یہ حقیقت جھٹلانا ممکن نہیںکہ یک قطبی عالمی نظام کے بعد دنیا کا امن وامان پہلے سے زیادہ مخدوش ہوگیا۔ غرض حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ نے مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کا منظر نامہ تبدیل کردیا تھا۔ بظاہر یہ جنگ چند دنوں میں مؤثر نتائج حاصل کرنے کی اسٹرٹیجی کے تحت شروع کی گئی تھی مگر ایران کی طرف سے حیران کن مزاحمت کے بعد اس کا دورانیہ بڑھ کر ایک مہینے سے اوپر چلا گیا اور جو سوچا گیا تھا وہ بعینہ نہ ہوسکا۔ اسی دوران آگ کے شعلے عرب ممالک کی طرف بڑھنےلگے جہاں پر قائم مختلف امریکی دفاعی اڈے اس جنگ میں استعمال ہو رہے تھے ۔یہ صورتحال بہت گھمبیر تھی اور اس کو تیسری عالم گیر جنگ کی طرف ایک ممکنہ پیش رفت سمجھا جارہا تھا کیونکہ امریکہ کی جانب سے مکمل تہذیب کی تباہی کی دھمکیاں سامنے آرہی تھیں۔ شاید اس سطح کے وحشیانہ اقدام کیلئے امریکہ یا اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار یا اسی نوعیت کے Mass Destructive ہتھیار استعمال کرنا پڑ سکتا تھا جو کہ جدید تاریخ کا ایک اور بڑا المیہ ہوتا۔ امریکہ کی اس امپیریلزم پالیسی کو سمجھنےکیلئے ممتاز تاریخ دان ول ڈیورانٹ اور عصر حاضر کے اہم سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر نوم چومسکی کی عمدہ کتابوں سے بخوبی مدد مل سکتی ہے۔ول ڈیورانٹ نے چالیس سال کی محنت شاقہ کے بعد دس جلدوں میں دنیا کی مستند ترین تاریخ مرتب کی ہے جو Story of Civilization کے نام سے مقبول عام ہے۔ پاکستان میں اس کا اردو ترجمہ ممتاز مترجم اور رائٹر یاسر جواد نے’ تہذیب کی کہانی‘ کے نام سے کیا ہےلیکن یہاں پر ذکر ان کی کتاب ’ہندوستان کا مقدمہ‘ ہے جس میں ول ڈیورانٹ نے 1929 میں اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران برطانوی سامراج کی تباہ کاریوں کا تجزیاتی جائزہ لیا ہے۔ اس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آغاز سے لیکر نوآبادیاتی عہدکے تمام استحصال کی تفصیل ہے جو تاج برطانیہ نے شعوری طور پر کیا اور کس طرح برصغیر کی قدیمی تہذیب کا ٹھٹھہ اڑایا۔ول ڈیورانٹ نے جو دیکھا وہ یوں بیان کیاکہ برطانیہ کی ہندوستان پر یلغار دراصل ایک بلند تہذیب کی بربادی تھی۔ ایسی کمپنی کے ہاتھوں جسکے پاس نہ اصول تھے نہ ضمیر، نہ فن کا پاس تھا نہ انسانیت کا جو صرف زر و سود کی بھوکی تھی۔برطانیہ کے نوآبادیاتی نظام کے بعد اب دنیا کو امریکی امپیریلزم کا سامنا ہے۔ اب آئیں ہمارے عہد کے مشہور سیاسی مورخ و ماہر لسانیات ڈاکٹر نوم چومسکی کی طرف کہ جس نے دور جدید کی امپیریلزم کے سرخیل امریکہ کی ریشہ دوانیوں کا پوسٹ مارٹم کیا ہے نیز دنیا کے بااثر میڈیا کو اپنے من پسند پروپیگنڈا کیلئے استعمال کرنے کا پردہ بھی چاک کیا ہے۔ انہوں نے ’ورلڈ آرڈر کی حقیقت‘ میں امریکہ کی استحصالی پالیسی اور دنیا کے وسائل پر مختلف حیلہ بازیوں سے قابض ہونے کی داستان خوب بیان کی ہے۔ ڈاکٹر نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ کئی برس تک امریکہ کی ہر جارحانہ اور مجرمانہ کارروائی کا جواز سرد جنگ تھی ۔ معروضی حقائق کا تجزیہ کرنے کے بعد سرد جنگ محض ایک احمقانہ جواز نظر آتی تھی۔ برطانیہ کی نوآبادیاتی مہم ہو یا امریکہ کا جدید امپیریلزم دونوں میں یہ جزو مشترکہ رہا ہے کہ تیسری دنیا یا جہاں جہاں انہوں نے اپنی استعماریت قائم کی تھی یا اب بھی کوشش کی ہے وہاں کی تہذیب وتمدن کا تمسخر ان کا وطیرہ رہا ہے۔ امریکا کے صدر کی طرف سے حالیہ یہ دھمکی کہ میں ایک تہذیب کا خاتمہ کروں گا، اسی سامراجی ذہنیت کا تسلسل ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سیاسی معاملات بنتے بگڑتے رہتے ہیں مفاداتی جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اور حقائق مسخ بھی ہوتے ہیں۔ تاہم یہ مائنڈ سیٹ کہ ایک تہذیب کو مٹا کر دم لیا جائیگا، ایک متکبرانہ اور مکروہ طرزِ عمل کا کھلا اظہار ہے۔ ان حالات میں مشرق وسطیٰ میں جو جنگ چھڑ گئی ہے اس میں پاکستان ایک نہایت مثبت عالمی مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے جو مفاہمت کا ڈول ڈالا ہے اس کیلئے چین، سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور روس کی پس پردہ تائید و حمایت حاصل ہے جبکہ ایران نے کھل کر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے بھی پاکستان کی کوششوں کی توثیق کہ ہے اور اسلام آباد اب پوری دنیا کا مرکز نگاہ بن گیا ہے جہاں پہلی بار ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطح کے عہدہ داران شریکِ گفتگو ہوئے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے ۔ اپنے لئے تزویراتی اہمیت کے باوجود امریکا نے پاکستان کیساتھ جو رویہ رکھا ہے وہ تناقضات کے مظہر(Paradoxical behaviour) کی عمدہ مثال ہے۔ پاکستان ہمیشہ امریکا کے بلاک میں رہا ہے۔ مزید برآں افغان روس جنگ اور طالبان کی بیخ کنی کیلئے پاکستان نے امریکا کو ہمیشہ اپنا کندھا فراہم کیا جسکے نتائج بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں ان سب کے باوجود امریکا کی بے رُخی اور بے اعتنائی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ امریکا پاکستان تعلقات کی نوعیت اور امریکی خود غرضانہ مفاداتی تعلق کو امریکہ کےبروس رائڈل جو یو ایس سیکورٹی ، ساؤتھ ایشیا اور ٹیررازم امور کے مشہور تجزیہ نگار اور صدر اوباما کے ایڈوائزر رہے ہیں نے اپنی کتاب Deadly embrace میں دیدہ دلیری سے بیان کیا ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود ایران امریکہ جنگ کو روکنے کیلئے پاکستان کا کردار کچھ کم اہمیت کا حامل نہیں۔ انقلاب ایران کے بعد یہ پہلی دفعہ کی اعلیٰ سطح بیٹھک ہے جو دو سخت گیر دشمن ملکوں کے درمیان ہو رہی ہے جس کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔ سفارتی سطح پر نتائج کیا نکلتے ہیں یہ الگ بحث ہے۔ ایک آدھ ملاقات اتنے طویل قضیے کو یکدم حل کرنے میں کامیاب نہ بھی ہوں تو یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے کہ ایک میز کے ارد گرد ان دو فریقین کو بٹھا دیا جو ایک دوسرے کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔