بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی کردی گئی۔
واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز کے مقابلے میں دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 11 ہزار 900 کیوسک کمی ریکارڈ کی گئی اور ہیڈمرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 9 ہزار کیوسک رہ گئی۔
واپڈا اعداد و شمار کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد میں کمی کے بعد دریائے چناب میں پانی کا اخراج صرف 1100 کیوسک ہے، جو گزشتہ روز 13ہزار کیوسک سے زیادہ تھا۔
ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں گز شتہ روز پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک تھی جبکہ اخراج 13 ہزار 100 کیوسک تھا، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں یکم مئی کو بھی پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک تھی۔
ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں 30 اپریل کو پانی کی آمد 25 ہزار 200 کیوسک اور اخرج 17 ہزار 400 کیوسک تھا۔
ذرائع کے مطابق بھارت دریائے چناب پر 850 میگا واٹ کا رتلے پن بجلی منصوبہ بنا رہا ہے، پاکستان نے بھارت کی جانب سے پاکستان آنے والے دریاوں پر زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن پر عالمی ثالثی عدالت میں اعتراضات بھی کر رکھے ہیں، بھارت فلشنگ کے ذریعے بھی پاکستان دریاؤں کے پانی کو متاثر کرتا رہتا ہے۔
بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی کردی گئی ہے، گزشتہ روز کے مقابلے میں دریائے چناب میں آج پانی کی آمد میں 11 ہزار 900 کیوسک کمی ہوئی۔
واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 9 ہزار کیوسک رہ گئی، آج ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا اخراج 1 ہزار100 کیوسک ہے۔