امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے منصوبے کے اعلان کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں اور کسی بڑی کمی کا رجحان سامنے نہیں آیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کی صبح 108.11 ڈالرز فی بیرل رہی، جس میں صرف 0.06 فیصد کمی دیکھی گئی۔
عرب میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سرمایہ کار ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے زیادہ پُرامید نہیں کیونکہ اس کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ جہازوں کی مدد کرے گی اور اس کے لیے جنگی بحری جہاز، 100 سے زائد طیارے اور 15000 اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاہم براہِ راست بحری حفاظت کا ذکر نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایران نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق خلیجی علاقے میں جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس سے صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق تیل کی عالمی رسد میں بڑی کمی ہو چکی ہے اور ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، اس لیے صرف بیانات سے صورتِحال بہتر نہیں ہو گی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب یومیہ 14.5 ملین بیرل تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔