بہت عرصے سے نزلے نے ہمیں اور ہم نے نزلے کو کچھ نہیں کہا تھا۔ ہم دونوں پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کی ، دوسروں پر جارحیت کو نظر انداز کر رہے تھے۔ کیونکہ طے یہی پایا تھا کہ برادرم نزلہ صاحب کو جہاں کوئی عضو ضعیف نظر آئے وہ اس پر گرنا چاہیں تو گر جائیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا بس وہ اتنا خیال رکھیں کہ ہم سے سات گھر پرے رہیں۔ اس کے جواب میں ہماری طرف سے خیر سگالی کے طور پر انہیں یہ پیشکش تھی کہ ہم دنیا جہاں کی " بیماریوں " پر اظہار خیال کریں گے مگر قلم کا رخ کبھی ان کی طرف نہیں پھیریں گے۔
اس معاہدے پر ہماری طرف سے پوری دیانت داری کے ساتھ عمل ہو رہا تھا۔ مگر اب گزشتہ روز نزلے زکام نے ہم پر شب خون مار کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ سو ہمارا مشتعل ہونا ایک فطری چیز ہے۔ لہٰذا اب اگر ایک آدھ جملہ ہماری طرف سے بھی ہو جائے تو موصوف کو پوری وسیع النظری اور فراخدلی سے اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جس طرح اہل ہند اپنے "بیرونی دوستوں کا کھلے بازؤں سے خیر مقدم " کرتے رہے ہیں۔سو خواتین و حضرات بات دراصل یہ ہے کہ یہ نزلہ، زکام ایک انتہائی گھٹیا قسم کی بیماری ہے۔ اس کا حسب نسب بھی مشکوک ہے۔ یہ انتہائی بزدل قبیلے کا فرد ہے کبھی اپنے سے طاقت ور پر حملہ آور نہیں ہوتی بلکہ جسے کمزور پاتی ہے اس پر حملہ آور ہو جاتی ہے۔ اور حملے کی صورت بھی وہ نہیں جو مرگی، ہارٹ اٹیک یا گردے کی تکلیف ہے کہ دیکھنے والے کو بھی محسوس ہو کہ واقعی کسی موذی بیماری نے حملہ کیا ہے اور یوں اس کی ہمدردیاں حاصل ہو جائیں۔ بلکہ اس کی بجائے یہ اپنے ہدف کو بظاہر تر و تازہ رکھتی ہے وہ کھانا بھی کھاتا ہے، چلتا پھرتا بھی ہے۔ اٹھتا بیٹھتا بھی ہے۔ دوست آجائیں تو ہنس بول بھی لیتا ہے۔ مگر ان سب سرگرمیوں کے باوجود وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ نہ لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے اور نہ سوچ سکتا ہے اور یوں اگر دیکھا جائے تو یہ بیماری خاص ’’آمرانہ‘‘ قسم کی خصوصیات کی حامل ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اس کا زوال بھی بہت جلد شروع ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ بقول شخصے اس کا اگر علاج کرایا جائے تو ایک ہفتے میں آرام آجاتا ہے اور اگر علاج نہ کرایا جائے تو مریض ساتویں دن ٹھیک ہو جاتا ہے۔
سچ پوچھیں تو اس مرض کو سر پر چڑھانے والے بھی ہمارے طبیب ہی ہیں۔ جو مریض کو اس آمر بیماری کے خلاف سینہ سپر ہونے کی تلقین کی بجائے اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مشورے دیتے ہیں۔ ان طبیبوں کی منطق یہ ہے کہ یہ مرض گرد و غبار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا مریض کو چاہئے کہ وہ فورا گھر میں محبوس ہو کر رہ جائے اور ’’تا حکم ثانی‘‘ سڑکوں پر نہ نکلے۔ یہ طبیب حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ مریض کو اس مرض کے دوران آرام کرانا چاہئے۔ چنانچہ وہ خواب آور گولیاں مریض کو کھلا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ جاگتے ہوئے بھی غنودگی کی کیفیت میں رہتا ہے اور یوں کسی کام کا نہیں رہتا۔ ہمارے طبیب اس مرض کے دوران مریض کو سوچنے سمجھنے اور لکھنے پڑھنے کے کام سے بھی روکتے ہیں اور مریض بیچارہ ان تمام احکامات کی تعمیل کرتا ہے۔ جس کے " مثبت نتائج " یہ برآمد ہوتے ہیں کہ وہ واقعی ٹھیک ہو جاتا ہے مگر یہ ٹھیک ہونا ایسا ہے جیسا کہ ایک شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
سو اب جبکہ زکام نے ہم پر حملہ کیا ہے اور یوں پر امن بقائے باہمی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس ذاتی مسئلے کو قومی مسئلہ بنا کر پیش کریں۔ کیونکہ جو بیشتر قومی مسائل ہمارے سامنے آئے ہیں ان کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی ذاتی مسئلہ ہی ہوتا ہے اور یہ تو ویسے بھی قومی مسئلہ ہے کیونکہ آج کل صرف ہم ہی نہیں پوری کی پوری قوم نزلے زکام کے حملے کی زد میں آئی ہوئی ہے اور اپنے طبیبوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھروں میں محبوس ہے۔ خواب آور گولیاں کھا رہی ہے۔ غنودگی کی کیفیت میں ہے اور لکھنے پڑھنے سوچنے سمجھنے تک سے توبہ کر چکی ہے چنانچہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مرض ہی کے نہیں، ان طبیبوں کے خلاف بھی صف آرا ہوں۔ جو اس مرض کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں ہم ذاتی طور پر کسی قسم کے تعاون سے معذور ہیں کیونکہ ہم ان دنوں ذرا بیمار شمار ہیں۔ البتہ ہماری دعائیں اور تمام نیک خواہشات عوام کے ساتھ ہیں اس کے علاوہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جب مریض اپنے مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خوشی میں جلوس نکالیں گے۔ ہم اس جلوس کی قیادت کریں گے اور اس سلسلے میں کسی قسم کے گردو غبار کو بھی خاطر میں نہیں لائیں گے۔