• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہنے کو اب تو ’باخبری‘کا دعویٰ کرنے والے کہیں گے کہ جونہی صدر ٹرمپ نے اپنے وفد کو ایران سے مذاکرات کے لئے اسلام آباد جانے سے منع کیا ،کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا میکینکل انجینئرنگ کا گریجویٹ کول ایلن تھامسن جس نے بعد میں کمپیوٹر سائنس میں وہاں کی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا اپنی شاٹ گن اور کچھ چاقوئوں کومحفوظ اور مہلک بنانے میں مصروف ہو گیا۔ ابھی تو قاتلانہ حملے سے بچ جانے والے 80 برس کے ٹرمپ نے اعلان کر دیا ہے کہ اس حملے کا تعلق ایران،امریکہ جنگ سے نہیں لیکن آپ جانتے ہیں کہ پراسرار کہانیاں کتابوں،فلموں اور تحقیقاتی رپورٹوں کی صورت میں اسی وقت سامنے آتی ہیں جب سرکاری اعلان کو پورا سچ ماننے سے انکار کیا جائے۔ہمارے جنرل محمد ایوب خان کے جلسے میں جب کسی نے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اخبارات میں تو یہ خبر شائع نہ ہوئی مگر کچھ کالموں میں اس کا ذکر آ گیا۔اسی طرح میری عمر کے لوگوں کو بھارتی وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ اور پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے مذاکرات یاد ہوں گے۔جب انیس سو باسٹھ میں چین اور بھارت میں محدود جنگ ہوئی تو امریکہ نے پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل کو رِجھایا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ حل کرادیں گے تم اس وقت اس جنگ سے بے تعلق ہو جائو یعنی بھارت کو احساس ہونا چاہئے کہ پاکستانی فوجی قیادت بھارت کے جواہر لال نہرو کے وعدوں پر ایک مرتبہ پھر بھروسہ کرنے پر تیار ہے سو تب دونوں ملکوں کے مذاکرات ہوئے جن پرروزنامہ حریت کراچی کے نصراللہ خان،امروز لاہور کے احمد ندیم قاسمی اور منو بھائی نے فکاہیہ کالم لکھے شاید روزنامہ انجام کراچی کے ابراہیم جلیس اور روزنامہ جنگ کے ابنِ انشا نے بھی ان مذاکرات پر کالم لکھے ۔نمک دان والے مجید لاہوری اگر وفات نہ پا چکے ہوتے تو وہ ان مذاکرات کو منظوم کرتے۔ بھٹو صاحب کو پتہ تھا کہ یہ مذاکرات’ ٹھگانے‘ کا بہانہ ہیں، اخبارات کے عام پڑھنے والوں کو پتا تھا کہ امریکہ نے ہمیں ’ٹھگو‘ دیا ہے ۔(ہمارے دوست نصراللہ خان ناصر مرحوم نے بتایا تھا کہ بچے کو جو چوسنی دی جاتی ہے اسے سرائیکی وسیب میں ٹھگو کہا جاتا ہے) چنانچہ ان مذاکرات میں دلی،پنڈی اور لاہور کے موسم اور گرمی کا پوچھا جاتا اور جب بھٹو کہتے سردار جی ذرا کشمیر پر بھی بات کر لیتے ہیں تو وہ جواہر لال نہرو کی طرح کہتے پہلے ہم کشمیر میں کتنی قسم کے پھول اور پھل ہوتے ہیں ان پر بات نہ کر لیں؟۔

کوئی بچہ آسانی سے نہیں مانتا کہ اس کی ماں ان پڑھ تھی سو میں بھی نہیں مانتا مگر وہ قیافے سے سمجھتی تھی بہت کچھ سو وہ آج زندہ ہوتیں اور میں انہیں اخبار پڑھ کے سنا رہا ہوتا تو وہ ٹرمپ پرحملہ کرنے والے کے بارے میں پوچھتی کہ اس کی ماں کی کوئی تصویر بھی آئی ہے اخبار میں؟ وہ کس حال میں ہے؟۔ایلن جس طرح کے اداروں میں پڑھا ہے وہ ہمارے خیال یا خواب میں بھی مہذب ترین مُلک یعنی امریکہ کے وہ ادارے ہیں جن میں کوئی بچہ پڑھ رہا ہو تو باپ بے شک فخر کرتا ہے مگر وہ بچہ بیمار ہو جائے یا سیکورٹی والے اسے الٹا لِٹا کے مُشکیں کس لیں یا ہتھکڑیاں ڈال دیں تو مائوں کی آہیں عرش ہلا دیتی ہیں۔

آج کل ہماری جامعات میں آن لائن سیمیناروں کی سرگرمی اپنے عروج پر ہے ہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ڈین کے ساتھ سربراہ شعبہ کی تصاویر کے ساتھ پورے ملک کے اسکالروں کی شرکت کا بھی رنگین اعلان ہے بیرونِ ملک سے بھی بعض اسکالروں کی خوش خبری ہے ۔اوساکا کے پروفیسر یامانے یا ٹوکیو کے مامیا کین ساکو کا اعلان ہو تو پہلے جاپان کے کل رات کے زلزلے اور ایک اور سونامی کی طرف توجہ جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ جاپان میں مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی ختم ہونے کی مصلحت پر بھی ہماری جامعات سوچ بچار کرتی ہوں گی،اس عزم کے ساتھ کہ ہماری جامعات تنقیدی شعور کے پھیلائو کے خطرات سے آگاہ ہیں ہمارے ہائر ایجوکیشن کے وفاقی اور صوبائی کمیشن کبھی یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ ٹرمپ پر حملہ کرنے والے ایلن کے بارے میں یہ معلومات اپنی ویب سائٹس پر ڈالیں کہ اسے ایک ادارے نے شاید گزشتہ ماہ کے لئے بہترین استاد کا ایوارڈ دیا تھا،ممکن ہے کہ اس معاملے پر بحث کا رُخ بدلتے دیکھ کر کئی وائس چانسلر ڈین اور سربراہانِ شعبہ اپنے ذاتی کوائف میں سے بہترین استاد کا ایوارڈ پانے کا ذکر ہی ہٹا دیں۔

جمعے کے دن کی فضیلتیں اپنی جگہ مگر اس کے بعد عام طورپر دفاتر میں سوموار کا انتظار ہوتا ہے ،ماجرا یہ ہے کہ بے شک بہت سا کام آن لائن ہو سکتا ہے ،گوگل اور اے آئی نے بھی بہت کچھ امداد فراہم کی ہے مگر میرے اپنے بیٹے نے انگلستان کی ایک یونیورسٹی کے ساتھ فاصلاتی نظام کی سہولتوں اور دشواریوں پر کام کیا تھا تب اسلام آباد،لاہور،سیال کوٹ اور فیصل آباد کی بعض سرکاری اور پرائیویٹ جامعات کے مقابلے پر ملتان،بہاولپور،ڈیرہ غازی خان اور لیہ کے طالب علموں کی اضافی مشکلات کی نشاندہی کی گئی تھی ۔ اب اگر فرض کریں ملتان کے دو اہم تعلیمی اداروں(ایمرسن یونیورسٹی ملتان اور ویمن یونیورسٹی ملتان) کے سربراہوں کے تقرر کا معاملہ التوا کا شکار ہو تو فضا میں کچھ باخبروں کو افسانہ طرازی کا موقع مل جاتا ہے کہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے موزوں ترین تین تین افراد کا پینل بنا کے اور ان میں سے ایک ایک نام فائنل کرکے بھیج دیا تھا مگر پنجاب کے گورنرصدرِ مملکت آصف علی زرداری کو چین کے دورے کے لئے الوداع کہنے کراچی گئے تھے ممکن ہے کہ واپسی پر وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے لئے اپنے عملے سے کہہ دیں۔

ڈاکٹر شاہدہ یوسف کے والد پیر رفیع الدین شاہ کا کتاب خانہ اور ذوق شہرت رکھتا تھا ،ڈاکٹر شاہدہ نے ’’اقبال اور ٹی ایس ایلیٹ‘‘پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا تھا ابھی ان کی اور کتاب ’’فکرِ اقبال کا اسلامی اور عالمی تناظر‘‘ بھی فیصل آبادسےشائع ہوئی ہے مگر انہوں نے یہ کتاب اپنی والدہ کے نام معنون کی ہے اور قرۃ العین طاہرہ کےیہ شعر درج کئے ہیں: می رود از فراقِ تو خونِ دل از دو دیدہ ام … دجلہ بدجلہ،یم بہ یم ،چشمہ بہ چشمہ،جو بجو

تازہ ترین