بین الاقوامی سیاست کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ معاہدات، مفاہمتیں اور جنگ بندیوں کی شرائط ہمیشہ مساوی قوتوں کے مابین نہیں بلکہ عموماً طاقت کے غیر متوازن ارتکاز کے زیرِ اثر طے پاتی ہیں۔ یہی اصول حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات اور جنگ بندی (سیز فائر) کی صورتِ حال پر بھی صادق آتا ہے، جہاں ایک جانب امریکہ جیسی عسکری، اقتصادی اور تکنیکی سپر پاور ہے، تو دوسری جانب ایران اور اس کی قدیم تہذیب ہے جو آج کل داخلی تضادات، نظریاتی کشمکش اور محدود وسائل کے باعث ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ امریکہ اپنی جدید عسکری ٹیکنالوجی، وسیع دفاعی بجٹ اور عالمی سفارتی اثر و رسوخ کے باعث نہ صرف مذاکرات کی میز پر بلکہ میدانِ عمل میں بھی برتری رکھتا ہے۔ اس کے برعکس ایران، باوجود اپنی نظریاتی استقامت اور خطے میں اثراندازی کے، اندرونی سطح پر ایک پیچیدہ سماجی و سیاسی انتشار کا شکار رہا ہے۔
یہ انتشار محض حکومتی و عوامی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ لسانی، مذہبی اور نظریاتی تقسیم کا ایک خاموش مگر گہرا جال ہے، جو وقتاً فوقتاً ریاستی استحکام کو چیلنج کرتا رہا ہے۔ایران کے فکری و نظریاتی ارتقاءکو سمجھنے کے لیے ہمیں علی شریعتی جیسے مفکر کی جانب رجوع کرنا ہوگا، جنہوں نے انقلابِ ایران سے قبل ایک معتدل، فکری اور اصلاحی بیانیہ پیش کیا۔ شریعتی کا تصور ایک ایسے اسلامی معاشرے کا تھا جو جدیدیت، سماجی انصاف اور فکری آزادی کا امتزاج ہو۔ تاہم، انقلاب کے بعد اس بیانیے کو بتدریج پسِ پشت ڈال دیا گیا اور ریاستی ڈھانچہ زیادہ تر سخت گیر عناصر کے زیرِ اثر آتا چلا گیا۔ایران میں اصلاح پسند قیادت کا ابھرنا اور پھر زوال ایک مسلسل داستان ہے۔ خاتمی محمد جیسے رہنما نے اعتدال، مکالمہ اور عالمی انضمام کی راہ اپنانے کی کوشش کی، مگر ان کی پالیسیوں کو اندرونی طاقتور حلقوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔عبداللّٰہ نور،میر حسن موسوی، محمد رضا عارف کو فارغ کر دیا گیا۔اختلاف رائے پر مہدی کرو بی بھی نظر بند ہوگئے۔ اسی طرح حسن روحانی کے دور میں جوہری معاہدے (JCPOA) کے ذریعے عالمی برادری سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن داخلی سطح پر سخت گیر عناصر کی مخالفت نے ان اقدامات کو کمزور کر دیا اور معاملات کو پیچھے دھکیل دیا۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں موجودہ ایران امریکہ کشیدگی کو سمجھنا ضروری ہے۔ جب ایک ریاست کے اندر پالیسی سازی پر اعتدال پسند قوتوں کے بجائے عسکری یا انتہاپسند عناصر کا غلبہ ہو جائے، تو خارجہ پالیسی بھی اکثر تصادم، مزاحمت اور طاقت کے اظہار پر مبنی ہو جاتی ہے۔یہی صورت حال آج ایران میں نظر آتی ہے، جہاں پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ سیاسی قیادت بھی مکمل خودمختاری سے فیصلے کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔میڈیا پر سخت پابندی کی وجہ سے بظاہر اس کا اظہار نہیںہوتا۔
موجودہ جنگ بندی اگرچہ وقتی طور پر کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر اس کے دیرپا اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران اپنی داخلی پالیسیوں میں کس حد تک توازن اور اعتدال پیدا کرتا ہے۔ اگر سخت گیر عناصر کا غلبہ برقرار رہا، تو یہ بعید نہیں کہ امریکہ کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ دبائویا عسکری کارروائی کا راستہ اختیار کرے۔ ایسی کسی بھی ممکنہ جنگ کا سب سے زیادہ نقصان ایران کے انفراسٹرکچر، عسکری تنصیبات اور سب سے بڑھ کر ایرانی عوام کو ہوگا۔ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب کے اڈے جدید امریکی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکیں گے۔ نتیجتاً، نہ صرف ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوگا بلکہ معاشی بدحالی، بیروزگاری اور سماجی بے چینی میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ وہ قیمت ہے جو بالآخر عوام چکاتے ہیں ، نہ کہ وہ عناصر جو اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے کرتے ہیں۔اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہ صرف سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی بلکہ خطے میں امن کے قیام کیلئےمثبت کردار ادا کیا۔ ملکی قیادت، بشمول وزیرِ اعظم ،عسکری قیادت اور خصوصاً فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی، جو یقیناً خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ تاہم، بالآخر فیصلہ ایران کو خود کرنا ہے۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایک عسکریت پسند، تصادم پر مبنی راستہ اختیار کرتا ہے یا پھر اعتدال، مکالمہ اور اصلاحات کی جانب بڑھتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو داخلی استحکام، فکری وسعت اور سیاسی اعتدال کو اپناتی ہیں۔
ایران کیلئے بھی یہی راستہ نجات کا ضامن ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اپنے اندر موجود اصلاح پسند عناصر کو دوبارہ ابھرنے کا موقع دے، پاسدارانِ انقلاب کے اثر کو متوازن کرے اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرے، تو نہ صرف وہ اپنے عوام کو بہتر مستقبل دے سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک تعمیری کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔صدرمسعود پزشکیان، محمد خاتمی، حسن روحانی اب بھی جدیدیت کی بات کرتے ہیں اوروہی ایک محفوظ راستہ ہے ۔بصورتِ دیگر، طاقت کے اس کھیل میں، جہاں اصول نہیں بلکہ قوت فیصلہ کن ہوتی ہے، ایران کو ایک طویل اور نقصان دہ جدوجہد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کا سب سے بھاری خمیازہ اس کے عوام کو بھگتنا ہوگا۔
تہران ہو اگر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے
اقبالؒ