گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی سے دنیا بھر میں یہ تاثر ابھرا کہ ٹرمپ، ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس دھمکی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑادی۔ اس حوالے سے امریکہ کے سابق سی آئی اے اہلکار لیری جانسن نے ایک پوڈ کاسٹ میں یہ انکشاف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ ایران جنگ کے دوران شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ایران پر نیوکلیئر حملے کا ارادہ رکھتے تھے، اس ذہنی دباؤ میں وہ اچانک وائٹ ہاؤس میں قائم سچویشن روم جاپہنچے جہاں انہوں نےپینٹاگون کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں سے میٹنگ کے دوران نیوکلیئر کوڈز تک رسائی کی خواہش ظاہر کی مگر وہاں موجود چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف ڈین کین نے یہ کہہ کر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیوکلیئر کوڈز دینے سے انکار کردیا کہ ’’امریکہ کو ایران سے کوئی ایٹمی خطرہ نہیں لہٰذا وہ ایران پر جوہری ہتھیاروں سے حملے کا ارادہ ترک کردیں۔‘‘
ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر کے سچویشن روم سے جانے کے بعد اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے فیصلہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جتنا ہوسکے، سچویشن روم سے دور رکھا جائے۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکی صدر چونکہ فوج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے اور اس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار کا کوڈ اور نیوکلیئر بٹن دبانے کا اختیار ہوتا ہے جسے وہ جب چاہے استعمال کرسکتا ہے لیکن مذکورہ واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں طاقت کا توازن اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے اور نیوکلیئر حملے کے فیصلے میں امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت کی رضامندی بھی شامل ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اپریل کو ایران کی تہذیب مکمل طور پر تباہ کرنے اور نسل کشی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب دم توڑ دے گی جسے کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ، ایران کو ایسے ہتھیاروں سے نقصان پہنچانے کیلئے تیار ہے جو اس سے پہلے استعمال نہیں کئے گئے تاہم عالمی تنقید کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہنا پڑا کہ ان کے بیان کا مقصد ایران پر جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنا نہیں تھا۔
جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا تصور ہی انسانیت کیلئے خوف اور تباہی کی علامت ہے۔ امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے دوسری جنگ عظیم میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا اور جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے جس کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس ہولناک واقعے کے اثرات آج بھی باقی ہیں۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی عالمی امن کے اصولوں کے منافی ہے۔ امریکی صدر آج کل شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہورہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے جال میں بری طرح پھنس گئے ہیں، اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی، جنگ کی طوالت، امریکہ میں اُن کے خلاف جاری مظاہروں، مقبولیت میں کمی اور گزشتہ دنوں ایک تقریب میں اُن پر قاتلانہ حملے جیسے محرکات نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے، ان حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی بھی غلط فیصلے کی توقع بعید نہیں۔ اگر نیوکلیئر ہتھیار کا کوڈ اور بٹن دبانے کا اختیار ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوتا تو امریکہ، ایران پر اب تک ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ آور ہوچکا ہوتا جس کا اندیشہ امریکہ کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں کو بھی ہے اور گزشتہ دنوں امریکی صدر دباؤ میں آکر نیوی کے سربراہ کو برطرف کرچکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہنی دباؤ کی ایک وجہ امریکہ کے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کی حالیہ رپورٹ بھی ہے جس میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران پر حملوں کے7 ہفتوں کے دوران امریکی پیٹریاٹ سمیت دیگر جدید میزائلوں کے 50 فیصد ذخائر ختم ہوچکے ہیں جن کی مالیت 35 ارب ڈالر سے زائد ہے اور ایسی صورتحال میں اگر امریکہ کی کسی بڑی قوت سے جنگ ہوتی ہے تو امریکہ کے پاس دفاع کیلئے میزائل دستیاب نہیں ہوں گے، ایسے میں ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے مزید دفاعی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے اظہار اور سفارتی حکمت عملی کے درمیان توازن تیزی سے بگڑتا جارہا ہے، ایسے میں جوہری ہتھیار کے استعمال کی دھمکی صورتحال کو انتہائی خطرناک موڑ پر لے جاسکتی ہے۔ ایک طرف امریکہ، ایران پر حملے کی یہ دلیل دے رہا ہے کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار وں کے حصول سے روکنا چاہتا ہے، دوسری طرف امریکی صدر ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکہ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہیں، اگر طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا اور انسانیت کیلئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔