• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کل ایک ریستوران میں بِل دیتے ہوئے مینیجر صاحب نے ہمیں مطلع کیا کہ آپ کے بینک کارڈ پر 15 فی صد رعایت دی جائے گی۔ ہم نے غنیمت جانا۔ ہمارے ساتھ والی میز پر ملک کے ایک معروف صنعت کار اپنے اہلِ خانہ کے ہم راہ ڈنر کر رہے تھے۔ انہوں نے بِل ادا کرنے کیلئے کارڈ نکالا تو ریستوران مینیجر نے مسکراتے ہوئے اعلان کیا کہ سر آپ کے پلاٹینیم کارڈ پر 50 فی صد رعایت ہے۔ یک دم کسی کا قولِ سدید یاد آیا کہ امیر آدمی کو ہر چیز سستی پڑتی ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ جو چیز عام آدمی کو سو روپے کی مل رہی ہے، وہ امراء کو کہیں کم قیمت پر دستیاب ہے۔ یہ معاملہ ریستوران تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے اکثر معاملات میں ایسا ہی ہے۔ یہ "سسٹم" کی برکات ہیں۔

غربت مہنگی پڑتی ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسے ہیں اور آپ مہینے بھر کی اکٹھی گروسری کریں گے، چیزیں زیادہ مقدار میں خریدیں گے، تو اشیائے خور و نوش کم نرخوں پر ملیں گی، اور اگر آپ محلے کی دکان سے روزانہ آدھا کلو چاول اور پاؤ بھر آئل خریدیں گے تو آپ زیادہ قیمت ادا کریں گے،"کُھلا"سگریٹ لیں گے تو مہنگا پڑے گا، اگر کوئی مالی مجبوری کے باعث بجلی کا بِل مقررہ وقت پر ادا نہیں کرے گا تو وہ جرمانہ ادا کرے گا، اگر بچوں کی فیس دینے میں تاخیر ہو گی تو جرمانہ دینا ہو گا، بینک بھی امراء کو کم ریٹ پر قرض دیتے ہیں اور عام آدمی کو اگر قرض دے ہی دیں تو کہیں زیادہ ریٹ پر یہ احسان کرتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، غربت مہنگی پڑتی ہے، بہت مہنگی۔ اسی طرح اگر موسموں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو گرمیاں بھی بہت مہنگی پڑتی ہیں، خاص طور پر متوسط طبقے کو۔ درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ ٹاپا تو اطلاع ملی کہ فریج کام چھوڑ گیا ہے، گیس بھروانی پڑے گی، ایئر کنڈیشنرز کی سروس کروائی گئی تو ہمیشہ کی طرح اطلاع ملی کہ دو اے سیز کی گیس خارج ہو گئی ہے، گاڑی کا اے سی کام نہیں کر رہا گیس بھروانی پڑے گی، یو پی ایس کی بیٹریاں بیٹھ گئی ہیں، بجلی کا بل جھٹکے دے رہا ہے۔ سولر صارفین نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقل ہو کر بولائے پھرتے ہیں۔ سولر کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

حکومت دو سال سے اس مسئلے پر مضطرب ہے، حکومتی بابو نت نئے فارمولے وضع کرتے رہتے ہیں کہ کسی طرح سولر بجلی بنانے والوں کو لگام ڈالی جائے، اسی کا شاخسانہ ہے کہ حکومت عوام سے جو بجلی خریدتی ہے اس کی قیمت یک مشت کم کر دی گئی ہے جب کہ جو بجلی حکومت بیچتی ہے اس کے دام مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں۔ بجلی اور سولر صارفین کی ہر فریاد کا حکومت کے پاس ایک ہی جواز ہوتا ہے۔ کپیسٹی چارجز! بجلی کمپنیوں سے معاہدوں کے تحت ان سے بجلی خریدو نہ خریدو، انہیں ایک مخصوص رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ بجلی گھر بند پڑے ہیں لیکن انہیں اربوں روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔ اور یہ بوجھ عوام پر ڈالنے کی سعی ہر دم جاری رہتی ہے۔ عوام کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے، اور بہت درد ناک سزا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بجلی گھروں کے مسئلے میں عوام کو مکمل اندھیرے میں رکھا گیا ہے، ان کمپنیوں سے کب تک کے معاہدے ہیں، کتنے معاہدوں کی تجدید کی گئی ہے، یہ دیوانگی کب تک جاری رہے گی، اس سرنگ کا کوئی اختتام ہے کہ نہیں؟ کچھ معلوم نہیں۔ حکومت نے آج تک اس کا کوئی حل پیش نہیں کیا، نہ اس پر کوئی واضح حکومتی موقف ہے، حکومت کا رویہ ایسا ہے جیسے عوام کو تلقین کی جا رہی ہو کہ اس عذاب کو قسمت کا لکھا سمجھ کر صبر شکر کر لیں۔ طُرفہ تماشا یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب کم ہے، رسد کہیں زیادہ ہے، مگر ملک میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ یعنی گاڑی خرید لی گئی ہے اور پٹرول کے پیسے نہیں ہیں۔ ہمارا بجلی کا سارا نظام اس قابل ہے کہ اسے دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں عبرت کیلئے شامل کیا جانا چاہیے، "ہاو ناٹ ٹو رن آ پاور سسٹم۔"

مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے، پٹرول کی قیمت قریباً 400 روپے فی لٹر تک پہنچ چکی ہے جس کے اثرات اب استعمال کی ہر چیز پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ متبادل توانائی کے ذرائع تلاش کرنے میں ہماری ناکامی مسلمہ ہے۔ حتیٰ کہ الیکٹرک وہیکلز کے ضمن میں ہمارا رویہ آج تک مبہم ہے۔

آج ہی ایک حکومتی بیان دیکھا کہ "اب" الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے تحت آج بھی بینک الیکٹرک گاڑیوں کیلئے30 فی صد سے زیادہ قرض نہیں دیتے، یعنی آج بھی ملک میں پٹرول گاڑیاں بنانے والے چند افراد کا مفاد مقدم ہے۔ اور آج کی ہی ایک خبر ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کی درآمد اور تنصیب کی راہ میں حکومتی قوانین روڑے اٹکانے کے مترادف ہیں۔ مختصراً قضیہ یہ ہے کہ عوام کا مسئلہ نمبر ایک مہنگائی ہے، پٹرول کی قیمت کو آگ لگی ہوئی ہے جو مہنگائی کے طوفان کا باعث ہے، پٹرول کی درآمد پر ہمارے قریباً سارے ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں، پٹرول اور گیس سے ہمارے بیشتر پاور پلانٹس چلتے ہیں۔ الیکٹرک سواریاں اور سولر بجلی ہمارے کئی مسائل حل کر سکتے تھے، مگر، افسوس، ہزار افسوس، کہ حکومتیں عوام کے بجائے گروہی مفادات کی حفاظت پر مامور ہیں۔ پچھلے سال مئی میں ہم نے بھارت کو دھول چٹا دی، حرمین کے تحفظ کیلئے ہم سے دفاعی معاہدہ کیا گیا، اور اب پاکستان ثالثِ اعظم کے منصب پر براجمان ہے۔ یہ سب درست ہے۔ مگر احمد مشتاقؔ کہتے ہیں:

موسمِ گُل ہوکہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی

ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں

تازہ ترین