہنگے اسلحہ کی دُکانیں سجا لیتی ہیں۔ یوں بڑے ممالک بالخصوص امریکی معیشت کمزور ملکوں کے وسائل کے بل بوتے پر اب تک مضبوط اور توانا رہیں۔ لیکن خوش آئند ہے کہ دنیا کی محکوم اقوام اور مظلوم عوام بیدار ہو رہے ہیں۔ وہ عنقریب ماحول کش اور استحصالی قوتوں کے شکنجہ تجارت سے آزاد ہو کر ہوا، پانی، بجلی جیسے ارزاں وسائل توانائی کو اپنا شعار بنا لیں گے، پھر عالمی طاقتوں اور ان کے علاقائی حواریوں کی مسلط کردہ جنگیں ان کی آزادیوں کو سلب نہیں کر سکیں گی۔ ان کی تیل کمپنیاں محنت کی کمائیوں کو نگل نہ سکیں گی۔ اگرچہ پیٹرو ممالک نے تیل کے وسائل پیداوار سے بڑی کمائیاں حاصل کر لی ہیں لیکن زیادہ تر آمدنی پیٹرو ڈالر ری سائیکلنگ کی زد میں ہے۔ ان کی حالت بھی آخری مغل بادشاہوں جیسی ہے کہ جن کے روزمرہ اخراجات سرکارِ انگلشیہ کی منظوری کے تابع ہوتے تھے اور ان کی حکومتوں کی ساری کمائیاں ایسٹ انڈیا کمپنی سمیٹ لیتی تھی۔ تیل اور اسلحہ کے باہمی اتحاد کے ذریعے جنگوں اور معیشتوں کی کامیابی اقوامِ مغرب بالخصوص ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا مرغوب حربہ رہا ہے۔ 1861-1865ء کی امریکی خانہ جنگی میں صدر ابراہیم لنکن کی جنوبی ریاستوں پر برتری کی واحد وجہ شمالی کانوں میں کوئلہ کی دریافت اور استعمال ثابت ہوا۔ چنانچہ اسٹیل، کوئلہ کی پیداوار اور اسٹیم انجن وغیرہ کی مدد سے جنگی نقل و حمل آسان ہو گئی اور یوں صدر ابراہم لنکن کو فتح نصیب ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم میں کوئلہ کی جگہ آئل کے زمینی تیل کے استعمال نے دشمن پر ہیبت طاری کر دی۔ چنانچہ برطانوی اور امریکی افواج نے تیل سے چلنے والے ہوائی جہاز، ٹینک اور Flame Throwers کے استعمال سے غلبہ حاصل کر لیا۔ پیٹرول آئل اور ایندھن کی تباہ کاریاں جنگی منصوبہ بازوں کے لئے حیرت ناک تھیں۔ تیل کی ان ہولناکیوں اور جنگی فوائد کو دیکھ کر جنرل جارج کلیمینس نے دسمبر 1917ء کے دوران امریکی صدر ولسن کو ٹیلی گرام ارسال کی جس میں لکھا کہ ’’آنے والی جنگوں میں گیسولین بھی انسانوں کے لہو کی طرح قیمتی ہو گا‘‘۔ جنرل کے یہ الفاظ آج بھی اس حقیقت کے پرچارک ہیں۔ جب بھی جنگیں ہوتی ہیں، گیسولین کی قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں اور معیشتوں کو ہلا دیتی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم (1939-45ء) کے دوران گیسولین کی اہمیت مزید دوچند ہو گئی۔ صدر روز ویلٹ نے جاپان کو تیل کی برآمد بند کر دی تو جاپانیوں نے اشتعال میں آ کر پرل ہاربر پر موجود نیوی کے اڈوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کہ جو تیل کمپنیوں کی شہ پر عراق نے کویت پر قبضہ کرنے کیلئے شروع کی، ناکامی کی صورت میں امریکہ نے دوسری تجویز پر عمل کر لیا۔ چنانچہ بعدازاں عراق پر امریکی قبضہ ہو گیا اور یوں امریکی تیل کمپنیوں نے نہ صرف عراقی کنوؤں کی جاری پیداوار پر قبضہ کر لیا، بلکہ نئے کنوئیں اور ذخائر سے کثیر مقدار میں تیل برآمد کر کے امریکی معیشت کو سنبھالا دیئے ہوئے ہیں۔ انگولا کی سول وار بھی تیل کی معیشت پر قبضہ کرنے کے لئے شروع کی گئی۔ حال ہی میں وینزویلا کی حکومت پر امریکی انتظامیہ کا قبضہ بقول صدر ٹرمپ امریکی تیل تجارت کے مفادات کیلئے ہے۔ جنگی مشینوں کے ذریعے تیل کی تجارت پر کامیاب قبضہ اور اس مہارت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ امریکہ نے حال ہی میں ایران کو بھی ترنوالہ سمجھ لیا۔ لیکن بعدازاں ایرانی افواج کی شاندار مزاحمت اور امریکی، اتحادی اہداف پر حملوں نے فریقین کو صلح پر مجبور کر دیا ۔ اب امریکہ اپنی رائے عامہ کی مخالفت، مغربی اتحادیوں کے انکار اور جنگی سبکیوں کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو رہا ہے اور اپنے جنگی فیصلوں پر نظرثانی کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام کے لئے یہ جنگ معاشی مصائب لے کر آئی ہے، لیکن اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ پاکستان دونوں متحارب فریقین یعنی امریکہ پاکستان کے لئے قابل قبول ٹھہرا اور جنگ بندی کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ یہ تو معاہدۂ جنگ بندی کی تفصیلات سے معلوم ہو گا کہ یہ جنگ فلسطینی تنازع کی وجہ سے تھی یا تیل کمپنیوں کی حرص کا اگلا شکار کہ جسکے بعد ایران کو ترنوالہ سمجھ کر نگل لیا جاتا۔ اگرچہ ایرانی مزاحمت اور جنگ کے ناقابل یقین نتائج نے تیل کمپنیوں کے دیرپا کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اس چالیس روزہ جنگ نے بھی تیل کمپنیوں کو اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے کافی کاروباری فوائد دئیےہیں۔ خدشہ ہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ اور نرخوں کو غیریقینی بنانے کے لئے جنگ بندی پر اکتفا کیا جائے گا، حتمی معاہدہ کو لٹکایا جائے گا تاکہ اس دوران تیل کے اسٹاک / سٹوریج کی مد سے کمپنیوں کو مالی فوائد پہنچائے جائیں۔ اس وقت عالمی طور پر عوامی شعور Renewable توانائی کی طرف بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اب عالمی تجارتی اداروں میں سورج، پانی اور ہوا کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کے آلات کی تجارت اور متعلقہ انفراسٹرکچر کا قیام پہلی ترجیح بن رہا ہے جس میں چین کو اس وقت عالمی سبقت حاصل ہے، کیوں کہ موجودہ حالات کی سنگینی کا ادراک چین کو کئی دہائیوں پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اُمید ہے 2030ء سے پہلے ہی قابل تجدید توانائیوں کی مارکیٹ میں حصہ لینے کی دوڑ میں عالمی سوداگر تیل کی تجارت کو بھول جائیں گے۔ جنگوں کی اہم وجہ ختم ہو جائے گی، یوں عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں گے۔