• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو وقت کے نشیب و فراز سے گزر کر ایک استعارہ بن جاتے ہیں، اور صدر آصف علی زرداری انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کی زندگی صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ قربانی، استقامت، صبر اور سیاسی بصیرت کی ایک طویل داستان ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاست اکثر جذبات، الزامات اور وقتی بیانیوں کے گرد گھومتی ہے، آصف علی زرداری نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا، جسکی بنیاد مفاہمت، برداشت اور جمہوری تسلسل پر رکھی گئی۔ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ایک ایسے دور میں ہوا جب پاکستان شدید سیاسی کشمکش کا شکار تھا۔ شہید بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد وہ نہ صرف ایک سیاسی خاندان کا حصہ بنے بلکہ خود بھی ایک بڑے سیاسی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ انہیں مردِ حر کہا گیا، ایک ایسا لقب جو ان کی قید و بند کی صعوبتوں اور ثابت قدمی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کئی سال جیل میں گزارے، متعدد مقدمات کا سامنا کیا، لیکن کبھی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ وقت نے یہ ثابت کیا کہ ان پر لگائے گئے بیشتر الزامات سیاسی نوعیت کے تھے، اور عدالتوں سے بریت نے ان کے مؤقف کو تقویت دی۔

2007 میں جب محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو پاکستان ایک بڑے سانحے سے دوچار ہوا۔ اس نازک موقع پر آصف علی زرداری نے جس حکمت اور بردباری کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی سیاسی بصیرت کا واضح ثبوت ہے۔ "پاکستان کھپے "کا نعرہ دے کر انہوں نے نہ صرف ملک کو انتشار سے بچایا بلکہ جمہوری نظام کو بھی استحکام دیا۔ بعد ازاں بطور صدر، انہوں نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمان کو مضبوط کیا اور اپنے اختیارات محدود کر کے ایک نئی مثال قائم کی۔تاہم سیاست کا میدان ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا، خصوصاً اس دور میں جب سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے، خصوصاً 25 ا پریل 2026 تک، صدر آصف علی زرداری کے خلاف ایک منظم اور زہریلی مہم دیکھنے میں آئی، جس کا مرکز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) تھا۔ اس مہم میں نہ صرف سیاسی اختلاف کا اظہار کیا گیا بلکہ انتہائی افسوسناک حد تک ذاتی نوعیت کے حملے بھی کیے گئے، جن میں ان کی صحت سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد الزامات شامل تھے۔

پیپلز پارٹی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مہم کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی اس جماعت کی قیادت کو اسی طرح کے الزامات اور پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا۔ شہید بینظیر بھٹو کے خلاف بھی جھوٹے بیانیے بنائے گئے، لیکن وقت نے انہیں مسترد کر دیا۔ آج بھی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، جہاں ایک بار پھر ایک مقبول سیاسی شخصیت کو سوشل میڈیا کے ذریعے متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ دیا ہے، وہیں اس کا غلط استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ جھوٹی خبریں، افواہیں اور کردار کشی اب ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں آصف علی زرداری کے خلاف حالیہ مہم ایک مثال ہے کہ کس طرح سیاسی مخالفین جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ باشعور عوام اب اس طرح کے ہتھکنڈوں کو سمجھنے لگے ہیں۔آصف علی زرداری کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو اُن کا تحمل اور خاموشی ہے۔ وہ اکثر تنقید کا جواب الفاظ کے بجائے اپنے عمل سے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید ترین مہمات کے باوجود وہ نہ صرف سیاست میں موجود ہیں بلکہ ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کے نزدیک یہی استقامت ان کی اصل طاقت ہے، جو انہیں دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے۔

25 اپریل 2026ء تک جاری رہنے والی اس سوشل میڈیا مہم نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں سیاسی عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے مثبت انداز میں لیں۔ اگر کسی کو آصف علی زرداری کی پالیسیوں سے اختلاف ہے تو وہ اس پر دلیل کے ساتھ بات کرے، لیکن ان کی ذات یا صحت کو نشانہ بنانا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔پیپلز پارٹی کا بیانیہ ہمیشہ سے جمہوریت، برداشت اور عوامی خدمت کے گرد گھومتا رہا ہے۔ آصف علی زرداری اسی بیانیے کے نمائندہ ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکلات اور الزامات کے باوجود اگر انسان ثابت قدم رہے تو وہ نہ صرف خود کامیاب ہوتا ہے بلکہ ایک مثال بھی قائم کرتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سوشل میڈیا کا درست استعمال ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسے مثبت مقاصد کیلئے استعمال کریں، نہ کہ کسی کی تضحیک یا کردار کشی کیلئے۔ آصف علی زرداری کے خلاف حالیہ مہم ایک موقع ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور یہ طے کریں کہ ہم کس طرح کی سیاست اور معاشرہ چاہتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلاف ہو مگر احترام کے ساتھ، یا ایک ایسا ماحول جہاں جھوٹ اور نفرت کو فروغ دیا جائے۔صدر آصف علی زرداری کی جدوجہد، ان کی سیاسی بصیرت اور ان کے خلاف چلنے والی حالیہ مہم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچائی اور صبر کا راستہ کٹھن ضرور ہوتا ہے، لیکن بالآخر کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو نہ صرف پیپلز پارٹی کے کارکنوں بلکہ ہر باشعور پاکستانی کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔(مصنفہ سندھ اسمبلی کی رکن ہیں)

تازہ ترین