انصار عباسی
اسلام آباد :…پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں ایک بڑا تضاد مقامی ریفائنریز کیلئے غیر معمولی (وِنڈ فال) منافع اور صارفین پر مسلسل مالی بوجھ کا سبب بن رہا ہے، حالانکہ حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں قیمتوں کے فارمولے میں نظرِ ثانی کی تھی۔ تیل کی صنعت کے ذرائع کی جانب سے مارچ اور اپریل 2026ء کے سرکاری قیمتوں کے اعداد و شمار کے تفصیلی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں اور خام تیل کے بینچ مارکس کے درمیان وسیع فرق نے حکومت کی جانب سے فارمولے میں تبدیلی کے باوجود ریفائنریز کو غیر معمولی منافع کمانے کا موقع دیا، جس سے ریگولیٹری مداخلت کے موثر اور بروقت ہونے پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ پاکستان میں قیمتوں کے نظام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کو امپورٹ پیریٹی پرائسنگ (IPP) کے ذریعے بین الاقوامی بینچ مارکس سے منسلک کیا جاتا ہے۔ ریفائنریز کو انہی بینچ مارکس کی بنیاد پر ایکس ریفائنری قیمتیں ملتی ہیں، جن میں ڈیَمڈ ڈیوٹی کے ذریعے مارجن کا تحفظ بھی شامل ہوتا ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ٹیکسز اور ترسیلی اخراجات شامل کر کے ریٹیل قیمتیں طے کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ریفائنریز کی آمدنی کا بنیادی انحصار ’’کریک اسپریڈ‘‘ (Crack Spread) یعنی خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی قیمتوں کے درمیان فرق پر ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق عام طور پر ایک مستحکم نمونے پر چلتا ہے، لیکن مارچ میں اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس سے قیمتوں میں بڑی سطح پر بگاڑ پیدا ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2026ء میں Platts کے مطابق ڈیزل کی اوسط قیمت 193.96؍ ڈالر فی بیرل رہی جبکہ عرب لائٹ خام تیل کی قیمت 108.45؍ ڈالر فی بیرل تھی، جو تقریباً 180؍ فیصد کا تناسب بنتا ہے۔ تاریخی لحاظ سے کریک اسپریڈ کو دیکھا جائے تو ڈیزل کی قیمت تقریباً 124.72؍ ڈالر فی بیرل ہونا چاہئے تھی، لیکن اضافی مارجن اوسطاً 69.24؍ ڈالر فی بیرل رہا، جو ایکس ریفائنری سطح پر تقریباً 121.51؍ روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فرق 30؍ مارچ کو عروج پر پہنچ گیا جب ڈیزل کی قیمت 250.63؍ ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ خام تیل 113.69؍ ڈالر فی بیرل تھا، جس سے فرق تقریباً 220؍ فیصد تک جا پہنچا۔ ڈیزل کی مقامی پیداوار چار لاکھ 90؍ ہزار میٹرک ٹن ریکارڈ ہونے کے باعث اندازہ ہے کہ ریفائنریز نے صرف مارچ میں تقریباً 60؍ ارب روپے کا اضافی منافع کمایا، جس میں سے تقریباً 25؍ ارب روپے ماہ کے آخری ہفتے میں حاصل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق، ابتدائی متعدد انتباہ کے باوجود حکومت بروقت اقدام نہ کر سکی۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں یہ فرق مارچ کے آغاز میں ہی درست کیا جانا چاہئے تھا، لیکن پورا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا اور ریفائنریز کو غیر معمولی منافع کمانے کا موقع دیا گیا۔ جب تنقید بڑھ گئی تو حکومت نے اپریل میں تین ماہ کیلئے عارضی طور پر کاسٹ پلس (Cost-Plus) پرائسنگ فارمولہ متعارف کرایا، جس میں امپورٹ پیریٹی ماڈل کی جگہ ڈیزل قیمت کا تعین دبئی خام تیل کے ساتھ 52.89؍ ڈالر کے مقررہ کریک اسپریڈ پر کیا گیا، جس میں پریمیم اور فریٹ شامل ہیں۔ اگرچہ نظرِ ثانی شدہ فارمولہ کم کریک اسپریڈ کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم ریگولیٹر اعلیٰ حد کو ترجیح دیتا ہے جس سے ریفائنریز کو زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق نئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ اس تبدیلی سے فرق میں کچھ کمی آئی، لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اپریل میں ڈیزل کی اوسط قیمت 189.27؍ ڈالر فی بیرل رہی جبکہ عرب لائٹ خام تیل 115.06؍ ڈالر فی بیرل تھا، یعنی تقریباً 164؍ فیصد کا فرق۔ تاریخی لحاظ سے کریک اسپریڈ کو دیکھیں تو ڈیزل کی قیمت 132.32؍ ڈالر فی بیرل ہونا چاہئے تھی، جس سے 56.95؍ ڈالر فی بیرل یا تقریباً 100؍ روپے فی لیٹر اضافی مارجن برقرار رہا۔ نظرِ ثانی شدہ فارمولے کے تحت ڈیزل کی اوسط قیمت 277.10؍ روپے فی لیٹر رہی، جو سابقہ نظام کے تحت 332.16؍ روپے فی لیٹر کے مقابلے میں کم تھی، لیکن خام تیل پر مبنی 232.22؍ روپے فی لیٹر کی سطح سے اب بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظرِ ثانی کے بعد بھی ڈیزل تقریباً 30؍ روپے فی لیٹر مہنگا رہا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکام کو اپریل کے آغاز میں اس تضاد سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن ’’میڈیا میں معاملہ سامنے آنے تک اسے نظر انداز کیا گیا‘‘، جس کے بعد فارمولہ تبدیل کیا گیا۔ تاہم، تبدیلی کے بعد بھی خدشات برقرار ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق، قیمتوں میں فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور ریفائنریز کو اب بھی اضافی مارجن دیا جا رہا ہے۔ مالیاتی نتائج بھی ان خدشات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ چار ریفائنریز نے جنوری تا مارچ سہ ماہی میں مجموعی طور پر 72.2؍ ارب روپے منافع رپورٹ کیا، جو اس سے قبل کے چھ ماہ میں 27.3؍ ارب روپے تھا۔ ان آمدنیوں کا بڑا حصہ مارچ میں ڈیزل کے بلند مارجن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان اعداد و شمار میں پارکو شامل نہیں، جو لسٹڈ کمپنی نہیں ہے۔ دریں اثناء مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے پر غور کیا جا رہا ہے، جو صارفین پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اصلاحی اقدام کو ماضی سے لاگو کیا جانا چاہئے تھا۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ نظرِ ثانی شدہ فارمولہ 26؍ مارچ سے نافذ ہونا چاہئے تھا اور اس کے بعد حاصل ہونے والے اضافی منافع کی ریکوری ہونا چاہئے تھی۔ اس کے برعکس ذرائع کے مطابق، بوجھ بدستور صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔ ذریعے کے مطابق، اضافی منافع کی ریکوری کی بجائے حکومت نے قیمتوں میں 27؍ روپے بڑھا دیے۔ تمام تر پیشرفت کے نتیجے میں پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کے نظام پر دوبارہ نظرثانی کا امکان ہے، جبکہ یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مقامی ایندھن کی قیمتوں کو خام تیل کے بینچ مارکس سے زیادہ ہم آہنگ کیا جائے اور عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ریفائنریز کا غیر معمولی منافع کو روکا جائے۔