• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلے منگل پھر بُدھ اور اس کے بعد جمعے کے د ن کا انتخاب امریکی صدر کی جانب سے مشتہرہونے پر عام پاکستانی بہت خوش ہیں کہ ان کا دل ایران ،فلسطین اور لبنان کیلئے بہت دھڑکتا ہے مگر جب امریکی صدر کے منہ سے نکلا کہ ایران سے مذاکرات اسلام آباد میں منگل کو ہوں گے تو کئی لوگ پریشان ہوئے کہ صدر ٹرمپ کسی بھارتی جیوتشی کے ہتھے چڑھ گئے ہیں پھر امریکہ میں بڑے منصبوں پرفائز دو ایک برطرفیاں ہوئیں اور پہلے بُدھ اور پھر جمعے کا دن طے ہوا تو ہم نے از خود فرض کر لیا کہ اس جنگ سے ایرانی مزاحمت کے بعد امریکہ بھی جس طرح نکلنا چاہتا ہے اس کے اپنے لئے شاید یہی دن مبارک ہو گا ۔ اس حوالے سے ایک شاگرد خورشید شکوری کا مدینے سے فون آیا کہ میں نے امنِ عالم کے حوالے سے ایک خواب دیکھا ہے جس میں علامہ اقبال فارسی میں شعر سنا رہے ہیں،پھر لندن سے سلیم اللّٰہ حیدرانی کا بھی نیک شگون کا پیغام ملا، جس کی سسرال لبنان میں ہے۔ بیروت کی بربادی سے پہلے امریکہ کو یاد تو ہوگا کہ یہاں امریکی یونیورسٹیاں تعلیم دیتی تھیں ۔

ایسے میں امریکہ میں مقیم ظہور انور ندیم اور وائس آف امریکہ سے وابستہ مدثرہ حسین نے یاد دلایا کہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا ایک یادگار خطبہ تمام اچھے انسانوں کی یادداشت میں گونجتا ہے ’’ میرا ایک خواب ہے امریکہ میں نسلی امتیاز کا خاتمہ ہو گا‘‘،صدر ٹرمپ سارا دن بولتے ہیں مگر کبھی اس خطبے کا ذکر نہیں کریں گے کہ ان کے سبھی خطبات گورے کی کالے پر دائمی برتری کے لئے ہیں اور اسی گورے کو مسلح کرنے اور اس کی ہلاکت خیزی کو منوانے کے گرد گھومتے ہیں۔غنیمت ہے کہ ایران نے چار باغی خواتین کی سزائے موت موخر کر دی ہے، اگرچہ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیک نیوز ہے تاہم اگر ہے بھی تو ضروران میں زریں تاج اور فروغ فرخ زاد کی سرکش روحیں بولتی ہوں گی ۔

ہمارے ہاں ذوالفقار علی بھٹو بھی آئے فیض کے پرستار، کتاب خانوں،نیشنل سنٹر اور آرٹس کونسل کے بانی اورفنونِ لطیف کے پرستار پر ان میں بھی جنرل مشرف جیسا حوصلہ نہیں تھا کہ اپنے کتوں کے ساتھ اپنے طبلے کی جوڑی سے اپنا شغف کھلم کھلا ظاہر کرتے اور ضیا محی الدین کے مشورے پر ناپا(نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس) بناتے اور کہتے کہ ترکیہ کی موسیقی،رقص اورمشروبِ مشرق کی ارزانی بھی پاکستانی لینڈ اسکیپ کو اور دل کش کر سکتے ہیں۔

کسی زمانے میں جامعات میں ڈرامہ پسند وائس چانسلر اس موضوع پر سیمینار کراتے تھے’’پاکستان میں اسٹیج ڈرامہ جگت باری سے کیوں آگے نہ بڑھ سکا‘‘ حالانکہ پارسی تھیٹر سے بھی پہلے لکھنؤ کے واجد علی شاہ نے فرانس سے تکنیکی مدد حاصل کی تھی،یہ اور بات کہ ہمارے واجد پیا کو زچہ کا روپ دھارنے سے رغبت تھی،پھر ابھی انیس اپریل کو انار کلی اور قرطبہ کا قاضی کے خالق امتیاز علی تاج کی برسی منائی گئی ان کی محبوب بیگم حجاب امتیاز نے تاج کے بھتیجے قاتل کو پہچان لیا تھا ہمارے پیارے اصغر ندیم سید تو ڈرائیو کر رہے تھے جب ان کے قتل پر مامور شخص نے سامنے آکے گولی چلائی تھی۔ بہر طور اسی ناپا نے بہت سے ڈرامے ترجمہ کرا کےا سٹیج پر پیش کئے ،انہی میں سے ایک ڈرامہ مصر کے فکشن نگار توفیق الحکیم کا ہے ’’سلطان کا فیصلہ‘‘ ۔آپ جانتے ہوں گے کہ آج سے انتالیس برس پہلے توفیق کی وفات ہوئی۔ مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ اپنی دانست میں ،میَں خاندانِ غلاماں کے بارے میں کافی معلومات رکھتا ہوں۔میرے جس دوست خرم قادر نے اس خاندان پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا اور میں نے اس کے مقالے کے اردو ترجمے کے پروف بھی پڑھے ،میں یہ تو جانتا تھا کہ یہ خاندان چوراسی برس دلّی پہ حاکم رہا اس کے بانی قطب الدین ایبک کا مزار لاہور میں ہے اور جو ہمارے ڈاکٹر عبدالقدیر خان (بھوپالی) کے محبوب شہاب الدین غوری کے محبوب تر غلام تھے جن کی وفات پر ایبک نے اپنی بادشاہت کا اعلان کیا ،ایبک نے پہلے لاہور کو اور پھر دِلّی کو دارالحکومت بنایا۔

تاہم مجھے علم نہیں تھا کہ ایبک کو پہلے قاضی فخرالدین عبدالعزیز نے خریدا،تعلیم دی فنونِ سپاہ سکھائے مگر ان کے حاسد بیٹوں نے اس خوبصورت ترک غلام کو بیچ دیا اور یہ غلاموں کی اس منڈی کی زینت بنے جو غزنی میں تھی اور یوں شہاب الدین غوری کے ہاں پہنچے اور اپنے اوصاف سے اس کے جانشیں بنے مگر توفیق الحکیم نے یہ نکتہ پیش کیا کہ بے شک یہ غلام تھے مگر تاج دار ہونے کے لئے شرط تھی کہ آقا انہیں آزاد کر دے اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر وہ اس کی تاج داری کسی قاضی کی عدالت میں چیلنج ہو جاتی تھی ،اجازت دیجئے کہ اس ڈرامے کے تین اقتباس پیش کروں:

الف: سلطان: مجھے تمہارا چہرہ یاد نہیں،مجھے تو اس کرغیز گاؤں میں اپنے بچپن کے دن بھی یاد نہیں،مجھے تو بس مرحوم سلطان کے دربار میں لڑکپن کے دن یاد ہیں،انہوں نے مجھے اپنے بچوں کی طرح پالا کہ وہ لاولد تھے ،انہوں نے مجھے پالا پوسا،پڑھایا،لکھایا تاکہ میں ان کے بعد تخت سنبھال سکوں۔

مجرم: آپ کے ماں باپ منگولوں کی یلغار میں مارے گئے اور وہ میں تھا جوآپ کو اس دربار میں لے گیا تھا۔

وزیرِ اعظم: تمام مملوک سلاطین پہلے غلام تھے لیکن ان کا دستور تھا کہ تخت پر فائز ہونے سے پہلے پروانہ آزادی حاصل کر لیتے تھے،اس شخص کا دعویٰ ہے کہ آپ کو آج تک پروانہ آزادی نہیں ملا، اس لئے ایک غلام آزاد قوم پر حکمرانی نہیں کر سکتا۔

ب) قاضی: آقا لاولد مر گیا ،اس لئے ان کی ملکیت یعنی کہ آپ سرکاری خزانے میں منتقل ہوگئے،اب آپ کی نیلامی ہوگی۔

سلطان: ذرا اس بڈھے کو دیکھو،اس کے پاس تلوار نہیں مگر یہ اپنی زبان چلاتا اور گھماتا ہے،کیوں نہ اس زبان کو ہی کاٹ دیا جائے؟

وزیر: عالم پناہ! تحمل ،توقف،تاریخ آپ کو دیکھ رہی ہے۔

ج)مطربہ :میں نے قانون کے مطابق بولی دے کے آپ کو خریدا ہے، میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کا تخت و تاج چھن جائے کہ آپ کے بعد آپ جیسا بہادراور عدل پسند بادشاہ ہمیں کہاں ملے گا؟ (کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ توفیق الحکیم کے اس ڈرامے کا ترجمہ ڈاکٹر آصف فرخی نے کیا تھا)

تازہ ترین