• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل سر عبدالکریم عاجز کی گت بنی ہوئی ہے۔ چھوٹے موٹے اچھے کام کرنا اس کی عادت ہے۔ مثلاً کبوتروں کو دانا ڈالنا، یعنی کبوتروں کو دانا کھلانا۔ سندھ ہائی کورٹ اور سندھ سیکرٹری کے درمیان بٹوارے سے پہلے ایک چوک ہوا کرتا تھا۔ چوک کا نام تھا گاندھی چوک، بیچوں بیچ چوک کے ایک چبوترے پر مہاتما گاندھی کا پیتل سے بنا ہوا ایک مجسمہ لگا ہوا تھا۔ بٹوارے کے بعد گاندھی چوک سے مہاتما گاندھی کا مجسمہ غائب ہوگیا۔ میں جانتا ہوں کہ مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ بولتی بند کرنے والوں سے میں ڈرتا ہوں۔ اس لیے میں آپ کو کبھی نہیں بتائوں گا کہ بٹوارے کے بعد مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اڑتی اڑتی خبر یہ بھی ہے کہ پیتل سے بنا ہوا مہاتما گاندھی کا مجسمہ پگھلا کر آٹھ، دس دیگیں بنائی گئی تھیں۔ برنس روڈ پر ان دیگوں میں حلیم بارہ مسالے والی بنتی تھی ا ور لوگ چٹخارے لے کر کھاتے تھے۔ یہ خبر میری نہیں ہے، میں نے سنی سنائی خبر آپ کو سنائی ہے، گاندھی چوک آج کل خیر سے کبوتر چوک کہلوانے میں آتا ہے، اگر آپ کا سندھ ہائی کورٹ آنا جانا لگا رہتا ہے تو پھر آپ کبوتر چوک کا نظارہ روزانہ کرتے ہوں گے، لوگ مفت میں کبوتروں کو دانہ نہیں ڈالتے۔ دانے دانے کے ساتھ طرح طرح کی دعائیں نتھی ہوتی ہیں۔ بیس برس سے اگلے گریڈ میں آپ کی ترقی نہیں ہورہی ہے۔ آپ کبوتروں کو دانہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ دعائیں بھی ڈال دیتے ہیں۔ بیس دن کے بعد میں ریٹائر ہونے والا ہوں میرے مولیٰ، ریٹائر ہونے سے پہلے میری اگلے گریڈ میں ترقی کرادے۔ فقیر کو پنشن میں دو ٹکے کا فائدہ ہوگا۔ مہنگائی کے مستقل دور میں دو ٹکے بھی بہت کام آتے ہیں۔

آپ کا ہونہار ولی عہد جوکہ میٹرک میں پندرہ مرتبہ فیل ہوچکا ہے، کبوتروں کو دانہ ڈالتے ہوئے آپ اس کے لیے بھی دعا مانگتے ہیں، اے میرے مولیٰ میرا ہونہار ولی عہد بڑا ذہین ہے، وہ جس دن پیدا ہوا تھا، اس دن یونان میں دس فلاسفر مر کھپ گئے تھے۔ سنانے والے سناتے ہیں کہ یونانی فلسفیوں نے خودکشی کرلی تھی، میرا ہونہار ولی عہد اڑتی چڑیا کے پر گن سکتا ہے، تو اسے اڑتے عقاب کے پر گننے کی توفیق دے، تاکہ تمام ایروں غیروں، نتھو خیروں کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں آجائے۔

میں نے سنا ہے سر جی کہ آپ کا ہونہار ولی عہد جب بھی میٹرک پاس کرنے کی دعائیں لے کر کبوتر چوک جاتا ہے توآناً فاناً کبوتر، چوک سے اڑ جاتے ہیں، دوسرے روز چوک دھونے دھلانے کے بعد کبوتر پھر سے چوک پر اترتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ کبوتروں کو دانہ ڈالنے والوں کی بھی دعائیں قبول ہوجاتی ہیں۔

عبدالکریم عاجز بھی ہم میں سے ایک ہے، وہ کوئی یورپین نہیں ہے، وہ بھی ہماری طرح کبوتروں کو دانا ڈالتے ہوئے دعائیں مانگتا ہے۔ وہ بال بچوں کی صحت، تندرستی اور سلامتی کی دعائیں نہیں مانگتا، وہ اپنے لیے آگے گریڈ میں ترقی کی دعائیں نہیں مانگتا، وہ ہمیشہ ایک ہی دعا کے ساتھ کبوتر چوکوں سے لے کر قبرستانوں، کھنڈروں، ویرانوں اور اجڑے دیاروں کا رخ کرتا ہے، گھٹنوں پر سر رکھ کر ایک ہی دعا مانگتا ہے، اے رب، مجھے اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تو مجھے ایسی ڈگر پر چلنے کی توفیق عطا فرما، جو راہ راست ہو، پھر چاہے راہ راست پر کانٹے اور کرچیا ںبکھری ہی کیوں نہ ہوں۔

عبدالکریم عاجز کو زیادہ مایوس بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اس کی دعائیں قبول ہوتی رہتی ہیں، میں نے جب بھی سر عبدالکریم عاجز کو دیکھا ہے، وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتا کہ راہ راست پر کانٹے اور کرچیاں بکھری ہوئی ہوتی ہیں۔ کبوتروں کو دانہ ڈالتے ہوئے وہ گنگناتا رہتا ہے، تھینکس مائی گاڈ، تھینکس۔

سر عبدالکرم عاجز ایک سیکنڈری اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ وزیراعظم کے لگاتار اعلانات کے بعد سر عبدالکریم عاجز نے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے اور سہارا دینے کے لیے اپنے اسکول میں حکم جاری کردیا ہے۔ اس حکم پر سختی سے عمل ہورہا ہے۔ غیرمعمولی حکم نے بڑے بڑے افسران کے بچوں اور ان کی بیگمات کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ سر عبدالکریم عاجز کے حکم کے مطابق بڑے بڑے طاقتور افسران کے بچے سرکاری گاڑیوں میں سوار اسکول کی دہلیز تک نہیں آسکتے۔ ان کی سرکاری گاڑیاں اسکول سے ایک کلو میٹر دور کھلے میدان میں آکر رکتی ہیں۔ بچے اسکول کے عام بچوں کی طرح جو ویگنوں، بسوں اور سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں، اسکول آتے ہیں، کچھ لاٹ صاحبوں کے بچے اس قدر بگڑے ہوئے ہیں کہ خود گاڑی کا دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نہیں آتے۔ ڈرائیور گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے، تب صاحبزادے گاڑی سے باہر تشریف لے آتے ہیں، اب یہ سب اسکول سے ایک کلو میٹر دور ہوتا ہے، کوئی ڈرائیور، کوئی نوکر ان کی کتابوں کے بستے اٹھاکر ان کو اسکول کی دہلیز تک چھوڑنے نہیں آسکتا۔ ایک مرتبہ ایک بیگم صاحبہ جل بھن کر سرکاری گاڑی کے ساتھ اسکول پہنچی، بیگم صاحبہ نے شور ڈال دیا کہ میں فلاں سیکرٹری کی بیوی ہوں، میں تمہیں دیکھ لوں گی، دو ٹکے کے ہیڈ ماسٹر، تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ سر عبدالکریم عاجز نے بیگم صاحبہ کے دونوں بیٹوں کو اسکول سے رسٹی کیٹ کردیا۔

سرکار ہل گئی، زبردست انکوائری کمیٹی بنائی گئی۔ انکوائری کمیٹی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ سر عبدالکریم عاجز کو ڈیموٹ کیا جائے؟ ٹرانسفر کیا جائے؟ ڈس مس کردیا جائے؟ پھر سے افسران کے بچوں کو سرکاری گاڑیوں میں اسکول کی دہلیز تک آنے دیا جائے۔

تازہ ترین