• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احمدی ریلیجن آف پیس قادیانی نہیں  بلکہ نیا مذہب ہے

کراچی (نیوز ڈیسک) احمدی ریلیجن آف پیس(اے آر پی ایل) قادیانی مذہب نہیں بلکہ ایک نیا مذہب ہے جس کے سربراہ خود کو وقت کا دوسرا امام مہدی اور اپنا تعلق عیسائی مذہب سے بھی جوڑتے ہیں  اور خود کو عیسی مسیح  کا پیرو کار کہتے ہیں، یہ خبر برطانوی میڈیا میں  تھی  برطانوی میڈیا نے بھی  واضح طور پر ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ جس سے یہ تاثر ملے کہ اس مذہب کے ماننے والے قادیانی نہیں ہیں۔ جنگ اخبار  میں جمعرات30 اپریل کی اشااعت میں  اس نئے مذہب کو قادیانی مذہب لکھا گیا ہے تاہم یہ قادیانی نہیں بلکہ  ایک اور نیا مذہب ہے اور اس   اور دارہ اس  سہو پر معذرت خواہ ہے جبکہ  ادارے کی دوسری  میڈیا اوٹ لیٹس  نے  اس خبر کو درست شائع اور نشر کیا ہے۔اے پی آر ایل کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق 23 سال قبل،1999 میں عراق کے شہر بصرہ میں احمد الحسن نامی  شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ نعوذباللہ امام مہدی کا بھیجا ہوا پیغمبرہے۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ احمد الحسن کے علاوہ  دنیا میں کوئی بھی شخص امام مہدی ہونے کے معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ ویب سائٹ پر درج معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 23 جنوری 2015 کو(نعوذباللہ) الٰہی پکار دنیا کی وہ واحد آواز تھی جس نے عبداللہ کی وفات پر امام مہدی کے ظہور کا اعلان کیا، انہوں نے ہی خود ساختہ طور پر اپنے روحانی بیٹے عبداللہ ابا الصادق کو اپنا جانشین بھی مقرر کیا۔اس کے بعد عبداللہ ہاشم نے احمد الحسن کے جانشین کے طور پردوسرے مہدی ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد عبداللہ ہاشم نےاے آر پی ایل کی بنیاد رکھی۔ ویب سائٹ پر درج مزید معلومات کے مطابق اس نئے مذہب کو ماننے والے پیروکاروں کے نظریات میں سے ایک یہ ہے کہ ہم آخری زمانے میں جی رہے ہیں اور یہ کہ زمین کبھی بھی کسی ایسے الٰہی رہنما سے خالی نہیں ہوتی جسے خدا نے مقرر کیا ہو اور وہ اس کے احکامات پر عمل کرتا ہو۔ اس عقیدے کے ماننے والے اس دور میں انبیاء، رسولوں اور صالحین کی واپسی پر بھی یقین رکھتے ہیں تاکہ وہ امام مہدی کے مشن میں ان کی مدد اور نصرت کر سکیں۔

اہم خبریں سے مزید