• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی ملک کی صنعتی پالیسی اس ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ صنعتی ترقی سے نہ صرف نئی ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں بلکہ ایکسپورٹس سے ملک کو زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ میں نے حال ہی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (NIM) نیپا کراچی میں گریڈ 20میں ترقی پانے والے 39 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے افسران کو پاکستان میں صنعتی ترقی کے بارے میں ایک پریذنٹیشن دی جو آج میں اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ 1947میں قیام پاکستان کے وقت برصغیر پاک و ہند میں قائم 921 صنعتی یونٹوں میں سے پاکستان کو صرف 34 صنعتیں ملی تھیں جن میں ٹیکسٹائل، سگریٹ، چینی، چاول، آٹا اور جننگ کی صنعتیں شامل تھیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اکتوبر 1947 میں سائٹ کراچی میں پاکستان کی پہلی صنعت ’’ولیکا ٹیکسٹائل مل‘‘ کا افتتاح کیا۔ 1958 سے 1968 تک جنرل ایوب خان کے دور میں پاکستان نے دوسرے 5 سالہ منصوبے 1960-65 میں متاثر کن صنعتی ترقی کی جس کا سہرا PIDC اور DFIs کو جاتا ہے جس میں PICCIC، NDFC، IDBP اور بینکرز ایکویٹی قابل ذکر ہیں۔ یہ ادارے صنعتی منصوبوں میں طویل المیعاد فنانسنگ کرتے تھے جبکہ PIDC کے تحت فرٹیلائزر، سیمنٹ، شپ یارڈ، ٹیکسٹائل اور شوگر ملز کے شعبوں میں دائود، سہگل، آدم جی اور باوانی جیسے بڑے گروپس نے 60 سے زائد بڑی صنعتیں قائم کیں۔ یہ پاکستان کی صنعتی ترقی کا سنہرا دور تھا لیکن 1972-74 کے دوران زیادہ تر صنعتیں نیشنلائزیشن کے عمل میں نجی شعبے سے لے کر حکومتی تحویل میں لے لی گئیں جس نے ملک میں صنعتی عمل کو شدید متاثر کیا۔ اس دوران پاکستان میں پاک چائنا، پاک عمان، پاک لیبیا، پاک کویت اور پاک برونائی جیسے DFIs کا قیام عمل میں آیا لیکن صنعتی پروجیکٹس کی فنانسنگ میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا جبکہ سیاسی مداخلت اور میرٹ کے خلاف فنانسنگ کی وجہ سے PICCIC، NDFC، IDBP اور بینکرز ایکویٹی بند ہوتے گئے جس سے ملک میں نئی صنعتوں کیلئے طویل المیعاد پروجیکٹ فنانسنگ کے دروازے بھی بند ہوگئے۔ اس وقت پاکستان کی جی ڈی پی میں صنعتی سیکٹر کا حصہ 20 فیصد ہے جسے بڑھاکر 25 فیصد کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے زرعی اور صنعتی پاکستان کا خواب دیکھا تھا لیکن ہم ایک ٹریڈنگ اسٹیٹ بنتے جارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI) نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو FPCCI اسلام آباد آفس میں نئی صنعتی پالیسی 2025-30 پر مشاورت کیلئے مدعو کیا۔ مجھے بھی اس نئی صنعتی پالیسی بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر پر تجاویز کیلئے شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کے بلند ٹیرف، بینکوں کی بلند شرح سود، پیداواری لاگت میں اضافہ، پالیسیوں کے عدم تسلسل، ٹیکسوں کی بھرمار، سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر، صنعتی خام مال کی امپورٹ LCs میں مشکلات، کاٹن کی پیداوار میں مسلسل کمی اور غیر یقینی کاروباری ماحول نے بے شمار صنعتوں کو بندش تک پہنچا دیا ہے اور ایکسپورٹرز کی عالمی مارکیٹ میں مقابلاتی سکت میں کمی آئی ہے جس سے پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ چین، ویت نام، بنگلہ دیش اور بھارت میں بجلی گیس کے نرخ اور بینکوں کے کم شرح سود کے باعث پیداواری لاگت ہم سے کم ہے۔ SMEs سیکٹر جسے ملکی صنعت اور معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے، فروغ نہیں پاسکا اور ملکی جی ڈی پی میں اس کا حصہ 40 فیصد تک محدود ہے اور یہ سیکٹر ملک میں 80 فیصد ملازمتیں فراہم کررہا ہے جبکہ چین، بھارت اور ملائیشیا میں SMEs کا جی ڈی پی میں حصہ 85 سے 90 فیصد ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر جن سے ہمارے قریبی تعلقات ہیں، وہ بزنس کمیونٹی کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے SMEs کے فروغ کیلئے SMEDA کو فعال کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ نئی 5 سالہ صنعتی پالیسی 2025-30 کا اس سال بجٹ کے بعد اعلان کیا جائے گا جس میں بزنس کمیونٹی کے تمام تحفظات کو شامل کیا گیا ہے۔

نئی صنعتی پالیسی میں کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم کرکے 26 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس میں 5 فیصد کمی اور مرحلہ وار سپر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ صنعتوں پر سپر ٹیکس کی تھریش ہولڈ 20کروڑ روپے سے بڑھاکر 50کروڑ روپے، 10فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کیلئے تھریش ہولڈ 50کروڑ روپے سے بڑھاکر 1.5ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ پالیسی میں نئی صنعتیں لگانے اور بیمار صنعتوں کی بحالی کیلئے مراعات اور سہولیات دینے اور SMEs پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔ میں نے ہارون اختر صاحب سے مڈل ایسٹ کی موجودہ صورتحال جس سے پاکستان کی معیشت کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، کے ساتھ ان مواقعوں کا بھی ذکر کیا جو پاکستان میں خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث سرمایہ کاری لاسکتے ہیں جس کیلئے حکومت کو بیرون ملک سے پیسے لانے کے قوانین میں کچھ ترامیم کرنا ہوں گی تاکہ وہ پاکستانی سرمایہ کار جو امن و امان اور دیگر وجوہات کے باعث اپنی سرمایہ کاری بیرون ملک لے گئے تھے، اپنے ملک واپس لاسکیں۔میں نے اپنی تقریر میں مختلف چیمبرز کے صدور اور بزنس مینوں کو بتایا کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں انکی سرمایہ کاری سب سے زیادہ محفوظ ہے۔ ہارون اختر نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانیوں نے گزشتہ دو ایمنسٹی اسکیموں میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اپنے انکم ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کی تھی لیکن یہ پیسے پاکستان نہیں لائے گئے جس کیلئے حکومت کو آنے والے بجٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے پالیسی میں انہیں پرکشش ترغیبات اور مراعات دینا ہوں گی۔

تازہ ترین