واشنگٹن (ایجنسیاں ) ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بڑی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔معیشت۔ سات ہفتوں سے جاری اس تنازع نے نہ صرف عالمی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ امریکہ کے اندر بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور سیاسی دباؤ نے ٹرمپ کو سفارتی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے ٓآبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کے ذریعے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل ترسیل کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی بحران پیدا ہوا۔ اگرچہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے، لیکن اس بحران نے واضح کر دیا کہ امریکہ اقتصادی دباؤ کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر سکتا۔امریکی معیشت پر اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور عالمی کساد بازاری کے خدشات نے وائٹ ہاؤس کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ توانائی بحران عالمی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتا ہے۔سیاسی سطح پر بھی ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ریپبلکن پارٹی پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ خود ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔