ندامت……
میں ٹرین کے جس ڈبے میں سوار ہوا، اس میں ایک ہی مسافر تھا۔
کچھ دیر ڈبے میں پراسرار خاموشی چھائی رہی،
ٹرین سے جڑی ایک پرانی کہانی ہمارے درمیان ہچکولے کھا رہی تھی۔
آخر میں نے چپ توڑی: ’’جناب، کیا آپ بھوتوں پہ یقین رکھتے ہیں؟‘‘
’’مجھے بھوتوں کی پروا نہیں‘‘ اجنبی نے کاندھے اچکائے۔
’’مجھے انسانوں کی فکر ہے، جو جنگیں چھیڑ دیتے ہیں،
جنکے مظالم بچوں کو یتیم عورتوں کو بیوہ کر دیتے ہیں،
جو پوری پوری بستیاں مٹا دیتے ہیں،
مگر اپنے ظالمانہ فعل پر انہیں کوئی ندامت نہیں ہوتی۔‘‘
میں مسکرایا۔’’پھر تو ان انسانوں سے ہم بھوت ہی بھلے۔‘‘- میں یہ کہہ کر غائب ہوگیا۔
ڈبے میں پھر سے پراسرار خاموشی چھا گئی۔