• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑےشاعرکے کلام کاکمال یہ ہوتاہے کہ ہر کوئی اس سے اپنے مطلب کی بات نکال لیتا ہے، کبھی تشریح اور کبھی پیروڈی کرتے ہوئے! یہ ہاتھ غالب کے ساتھ بہت ہوا ہے، شارحین نے کیسے کیسے نکتے اس کے کلام میں سے’دریافت‘ کئے ہیں۔ کچھ نے توایجاد بھی کئے ہیں چنانچہ غالب نے تو جو کہنا تھا، وہ کہا، یار لوگوں نے اس میں پلے سے بھی بہت کچھ ڈالا ہے۔ اب یہ کل ہی کی بات ہے، ایک دوست نے پوچھا تم نے غالب کا یہ شعر سنا ہے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

میں نے کہا بیسیوں مرتبہ سنا ہے، کیا شاندار شعر ہےبولے تم نے شعر کی تعریف تو کر دی ، اب اس کا مطلب بھی بتاؤ یہ سن کر میں ہنسا اور عرض کی ’میرے یار، میں پچیس سال تک اپنے طلبہ کو اردو پڑھاتا رہا ہوں ، اب تم اس طرح میرا امتحان لے کر مجھے ذلیل تو نہ کرو ۔‘

فرمایا تمہیں ذلیل کرنا مقصد نہیں بلکہ مقصد صرف تمہاری اصلاح کرنا ہے، لہٰذا شروع ہو جاؤ، شعر کا مطلب بتاؤ ۔اب مجھے تجسس ہوا کہ دیکھیں یہ اصلاح کس نوعیت کی ہے چنانچہ میں نے فرفر بولنا شروع کر دیا کہ غالب اپنے محبوب کے ملاپ کیلئے ترسا ہوا تھا لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا ملاپ میسر نہیں ہوا بلکہ محبوب کی سنگدلی اور لا پروائی کو دیکھتے ہوئے وہ اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ اگر مجھے مزید عمر بھی ملتی، تب بھی میں اس کے ملاپ سے محروم رہتا !

اس بار میرے دوست کے ہنسنے کی باری تھی، جی کھول کر ہنسنے کے بعد اس نے مجھے مخاطب کیا اور پوچھا ’’ایک بات بتاؤ کیا غالب اپنے محبوب سے اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں خوش نظر آیا ؟‘‘میں نے جواب دیا ’نہیں، بلکہ وہ تو مسلسل اس کی بے وفائی سے شا کی دکھائی دیتا ہے اور اسے ہر جائی کہتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اکثر غم وغصے کا اظہار کرتا رہتا ہے‘۔

یہ سن کر میرے دوست نے اطمینان کا سانس لیا اور بولا ’’اب تمہیں اس شعر کا صحیح مفہوم سمجھ میں آئے گا۔ میرے دوست! اس شعر میں وصال کا مطلب ملاپ نہیں ، انتقال ہے، غالب کہتا ہے کہ میں ساری عمر اس ہر جائی محبوب کے انتقال کی خواہش کرتا رہا لیکن میری بدقسمتی کہ وہ ابھی تک میرے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔ میری بات یاد رکھو ایک کامن ویلتھ قسم کے محبوب سے ملاپ کی خواہش میں اور تم تو کر سکتے ہیں غالب ایسا خود دار اور غیرت مند شاعر نہیں کر سکتا، چنانچہ اس شعر میں وہ بہت دکھ سے یہ بات کہہ رہا ہے کہ یہ نابکار محبوب نہ ملتا ہے،نہ مرتا ہے۔ مجھے غالب اپنی اس صاف گوئی ہی کی وجہ سے تو اچھا لگتا ہے۔‘‘

اسی طرح ایک صاحب بہت عرصے سے مومن خاںمومن کے اس شعر

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

کا حلیہ بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس شعر میں مومن اپنے محبوب کو یہ خراج تحسین پیش نہیں کر رہاکہ میں تمہیں اس وقت بھی اپنے پاس محسوس کرتا ہوں، جب میں بالکل تنہا ہوتا ہوں بلکہ وہ تو سیدھا سیدھا صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ میں تم سے صرف اس وقت ملتا ہوں جب کوئی اور مجھے دستیاب نہیں ہوتا، تم نےاللّٰہ کو جان دینی ہے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ’’ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا“ کا مطلب اس کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتاہے؟

ان صاحب نے اس ضمن میں ایک دلیل اور بھی دی اور وہ یہ کہ اگر یہ شعر کسی اور کا ہوتا تو اس کا وہ مطلب لیا جا سکتاتھا جو عام طور پر لیا جاتا ہے، لیکن یہ شعر مومن کا ہے اور مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا لہٰذا اس شعر میں ایک نہیں، اپنے بہت سے دوسرے محبوبوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

کچھ کچھ اس طرح کا حال ایک ا سکول ماسٹر نے اقبال کےساتھ بھی کیا تھا، وہ طلبہ کو پڑھا رہا تھا’’آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز،بچو! اگر عین لڑائی کے دوران نماز کا وقت آگیا،قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز،قوم حجاز کا مطلب ہے عرب قوم، تو عرب قبلے کی طر ف منہ کر کے اللّٰہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے ۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔بچو! محمود بادشاہ تھا اور ایاز اس کا غلام تھا، مطلب یہ کہ آقا اور غلام ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے:اتنے میں دشمن نے کر دیا حملہ اورپھر کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازاور آخر میں ایک دفعہ پھر غالب یاد آ گیا، ان کے شعر

’’موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی ‘‘

کی جو تشریح ایک سردار جی نے کی تھی ، وہ کسی اور شارح اور خودغالب کے ذہن میں نہیں آئی ہوگی، سردار جی کے بقول غالب صاحب فرماتے ہیں’’موت کا ایک دن معین ہےیعنی یہ طے ہے کہ موت دن کے وقت آتی ہے اور جب یہ طے کہ موت دن کے دوران آئے گی تو پھر اس کے خوف سے رات کو جاگنے کی کیا تک ہے؟‘‘

خدا کا شکر ہے کہ ہمار ے ان کلاسیکی شعراء تک شارحین کی یہ شرح نہیںپہنچی ورنہ ان کی وصال کی خواہش وقت سے پہلے پوری ہو جاتی ہے۔

تازہ ترین