• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر……

موصوف روز درجنوں ٹویٹ کیا کرتے تھے۔

صدر بننے کے بعد بھی عادت برقرار رہی۔

ایک رات ٹویٹ کیا:’’پڑوسیو، جرات مندانہ فیصلے کرو‘‘

صبح خبر آئی: دو افریقی ممالک میں جنگ چھڑ گئی ہے۔

گھبرا کر دوپہر میں ٹویٹ کیا: ’’جنگ نہ روکی،

تو اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جائیں گی‘‘

نتیجہ الٹا نکلا۔ تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔

شام کافی پیتے ہوئے لکھا: ’’بہت ہوا، سب بند کر دو‘‘

خبر آئی، ایک اہم تجارتی آبنائے بند ہوگئی ہے۔

رات کو تھک کر ٹویٹ کیا:’’اب خاموشی ہی بہتر ہے‘‘

اگلی صبح کی بریکنگ نیوز تھی:’’صدر کی پراسرار خاموشی نے

دنیا کو مزید شور میں دھکیل دیا!‘‘

تازہ ترین