• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی معیشت، زراعت، انڈسٹری اور سیاحت کی مرہونِ منت ہے۔ حکومت کی زراعت پر خصوصی توجہ نہیں ہے۔ انڈسٹری مہنگی بجلی، گیس کی کمی اور کرپشن کی نذر ہو گئی ہے لیکن ایک توقع اور اُمید سیاحت کی شکل میں موجود ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک بشمول فرانس، اسپین، اٹلی، چین حتیٰ کہ دبئی، سنگاپور، ایشیا، ترکیہ، تھائی لینڈ، انڈونیشیا نے گزشتہ تین دہائیوں میں صرف سیاحت سے اپنی معیشت کو مضبوط کیا ہے۔پاکستان کو قدرت نے بے مثال جغرافیائی تنوع، دلکش مناظر، فلک بوس پہاڑوں، سرسبز وادیوں، شفاف جھیلوں اور تاریخی و تہذیبی ورثے سے نوازا ہے۔ یہ ملک بیک وقت ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش جیسے عظیم پہاڑی سلسلوں کا امین ہے، جہاں دنیا کے بلند ترین مقامات سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ تاہم اس قدرتی حسن کے باوجود پاکستان عالمی سیاحتی نقشے پر وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ مستحق ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ناقص انفراسٹرکچر، پالیسیوں کا فقدان، ماحولیاتی آلودگی، اور کلائمیٹ چینج جیسے سنگین چیلنجز شامل ہیں۔عصرِ حاضر میں ماحولیاتی تغیر ایک عالمی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر نہایت شدید ہیں۔ گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور درجہ حرارت میں اضافہ نہ صرف انسانی زندگی بلکہ سیاحت کے شعبے کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ شمالی علاقہ جات، جو سیاحت کا مرکز سمجھے جاتے ہیں، وہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث زمینی کٹائو، لینڈ سلائیڈنگ اور قدرتی آفات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جو سیاحوں کے لیے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ان حالات میں ایک جامع، مربوط اور پائیدار حکمتِ عملی کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے ذریعے سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ماحولیات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔ سب سے پہلے حکومت کو انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے معیاری سڑکوں کی تعمیر، ان کی مرمت، مناسب نکاسی آب کا نظام، اور راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ازحد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹرانسپورٹ سہولیات، واضح سائن بورڈز اور ڈیجیٹل گائیڈ سسٹمز کا قیام سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنا سکتا ہے۔ہوٹل انڈسٹری بھی سیاحت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بہت سے سیاحتی مقامات پر معیاری رہائشی سہولیات کا فقدان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہوٹلنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، بین الاقوامی معیار کے مطابق سیفٹی پروٹوکولز نافذ کرے اور عملے کی تربیت کو یقینی بنائے۔سیاحت کو سرکاری طور پر انڈسٹری کا درجہ دے کر سرمایہ کاروں کو سہولیات اور تحفظ فراہم کیا جائے۔کرپشن کی بجائے شفاف طریقے سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ہوٹل کے مالکان، ملازمین، ٹورآپریٹرز، ٹرانسپوٹررز، گائیڈز کو مکمل تربیت فراہم کی جائے۔ مہمان نوازی، صفائی، عزت و احترام کے ساتھ فرسٹ ایڈتربیت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ تربیت اور ماحولیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونے کے طریقے وغیرہ کی تربیت بھی لازمی ہے۔ایک اور اہم مسئلہ غیر ضروری ادارہ جاتی مداخلت اور پیچیدہ بیورو کریٹک نظام ہے جو کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اگر حکومت اس مداخلت کو کم کرتے ہوئے آسان اور شفاف پالیسی فریم ورک مہیا کرے تو نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ ہوں گے۔ اس کیساتھ ساتھ سیکورٹی کے موثر انتظامات بھی ضروری ہیں تاکہ سیاح بلا خوف و خطر پاکستان کا رخ کر سکیں۔ماحولیاتی تحفظ کے بغیر سیاحت کا فروغ ممکن نہیں۔ سیاحتی مقامات پر بڑھتی ہوئی آلودگی، خصوصاً پلاسٹک کے بے دریغ استعمال نے قدرتی حسن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو سخت قوانین نافذ کرنے ہوں گے، جن کے تحت پلاسٹک کے استعمال کو محدود کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔پائیدار سیاحت کا تصور بھی اسی تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مقصد ایسے سیاحتی ماڈلز کو فروغ دینا ہے جو ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر مقامی معیشت کو مضبوط کریں۔ اس میں مقامی کمیونٹیز کی شمولیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، ان کی ثقافت کو فروغ دیا جائے اور انہیں سیاحت کے عمل کا حصہ بنایا جائے، تو نہ صرف غربت میں کمی آئے گی بلکہ سیاحت بھی دیرپا بنیادوں پر ترقی کرے گی۔علاوہ ازیں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا موثر استعمال بھی سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا، آن لائن بکنگ پلیٹ فارمز، اور ورچوئل ٹورز کے ذریعے پاکستان کے سیاحتی مقامات کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جا سکتا ہے۔حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ اسکے ذریعے نہ صرف وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا بلکہ پالیسی سازی میں بھی توازن پیدا ہوگا۔ پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کو موثر ممبر کے طور پر شریک کیا جائے۔ سرمایہ کاروں اور اسٹیک ہولڈرز کی رہنمائی اور سرپرستی فرمائیں۔مزید برآں، متعلقہ سرکاری محکموں اور وزرا کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ پالیسیوں پر موثر عمل درآمد ہو سکے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان میں سیاحت کا فروغ اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ہم نے بروقت اور دانشمندانہ اقدامات نہ کیے تو نہ صرف ہمارا قدرتی حسن متاثر ہوگا بلکہ معاشی ترقی کے مواقع بھی ضائع ہو جائیں گے۔

یہ دل یہ جان واردو،مرا وطن سنوار دو

حیات جس کا نام ہے بہادروں کا جام ہے

یہ جام جھوم کر پیو، جیو تو بے دھڑک جیو

یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

زمین پر نہیں قدم، ہوا بھی ہاتھ میں نہیں

گزرتے وقت کا کوئی سرا بھی ہاتھ میں نہیں

چلے ہیں لوگ پھر کدھر، پہنچنا ہے کہیں اگر

تو نفرتوں کو پیار دو، مرا وطن سنوار دو

یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

تازہ ترین