کوئی پسند کرے یا نہ کرے، امریکی صدر ٹرمپ کے اعلانات صرف اسٹاک ایکسچینج یا رائے عامہ کے جائزوں کو متاثر نہیں کرتے بہت سے عاشقوں کے دل ہلا دیتے ہیں وہ جب کسی خوبصورت خاتون صحافی سے سرگوشی کرتے ہیں کہ ابھی اسلام آباد میں ٹھہرو، ممکن ہے منگل کو ایرانی (تہذیب) اور امریکی طاقت کے بیچ وہ سمجھوتہ ہو جائے جس کا ڈرافٹ تیار ہے مگر اس پر دستخطوں کا انتظار دنیا بھر کے بچوں، بڑوں، کھلاڑیوں، اداکاروں اور ماؤں کو ہے حتیٰ کہ دعائیں کرنے اور بد دعائیں کرنے والوں کو بھی۔ سینتالیس برس میں امریکہ کو ایسا صدر نہیں ملا جوبہت بولتا ہے اپنے تعصبات چھپاتا نہیں وہ دھمکا کے امید بھی پیدا کر دیتا ہے، ایک نئے ورلڈ آرڈر کا تصور اس کا من چاہا ہے تاہم پرسوں یہ بھی کہا ہے کہ ایک ذہانت سے بھرا شخص وائٹ ہاؤس میں آرہا ہے جس کے بعد منگل تک صورتِ حال میں تبدیلی آ جائے گی۔اس بیان کے بعد سبھی دور بینوں اور خورد بینوں سے ہی نہیں مبصروں اور زائچہ نویسوں سے پوچھتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں کون آ رہا ہے؟
ظاہر ہے کہ ٹرمپ اپنے جانشیں کی طرف اشارہ نہیں کر رہے وہ سینٹ کام کے اپنے کسی کمانڈر یا وزیر ِ جنگ کا ذکر کر رہے ہوں گے،بے شک پاکستان میں ذہانت کی کمی نہیں مگر جب تک پاکستان سے دو نام اکٹھے نہ لئے جائیں، وزیرِاعظم کے ساتھ میرِ سپاہ کا بھی تو ہمیں یہ خوش خیالی نہیں ہو سکتی کہ یہ ہماری طرف اشارہ ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ایرانی صدر پزشکیان ہارٹ اسپیشلسٹ ہیں وہ صدر ٹرمپ کی بھی ایک دُکھتی رگ پکڑے ہوئے ہیں کہ ایران، منطق کے ساتھ کی گئی ہر بات سننے کے لئے تیار ہے اور دوسرے وہ میناب اسکول میں شہید ہونیوالی بچیوں کے والدین بالخصوص ان کی ماؤں سے معافی مانگیں۔ کسی قسم کا خون بہا شاید والد کو تو دلاسہ دے سکتا ہے مگر ماں کیلئے تواس اسکول کے ڈیسک، بکھرے بستے اور جھلسی وردیاں کلیجے میں بیٹھ گئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کو بریفنگ میں یہ بتایا جاتا ہوگا کہ ایرانی مزاحمت کو سمجھنا ہو تو شاہنامہ فردوسی کے کچھ قصوں کو سمجھنا ہوگا ایک تو وہی رستم و سہراب اور تہمینہ کا،دوسرے عربوں کی بدویت کے ساتھ ایک ایرانی شہنشاہ ضحاک کے دونوں کندھوں سے دو اژدھے پیدا ہو گئے جن کی خوراک انسانی مغْز یا بھیجا ہے جو انہیں نہ ملیں تو وہ شہنشاہ کو ہی ڈسنا شروع کر دیتے ہیں، سو تمام مملکت کی رعایا،امیر وزیر،عساکر ہی نہیں عالی مرتبت جج ،قلم کار،وکیل اورپرچہ نویس یا مورخ یا جاسوس اپنا فرض خیال کرتے ہیں کہ ہر صبح دو تازہ بھیجے ضحاک کو بھیجے جائیں عام طور پر یہ بھیجے بچوں کے ہوتے تھے مگر ہر ایک کو ڈر تھا کہ اگر اس کا کوئی اُپائے نہ کیا گیا تو ان کے بچوں کی باری بھی آسکتی ہے اس پرفردوسی نے ایک لوہار فریدوں کا کردار تخلیق کیا اوربادشاہ کے ظلم سے اکتائی ہوئی نوشابہ کا۔بھارت میں ایک ڈاکٹر محمد حسن تھے جو ایک جریدہ’تیسری دنیا‘ نکالتے تھے ،انہیں ڈراموں سے بھی شغف تھا گوان کی وفات کوسولہ برس گزر گئے مگر اردو کی رومانوی تحریک کی بات ہو یا ضحاک کی تو ان کا ذکر ناگزیر ہے،اجازت دیجئے کہ تین اقتباسات ان کے ڈرامے ضحاک سے پیش کر دئیے جائیں:
الف: کیا نیا سماج(ورلڈ آرڈر) نئی تعلیم کے بغیر بن سکتا ہے؟ اگر تلواراس دنیا میں سب کچھ کر سکتی تو ہمیں استاد،شاعر اور رقاصہ کی کیا ضرورت تھی؟ ہمیں ضرورت ہے کہ نوجوان خوشی خوشی جان دے سکیں اور اسے ہی زندگی سمجھیں،تاکہ ان کے بھیجے شہنشاہ کے شانوں کے سانپ مزے لے لے کر کھا سکیں،ہماری درس گاہیں،ایسی تعلیم سے گونجیں،ہماری تجربہ گاہوں میں ایسے تجربے ہوں،ہمارے میڈیکل کالج اس ہنر میں مہارت پیدا کریں،آپ ہماری ساری درس گاہوں کے نائب سربراہ ہیں،لیکن یہ نہ بھولئے کہ ان سب کےسربراہ ہونے کا شرف شہنشاہ کو حاصل ہے ۔
ب۔ضحاک :ہم نے جمشید کے مُلک کو فتح کیا اور اسے زندہ آروں سے چِروا دیا،ہم نے اپنے مخالفوں کے منہ بند کروا دئیے کہ مُلک نظم و نسق کے بغیر نہیں چل سکتا،قلم کاروں کے ہاتھ کاٹ دئیے کہ مادرِ وطن کو ان کی ضرورت تھی،مُلک کو ایک سرکاری زبان دینے کی خاطر ہم نے دوسری زبانیں بولنے والوں کی زبانیں کھنچوا لیں،کافر اور مُلحد قبیلوں میں قتل ،فرقہ وارانہ فساد کرانا پڑا،کم کام کرنے اور زیادہ اجرت مانگنے والے مزدوروں اور کسانوں کو گورخر کی کھال میں زندہ سِلوا دیا کہ دوسروں کو عبرت ہو،پیداوار کی کمی کو پورا کرنے کے لئے آبادی کو کم کرنے کے لئے مردوں کو آختہ کرایا اور عورتوں کے رحم نکلوا کر پھنکوا دئیے۔
نوشابہ: مُلک کے سبھی پرچہ نویس کہتے ہیں کہ مُلک آپ کا شیدائی ہے ،رائے عامہ کے رہنماؤں کی تقریریں،ہمارے سفارت خانوں کی رپورٹیں،سب آپ کے گیت گاتی ہیں۔
ضحاک: ترا جسم کانپ رہا ہے،تیری آواز لرز رہی ہے،دنیا کے سب سے بڑے سب سے زیادہ طاقت ور شہنشاہ کی ملکہ خائف ہے؟ تیرے ہونٹ سچ کے لئے نہیں ،تو ہم سے خوف کھاتی ہے،ہمیں پیار نہیں دے سکتی۔
ج)نوشابہ:(فریدوں سے) جب تک کسان کی اغوا کی ہوئی بیٹی فاطمہ میرے اندر جاگتی رہی،میں انکار کرتی رہی پھر ایک دن میں نے ملکہ کا تاج پہنا اور اس کسان بچی کی لاش کو گِدھوں نے نوچ نوچ کے کھا لیا… فریدوں ! تمہارے ہاتھوں کی کمائی دولت سے ہم نے تمہارے خلاف پوری دنیا خرید لی ہے،سائنس ہماری غلام ہے، عقیدہ ہمارا دلال، علم و دانش پر ہماری ٹھیکہ داری ہے، فوجیں، ہتھیار، فتوحات کے وسیلے، انصاف، قانون سب ہمارے زر خرید ہیں ،تم نہتے ہاتھوں سے کب تک ان زبردست قوتوں کا مقابلہ کرو گے، آخر ایک دن ان طاقتوں سے پِس کے رہ جاؤ گے ،یا پھر نوشابہ کی طرح بِک جاؤ گے؟
میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں خوبصورت اور ذہین نیٹلی اے بیکر کے ذریعے صدر ٹرمپ کی خدمت میں تین کتابیں پڑھنے کے لئے بھیجوں،ایک تو ساہیوال کی حنا جمشید کی ہے ’’سحرِ بنگال‘‘ یعنی بنگلہ دیشی ادب ،دوسری ’’سوئے دار‘‘جاوید اختر چوہدری کی خود نوشت اور تیسری بھی اتفاق سے ساہیوال کی مارکسسٹ افسانہ نگار مصباح نوید کی’’غلام گردشیں‘‘۔