28 فروری سے جاری امریکہ ایران جنگ کے 60 دنوں میں دنیا کو بھاری معاشی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔خطے میں کشیدگی کی وجہ سے دنیا کا 60 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل پیدا نہیں کیا جاسکا جسکے اثرات عالمی معیشت کو متاثر کریں گے۔ ایندھن کی یہ مقدار امریکی فوج کے 6 سال کے ایندھن کی ضرورت یا عالمی شپنگ انڈسٹری کو4 ماہ تک چلانے کیلئے کافی تھی۔ خلیجی ممالک میں 80لاکھ بیرل تیل کی پیداوار اور جیٹ فیول کی سپلائی میں بھی کمی آئی ہے جو ایک کروڑ 96 لاکھ بیرل سے کم ہوکر صرف 41 لاکھ بیرل رہ گئی۔ جیٹ فیول کی قیمتیں دگنی ہونے کی وجہ سے 20 ہزار سے زائد بین الاقوامی پروازوں کو ایندھن فراہم نہیں کیا جاسکا۔ تیل کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے یہ نقصان 60 ارب ڈالر بنتا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی فی بیرل قیمتیں 120 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جو آج 115 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہے جبکہ ایران پر امریکی حملے سے پہلے تیل کی قیمتیں 70 ڈالر فی بیرل تھیں۔ کھاد کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافے سے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو غذائی قلت کا سبب بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 83 فیصد تیل کا خریدار ایشیا ہے اور صرف 7.5 فیصد تیل اس بحری راستے سے یورپ ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ پنٹاگون کی جانب سے امریکی کانگریس کو فراہم کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران جنگ پر اب تک 60 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہوچکے ہیں۔ یو اے ای کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلاما نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسن اور امریکہ کے مرکزی بینک کے سربراہ سے 20 ارب ڈالر کے کرنسی سواپ سہولت کی درخواست کی ہے۔ خلیج میں سعودی عرب کے بعد یو اے ای کے پاس دوسرے نمبر پر 270 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں جس میں 215 ارب ڈالر مرکزی بینک کے ذخائر ہیں جبکہ پہلے نمبر پر سعودی عرب کے پاس 445 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔ کرنسی سواپ سہولت سے یو اے ای اپنی مقامی کرنسی درہم کے بدلے ڈالر حاصل کرسکے گا جسکی اسے موجودہ معاشی بحران میں ضرورت ہے۔ کرنسی سواپ ایک ہنگامی مالی امداد ہوتی ہے جو 2008 کے مالیاتی بحران اور 2020 میں کوویڈ وبا کے دوران برطانیہ، کینیڈا اور یورپی یونین نے بھی مانگی تھی جو اب یو اے ای مالی نقصانات کی بنیاد پر مانگ رہا ہے کیونکہ ایمریٹس ایئر لائن اور یو اے ای کے ہوٹلوں کے کرائے 50 فیصد کم کرنے کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کار اور سیاح یو اے ای چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور یہ عالیشان ہوٹل آج خالی پڑے ہیں۔ سعودی عرب بھی چین سے چینی کرنسی یوآن میں تجارت کا خواہشمند ہے جس سے ڈالر کی اجارہ داری کم ہوگی۔ ان نقصانات کا اثر پاکستان سمیت خطے کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی جی ڈی پی اور اکانومی پر بھی پڑے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافے سے 30اپریل تک پاکستان میں افراط زر کی شرح بڑھ کر 10.9فیصد تک پہنچ گئی جسکی وجہ سے حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے افراط زر کو کنٹرول کرنے کیلئے اپنا پالیسی ریٹ ایک فیصد بڑھاکر 10.5 سے 11.5 فیصد کردیا ہے لیکن مالی لاگت میں اضافے سے ملکی ایکسپورٹ متاثر ہوں گی، تیل کی قیمتیں بڑ ھنے سے امپورٹ بل میں اضافہ ہوگا اور ایکسپورٹ میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھ جائیگاجس سے ہمارے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے پر دبائو بڑھے گا۔ خلیج میں جنگ کے باعث کنسٹرکشن اور دیگر شعبوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا جس سے مستقبل میں ملکی ترسیلات زر میں کمی متوقع ہے۔ ملک میں معیشت کی سست روی کی وجہ سے FBR کو رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں (جولائی 2025 سے اپریل 2026) میں ریونیو وصولی کے ہدف میں 684 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے اور رواں مالی سال ٹیکس وصولی کا ہدف ناممکن نظر آتا ہے۔ 1981 کی گلف وار میں جنگ بندی کے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر اور نقصانات کی ریکوری ایک طویل عمل تھا جسکے تقابلی جائزے سے معاشی پنڈتوں کی رائے ہے کہ حالیہ امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد آئل اور انرجی مارکیٹ کی سپلائی کی بحالی میں 6 سے 18 مہینے، تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے 3 سے 12 مہینے اور انرجی انفراسٹرکچر کی مرمت میں ایک سے 3 سال لگ سکتے ہیں جس میں ریفائنریز، ایکسپورٹ ٹرمینلز اور آئل پائپ لائن کی مرمت شامل ہے جبکہ عالمی افراط زر، جو تیل اور گیس کی قیمتوں کی وجہ سے بڑھا ہے، کو نارمل ہونے میں ایک سے 3 سال لگ سکتے ہیں لیکن اس کا دارومدار امریکہ ایران تنازع جلد ختم ہونے پر ہے۔ مختصر یہ کہ مشرق وسطیٰ جنگ کے مضر نتائج امریکہ اور ایران سمیت دنیا بھر کو طویل عرصے تک بھگتنا پڑیں گے جس کیلئے ہمیں مستقبل میں تیار رہنا چاہئے۔