گواہ……
جنگ نے انسانی بستیاں مٹا دیں ، اب وہاں بس کتابیں بچی ہیں۔
کتابیں، جنھوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا کرب سہا۔
کتابیں، جو ایٹمی حملے کی تابکاری میں جھلس گئیں۔
یا پھر وہ، جن کا جنم سرد جنگ کی تاریکی اور تلخی میں ہوا۔
کتابیں جو افغانستان، عراق اور شام کا غم بیان کرتی ہیں،
جو پاکستان میں دہشت گردی کی سرخی کی گواہ ہیں۔
کتابیں، جن کی تلاش اب ایران تک جاتی ہے۔
لگتا ہے، ان کتابوں کا سفر کبھی نہیں رکے گا۔
کیوں کہ طاقتوروں پر جنگ کا جنون سوار ہے،
زندگی ارزاں ٹھہری، انسان بے وقعت ہوئے۔
اور کتابیں اس انسان دشمنی کی اکلوتی گواہ ہیں۔
تاریخ ان ہی کی گواہی پر اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔