امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا ایک دور جلد ہونے کا امکان ہے۔ ایران سے وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا سے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔
ابتدا میں امریکی وفد کے اسلام آباد نہ آنے کی خبر آئی تھی، تاہم اب سے کچھ دیر پہلے امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف کی قیادت میں وفد کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وہ اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
امریکی ٹی وی کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جہاں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شرکت کریں گے، رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال ان مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر نکل رہے ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد دو طرفہ امور پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے رکھنا اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔
اس سے پہلے ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے گفتگو کی۔ خطے کی صورتِ حال، جنگ بندی اور اسلام آباد کی جانب سے امریکا ایران رابطوں کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو کی۔
ایرانی نیوز ایجنسی نے خبر دی کہ ایرانی وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی گفتگو کی، جس میں خطے کی صورتِ حال اور جنگ بندی سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو امریکی آفیشلز کے حوالے سے خبر دی کہ صدر ٹرمپ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو مذاکرات کے لیے اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس اس لیے فی الحال پاکستان نہیں آرہے کہ اس بار ایرانی اسپیکر باقر قالیباف مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔ امریکی حکام باقر قالیباف کو ایرانی وفد کے سربراہ اور جے ڈی وینس کے ہم منصب کے طور پر دیکھتے ہیں۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ مذاکرات آگے بڑھنے پر جے ڈی وینس کسی بھی وقت اسلام آباد آنے کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران جے ڈی وینس کا عملہ اسلام آباد میں موجود ہوگا اور جاری مذاکرات کا حصہ رہے گا۔