صدر……
موصوف روز درجنوں ٹویٹ کیا کرتے تھے۔
صدر بننے کے بعد بھی عادت برقرار رہی۔
ایک رات ٹویٹ کیا:’’پڑوسیو، جرات مندانہ فیصلے کرو‘‘
صبح خبر آئی: دو افریقی ممالک میں جنگ چھڑ گئی ہے۔
گھبرا کر دوپہر میں ٹویٹ کیا: ’’جنگ نہ روکی،
تو اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جائیں گی‘‘
نتیجہ الٹا نکلا۔ تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔
شام کافی پیتے ہوئے لکھا: ’’بہت ہوا، سب بند کر دو‘‘
خبر آئی، ایک اہم تجارتی آبنائے بند ہوگئی ہے۔
رات کو تھک کر ٹویٹ کیا:’’اب خاموشی ہی بہتر ہے‘‘
اگلی صبح کی بریکنگ نیوز تھی:’’صدر کی پراسرار خاموشی نے
دنیا کو مزید شور میں دھکیل دیا!‘‘