• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے یہاں تو خیر’امن‘ میں بھی ’سچ‘ لکھنا اور بولنا آسان نہیں رہا مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جنگ میں پہلی موت ہی ’صحافت‘ کی ہوتی ہے اس لیے بھی کہ اگر آپ محاذ سے یا بہت دور بیٹھے خبریں دے رہے ہیں جو شاید سچ پر مبنی نہیں تو دراصل آپ اپنے اور دنیا کے عوام کو گمراہ کر رہے ہوتے ہیں جو صحافت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے لہٰذا موت صرف سچ کی نہیں صحافت کی بھی ہوتی ہے۔ ماضی کی جنگوں کی طرح موجودہ امریکہ ایران جنگ کے پیچھے چھپا ’سچ‘ وقت آنے پر پتا چل جائے گا بس دعا یہی ہے کہ یہ ’’ جنگ بندی‘ نہ صرف برقرار رہے بلکہ جنگ نہ کرنے کا کوئی معاہدہ ہوجائے لیکن یہ اتنا آسان نہیں خاص طور پر جو لوگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کوجانتے ہیں اور پھر اسرائیل کی سازشوں کا جال۔ بس’سچ‘ جاننے کیلئے تھوڑا انتظار کریں ابھی تو جوسامنے نظر آرہا ہے بس اسے دیکھتے اور سنتے جائیں ساری توجہ کا مرکز اس وقت ’اسلام آباد‘ہے۔ فیصلہ کچھ بھی ہو پاکستان بہرکیف اس خطے اور دنیا میں اہم ترین مملکت کے طور پر سامنے آیا ہے جو بہرحال ایک حقیقت پر مبنی سچ ہے ورنہ تواس ملک میں سب کا اپنا اپنا ’سچ‘ ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے اردگرد کئی جنگیں پچھلے چندبرسوں میں دیکھنے کو ملیں مگر ہمارا تو میڈیا ماڈل ہی وہ نہیں جہاں صحافیوں، فوٹوگرافرز یاکیمرہ پرسن کی تربیت کی جائے جو دنیا میں بڑے میڈیا گروپس کرتے ہیں ۔ایرانی انقلاب سے لے کر ایران۔ عراق جنگ ہو،افغانستان کی دوجنگیں ہوں، عراق پر امریکی حملہ ہو، پاک بھارت جنگ ہو دنیا میں دیگر جنگوں کا حال ہو ہمارے یہاں کا اندازِ صحافت ہی مختلف ہے جو بیانات سے آگے نظر نہیں آتا۔ اس لیے چند ایک صحافیوں کو چھوڑ کر جنگ ہو یا امن ہم ان بنیادی صحافتی اصولوں سے بہت دور ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم موجودہ امریکہ ایران جنگ کے دوران ’صحافت‘ کا جائزہ لیں کہ کس حد تک ہم ’سچ‘ کے قریب یا دور رہے۔ اب تو خیر مغربی میڈیا بھی خاصی حد تک بے نقاب ہوچکا ہے مگر اس سب کے باوجود ہم اپنے میڈیا سے زیادہ مغربی میڈیا یا الجزیرہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ جو خبر اسلام آباد سے کوئی غیر ملکی صحافی آسانی سے دے سکتا ہے وہ ہمارے اپنے ساتھی بوجوہ نہیں دے پاتے جو رسائی ان کو حاصل ہو جاتی ہے وہ ہمارے دوستوں کو کیوں میسر نہیں۔’مذاکرات‘ وفاقی دارالحکومت میں ہونے جارہے ہیں مگر خبر باہر سے آرہی ہے۔ سیکورٹی کی وجوہات اپنی جگہ مگر خبر تک رسائی نہ ملنا اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے۔ ایسے میں صرف جنگ کے دوران ہی نہیں ’ جنگ بندی‘ اورمذاکرات کے دوران بھی ’ سچ کی تلاش‘ آسان نہیں۔ اور پھر... اگر’سچ‘ پتا بھی چل جائے تو’خبر‘ نشر کرنے اور خبر دینے والے کو دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ اس سب کے باوجود صحافی سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، وہ اپنے آپ کو خبر سے دور نہیں رکھ سکتے چاہے اس کی تلاش میں وہ خود ہی ’خبر‘ بن جائیں۔ ایسے میں اکثر خبریں مفروضے پر مبنی ہوتی ہیں کیونکہ نہ اس صحافی کو رسائی حاصل ہے نہ ہی اس کے پاس وہ وسائل ہیں۔

ایسا ہی منظر نامہ ہمیں صحافت کے حوالے سے حالیہ ایران امریکہ جنگ کے دوران نظر آتا ہے جس کا ایک تفصیلی جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران سے جو خبریں آتی ہیں وہ کس حد تک ’ حقائق‘ پر مبنی ہوتی ہیں۔جس قدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صحافیوں پر برستے ہیں کسی کو’فیک نیوز‘ کہہ دیا کسی کوجھوٹا قرار دے دیا وہاں سے بھی خبریں تو آتی ہیں وہ کتنی سچ پر مبنی ہوتی ہیں اس کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے البتہ عراق کی جنگ کی جس طرح رپورٹنگ ہوئی تھی خاص طور پر ’ مہلک ہتھیاروں‘ کے حوالے سےجس جھوٹ کا اعتراف کچھ غیر ملکی خاص طور پر امریکی اخبارات نے کیا بلکہ کچھ نے’ معافی‘ بھی مانگی لوگوں کو گمراہ کرنے کی ۔

اس جنگ کی بنیاد بھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے حوالےسے اس بیانیہ پررکھی کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے اور اس کواسکی اجازت نہیں۔ یہ بات وہ کررہے ہیں جو نہ صرف خود ایٹمی طاقت ہیں بلکہ امریکہ تو اس کا استعمال دوسری عالمی جنگ کے دوران کربھی چکا ہے جس سے لاکھوں لوگ مارے گئے۔ میں نے امریکی صدر کی جتنی بھی میڈیا ٹاک سنی یا دیکھی ہیں کسی صحافی کو یہ سوال کرتے نہیں سنا کہ اگر اسرائیل ایٹمی قوت بن سکتا ہے تو ایران کیوں نہیں ۔ اسرائیل امن کیلئے زیادہ بڑا خطرہ ہے یا ایران۔ بس ایک ایسے بیانیہ کو میڈیا خاص طو ر پر مغربی میڈیا’ سچ‘ کے طور پر پیش کررہا ہے جسکی ایران مسلسل تردید کررہا ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ہمارے وزیر خارجہ کو امریکہ بھیجا گیا کہ وہ امریکی حکام پر زور دیں کہ بھارت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے مگر وہ خالی ہاتھ واپس آئے اور جناب ہنری کسنجر نے کہا ’’ بھارت نے جو کیا وہ غلط تھا مگر پاکستان کو اس حقیقت کے ساتھ زندہ رہنا پڑے گا‘‘۔ مگر اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ دباؤ قبول نہ کیا۔

سوال یہ نہیں کہ ایران کو ایٹمی قوت ہونا چا ہئے یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا ایران ایسا کربھی رہا تھا یا اس بات کو جواز بناکر اس پر حملہ کیا گیا جو تقریباً ویسی ہی بات ہے جیسی عراق کے معاملے پر نظر آئی۔ گو کسی حد تک میڈیا نے اس سے سبق سیکھا مگر ایسے سوالات اٹھانے والے صحافیوں کیلئے خود امریکہ میں صحافت مشکل ہے جیسا کہ غزہ کے معاملے پر ہمیں نظر آتا ہے۔ اب یہ ’ سچ‘ کب پتا چلے گا اور اس کا اعتراف کب اور کون کرے گا کہ ایران پر حملہ غلط تھا، اس پر اقتصادی پابندیاں ناجائز لگیں اس کیلئے شاید تھوڑا اورانتظار۔

’سچ‘ یا ’ حقیقت‘ کو تسلیم کرنا خاص طور پر کسی طاقت ور ملک یا صدر کیلئے ذرا مشکل ہوتا ہے مگر صحافی اور صحافت کی پہچان ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام سے جھوٹ نہ بولیں۔’جنگ بند‘ ہوئی اور کوئی باوقار انداز میں اختتام ہوا تو شاید امریکی صدر اور ایران کے صدر پاکستان آئیں مگر ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ ہمارے لیے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانا کوئی معمولی بات نہیں مگر کیامیڈیا کو اس تاریخی لمحے کو عوام تک پہنچانے میں اطلاعات تک رسائی ہوگی یا گزارہ سرکاری میڈیا کی طرح ہی ہوگا۔ جنگ میں پہلی موت بہرحال سچ کی ہی ہوتی ہے۔

تازہ ترین