(گزشتہ سے پیوستہ)
گزشتہ ہفتے ہم ریسٹورینٹس اور ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ اس وقت عملاً پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بہت بڑھ رہی ہے بعض شہروں میں بیس بیس گھنٹے کی بھی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ان حالات میں ریسٹورینٹس والے کس طرح اپنے اخراجات پورے کر سکتے ہیں۔ دوسرا سوموار سے جمعرات تک ریسٹورینٹس میں رش نہیں ہوتا عملاً صرف جمعہ ہفتہ اتوار یعنی تین روز کاروبار ہوتا ہے۔ اب اس پر سونے پر سہاگہ کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ لوگ کیا کاروبار کریں؟ گیس کے مہنگے سلنڈر لینے پڑتے ہیں بجلی کے لیے جنریٹرز کو چلانا پڑتا ہے اس کے لیے ڈیزل خریدنا پڑتا ہے اور پھرحکومت نے کہہ دیا ہے کہ 10 بجے ریسٹورنٹس بند کر دو۔ دوسری طرف ڈی ایچ اے نے رایا میں قائم ریسٹورینٹس اور اس علاقے میں آنے کیلئے کچھ ایسے ضابطے بنا ڈالے ہیں کہ لوگوں کا 50 فیصد کاروبار ختم ہو گیا ہے کئی ریسٹورنٹس بند ہو گئے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف خود بھی ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ بخوبی سمجھتی ہیں کہ کاروباری لوگ اپنے کاروبار کو چلانے کے لیے کس قدر محنت کرتے ہیں۔ پنجاب میں جہاں حکومت کئی ترقیاتی کام کر رہی ہے وہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ریسٹورینٹس انڈسٹری کے لیے سہولیات پیدا کرے اور ریسٹورینٹس کے اوقات کم از کم 11 بجے رات اور ایک ویک اینڈ پہ رات 12 بجے تک کر دے تو اس سے یقیناََ ریسٹورینٹس انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کے کاروبار میں اضافہ ہوگا اورحکومت کو ٹیکس بھی زیادہ آئے گا ۔حکومت کا یہ کہنا کہ توانائی کا بحران ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کرنا بہت ضروری ہے تو دوسری طرف پورے ملک میں دن رات بڑے بڑے بورڈز پر ایس ایم ٹی پر اشتہارات چلتے رہتے ہیں ۔لاہور کی کوئی سوسائٹی ایسی نہیں جسکی بجلی کے پول ،کھمبو ںپر چھوٹی چھوٹی ایس ایم ڈیز نہ لگی ہو ں کیا ان کے لیے بجلی مفت ہے؟ کیا یہ بجلی کا ضیاع نہیں؟آپ مارکٹیں اور ریسٹورینٹس تو رات8 اور 10 بجے بند کر رہے ہیں جو ملک میں ٹیکس دینے والا بہت بڑا طبقہ ہے ۔ہماری حکومت سے عرض ہے کہ ملک میں کاروباری طبقے کو سہولیات دیں تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے ۔پاکستان میں 64 فیصد یوتھ ہے ظاہر ہے تمام نوجوانوں کو حکومت نوکریاں فراہم نہیں کر سکتی اور پھر ضروری نہیں کہ تمام نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔آج بھی کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔یہ بات آن ریکارڈ ہےکہ کاروباری طبقے نے حکومت کا ملازمتوں کے حوالے سے عوامی دباؤ کا بہت بڑا حصہ خود اٹھا رکھا ہے۔ کاروبار کرنے والے لوگ اگر کمائیں گے تو تب ہی وہ نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ حکومت جن افراد کو کاروبار کرنے کیلئے قرضےدے رہی ہے وہ قرضے اس صورت میں ہی واپس کرنے کے قابل ہوں گے جب ان کا کاروبار وسیع ہوگا ۔بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور کاروباری اوقات میں کمی نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مانا کہ ملک میں کئی طرح کے بحران ہیں مگر ان بحرانوں کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ ایک کمیٹی بنائے جو لاہور چیمبر آف کامرس اور دیگر شہروں کے چیمبرز کے ساتھ میٹنگ کر کےریسٹورینٹس انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کے مسائل کو حل کرے ۔دوسری جانب پیرا فورس چھوٹے چھوٹے دکانداروں اور کاروباری لوگوں کو علیحدہ پریشان کرتی رہتی ہے پیرا فورس کے سربراہ کو چاہیے کہ وہ اپنی فورس کے افسروں اور خصوصاََ نچلے عملے کو تربیت دیں کہ وہ لوگوں کا کسی خلاف ورزی پر چالان کریں۔ مار پیٹ اور ان کے سامان کو پھینک دینا بڑی غیر مناسب بات ہے اور لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کی بجائے وہ بھی لوگوں کی تربیت کریں۔ دوسرے پورے دنیا میں یہ طریقہ کار ہوتا ہےکہ آپ پہلے کسی کو ایک یا دو مرتبہ وارننگ دیتے ہیں اور تحریری نوٹس دیتے ہیں جس میں یہ طے ہوتا ہے کہ فلاں وقت تک اگرآپ نے ان خرابیوں کو دور نہ کیا تو پھر ایکشن ہوگا مگر یہاں تو آئے دن پیرا فورس اور ان لوگوں کے درمیان جھگڑے ہوتے نظر آتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیاہے کہ جعلی دودھ بنانے والوں نے فوڈ اتھارٹی کی خواتین عملےکو بھی مارا یہ بھی بالکل غلط ہوا۔ فوڈ اتھارٹی والے عوام کی صحت کے لیے بہت اچھا کام کر رہے ہیں خصوصاََ ان کی سربراہ سلمیٰ بٹ تو بہت متحرک ہیں۔جس طرح حکومت نے بسنت منانے کے لیے بڑی ٹھوس منصوبہ بندی کی اور اس پر کئی میٹنگیں کیں اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے پی ایس او مسٹر وقار احمد نے اس حوالے سے کئی قوانین مرتب کرنے کے لیے بے شمار میٹنگیں کیں اسی طرح ضرورت اس امر کی ہے کہ کاروباری طبقے کے لیے اسی ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت ریسٹورینٹس اور ہوٹلوں کے مالکان کو بلائیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر طریقہ کار وضع کریں۔ قومی مسائل اور معاملات پر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی، میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی ،جنگ گروپ کے ساتھ پچھلے 25 برس سے سیمینارز اور کانفرنس منعقد کرا رہی ہے اس حوالے سے اس کے چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان لائق تحسین ہیں کہ وہ ہر قومی اور ملکی مسئلے اور بین الاقوامی معاملات پر ملک کے نامور دانشوروں کے ساتھ کانفرنسیں کراتے ہیں اس وقت ملک میں اور بین الاقوامی سطح پر جو حالات چل رہے ہیں اس میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید محمدعاصم منیر جس طرح بین الاقوامی سطح پر ملک اور قوم کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ قابل تعریف و تحسین ہے۔ ماضی کے مقابلے میں اس وقت پاکستان کی فوج جس بھرپور انداز میں وطن کا دفاع ،اندرونی طور پر دہشت گردوں کے خلاف اور بیرونی محاذ پر جس طرح کام کر رہی ہے وہ لائق ستائش ہے۔ اب تو فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سفارتی محاذ پر جو کام کیا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فوج کی تربیت صرف ملکی محاذوں تک کام نہیں دیتی بلکہ سفارتی محاذوں پر بھی فوج اپنے افسروں کی بہترین تربیت کرتی ہے حالیہ مذاکرات میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک شاندار باب ہے۔ (جاری ہے)