کہنے کو تو انگلستان کے شاہ چارلس سے امریکی صدر کی گفتگومیں یہ اعتراف کہ میری والدہ آپ پر دل و جان سے فدا تھیں کی شرح ظہورندیم اور مبشر زیدی کر چکے ہیں کہ ان کی مراد یہ ہے کہ اس وقت آپ جو ملکہ ساتھ لئے پھر رہے ہیں وہ آپ کی اماں دکھائی دیتی ہیں،یہ طعنہ کسی کو اچھا لگے یا نہیں لیڈی ڈیانا کے بعد برطانیہ کے بادشاہ کو ممکن ہے اپنی والدہ یا کسی وزیر اعظم نے مشورہ دیا ہو ڈیانا جیسی مضطرب روح کو پھر سے بکنگھم پیلس لانے کی کوشش نہ کرنا،پاکستان میں عام لوگوں میں سے بہت سے لوگ ایک ہی شہزادی کا نام جانتے ہیں اور وہ ڈیانا ہے اور جب وہ عمران خان کے کینسر ہسپتال کے لئے امدادی عشائیوں میں شریک ہوتی تھیں تو بعض خوش خیالوں نے کہنا شروع کیا کہ کہ وہ خان کے ایک شرمیلے کزن ڈاکٹر حسنات کے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کرنے کیلئے تیار تھیں کسی ڈاکیومننڑی میں یہ سب کچھ فلمایا بھی گیا ہے ممکن ہے ہمارے مصروف لیکن باذوق وزیرِ اعظم نے یہی فلم دیکھ کر اسی ماہرِ امراض قلب کو جناح پوسٹ گریجویٹ سنٹر کا مدارالمہام بنا دیا ہے رہی سہی کسر بانو قدسیہ مرحومہ نے یہ لکھ کے پوری کر دی کہ ڈاکٹر حسنات،تلقین شاہ یعنی اشفاق احمد کے بھانجے ہیں اور لیڈی ڈیانا لاہور میں ہمارے گھر میں بھی آئی تھیں۔
ممکن ہے یہی وہ زمانہ ہو جب شہزادی ڈیانا پاکستانی شلوار قمیض پہننے لگی تھیں۔ہمارے نو جوان ترقی پسند اشفاق احمد کو پسند نہیں کرتے تھے مگر انتظار حسین مرحوم نے مجھ سے کہا تھا کہ اشفاق کو تو تخلیقی سفر کے آغاز میں گڈریا جیسا افسانہ لکھنا نصیب ہو گیا تھا۔ اشفاق احمد بات کرنے کا ڈھنگ جانتے تھے۔چین کے عظیم لیڈر ماؤزے تنگ کی صحت کے بارے میں امریکی میڈیا جب پریشان کن خبریں پھیلاتا تھا تو ماؤ دریائے یانگسی کے ٹھنڈے یخ پانی میں چھلانگ لگا کے اس کے دوسرے کنارے پر پہنچ جاتے تھے اور وہاں کھڑے لوگوں سے ہاتھ ملاتے تھے اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ میں خود بھی ایک موقع پر وہاں تھا اور میں نے ہاتھ ملایا تھا پھر بہت عرصے تک کسی اور سے ہاتھ نہ ملایا کہ عظیم ماؤ کے لمس کو دوام دینا چاہتا تھا۔ یہ سب باتیں اس لئے بھی یاد آرہی ہیں کہ ہمارے ہاں جب آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے باتیں پھیلتی ہیں تو وہ چین کی طرف ایک چھلانگ لگاتے ہیں اس مرتبہ وہ پانچ دن کے سرکاری دورے پر گئے اور یکم مئی کو واپس آئیں گے۔ وہ عظیم ماؤ کے آبائی شہر بھی گئے اور وہاں موجود میوزیم میں بھی گئے جہاں چھوٹی چھوٹی چینی بچیاں انہیں پھول پیش کر رہی ہیں اس موقع پر وہ اگر آصفہ بھٹو کو ساتھ لے جاتے تو وہاں بچوں بچیوں پر بہتر تاثر پیدا ہوتا اور بیجنگ یونیورسٹی میں اردوپاک اسٹڈیز چیئر پر خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر عصمت ناز کوبھی ساتھ لے جاتے تو ان کی چینی بول چال سے زیادہ پائیدار تاثر ہوتا۔ آج پاک چین دوستی کے معمار ہونے کے کئی دعویدار ہیں مگر ذوالفقار علی بھٹو کا ماؤ کیپ پہننا اور دونوں ملکوں کے عوام کو تعلیم اور ثقافت سے قریب لانے کا عزم تو بہت سوں کو یاد ہوگا۔بھٹو تو صاحب قلم تھے وہ تو موت کی کوٹھڑی میں بھی بیٹھ کر لکھتے رہے’اگر میں قتل کر دیا گیا‘ کسی نے پولیس کے خوف سے نہیں پڑھی تو’بیٹی بے نظیر کے نام مکتوب‘ اور تو اور سپریم کورٹ کے ججوں سے ان کا تین روزہ خطاب سنسر شپ کے بعد اخبارات میں شائع ہوا جس کے بعد نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات کی ستم ظریف شہ سرخی بھی بہت سوں کو یاد ہو گی ’بھٹو نے سپریم کورٹ پر اپنے اعتماد کا اظہار کر دیا‘ ۔بھٹو کو ماؤ کی قیادت سے زیادہ چواین لائی کی عالمی امور پر واقفیت نے متاثر کیا۔
یکم مئی کو جب مزدور انجمنیں شکاگو کے مقتول مزدوروں کو یاد کریں گی تو شاید کوئی کالونی ٹیکسٹائل ملز میں مزدوروں کے قتل کا ذکر بھی کرے، کہ کس طرح ضیا الحق کے تشریف لانے کے سات ماہ بعد ہی اس ملز میں فائرنگ ہوئی، سرکاری پریس ریلیز جاری ہوا کہ چودہ فسادی مزدور فائرنگ کے نتیجے میں جان سے گئے مگر اس مل کی یونین کا دعویٰ ہے کہ ایک سو تینتیس لاشیں تو انہوں نے اٹھائیں ان کے علاوہ بھی درجنوں سائیکل تھے جو کوئی لینے نہ آیا، یہ وہ دور تھا کہ ملتان میں امروز اخبار تھا جو ولی محمد واجد، سعید صدیقی احمر ، مظہرعارف اور حشمت وفا جیسے مزاحمت کاروں کے ذریعے اس قتلِ عام کی خبریں دے رہا تھا۔ تب جی ٹی ایس، کھاد فیکٹری اور دیگر اداروں میں فعال انجمنیں تھیں جس کی وجہ سے یوم مئی پر طالب علم ، استاد اور وکیل خطاب کرتے تو فیض اور جالب ہی نہیں استاد دامن بھی ان کے ترجمان ہو جاتے اسی لئے جب ملک میں انیس سو ستر کے انتخابات ہوئے تو ملتان، مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے نتائج نے بہت سوں کو چونکا دیا۔
یہی نہیں ایوب خان اور پھر یحییٰ خان کی عنایات کے سبب ہر دور کے مشیرِ زراعت ملک خدا بخش بُچہ بھی تھے جو چواین لائی کیلئے اپنے باغ کے سب سے قیمتی آم چین لے گئے تھے ہمارے کالج فیلو ڈاکٹر کریم ملک مرحوم کی تعلیم و تربیت میں بڑے ملک صاحب کا اہم کردار ہے انہی سے بڑے ملک نے چواین لائی کی بدذوقی کا ذکر کیا کہ میں نے خاص آم انہیں دئیے تو انہوں نے اپنی رہائش میں قائم فیکٹری کے مزدوروں کو بھیج دئیے حالانکہ میں ان سے کہتا رہا یہ آپ کیلئے ہیں عام ورکروں کیلئے میں اور آم لایا ہوں،اس پر وہ عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے رہے۔
سرگودھا یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر نسیم عباس احمر ہیں ،ان کی بیگم ڈاکٹر سمیرا اعجاز ہیں جو ڈاکٹر نسیم کی طرح پوری احمر یا سرخ نہ بھی ہوں تو گلابی ضرور ہوں گی۔ ان کی کتاب’ علی عباس جلال پوری کے افسانے ‘ فیصل آباد سے شائع ہوئی ہے مجھے یقین ہے کہ یکم مئی کو لوگ عام فکری مغالطے والے علی عباس جلال پوری کا ذکر کریں گے،سبطِ حسن کو یاد کریں گے جنہیں بے شک ’کمالِ فن‘ایوارڈ نہیں ملا مگر کون ان کے فکری اثرات سے انکار کر سکتا ہے؟