چین نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’مینس‘ کو خریدنے کی کوشش روکنے کا اعلان کر دیا ہے، چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی قوانین کے تحت کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے قومی ترقیاتی ادارے کے مطابق غیر ملکی کمپنی کو اس خریداری کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم بیان میں میٹا کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں مقابلہ تیز ہو رہا ہے، چین کو خدشہ ہے کہ امریکی کمپنیاں اس کے ہنر اور ٹیکنالوجی پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
واضح رہے کہ ’مینس‘ ایک ایسی کمپنی ہے جو خودکار نظام تیار کرتی ہے جو کم انسانی مدد کے ساتھ پیچیدہ کام انجام دے سکتے ہیں، اگرچہ اس کی جڑیں چین سے جڑی ہیں لیکن اب یہ سنگاپور میں قائم ہے۔
دوسری جانب میٹا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا معاہدہ تمام قوانین کے مطابق تھا اور وہ اس معاملے کے حل کے لیے پُرامید ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں ’مینس‘ نے چین میں اپنے دفاتر بند کر کے کام سنگاپور منتقل کر دیا تھا جس سے اس نے مختلف پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی تھی۔