• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یو اے ای: فجیرہ میں ڈرون حملہ، 3 افراد زخمی

14 مارچ 2026 کو ایرانی حملے کے بعد  فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں آگ لگنے کا منظر:۔ فوٹو روئٹرز
14 مارچ 2026 کو ایرانی حملے کے بعد  فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں آگ لگنے کا منظر:۔ فوٹو روئٹرز 

اماراتی ریاست فجیرہ میں ڈرون حملے کے بعد 3 افراد زخمی ہوگئے، تینوں زخمیوں کا تعلق بھارت سے ہے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

آبنائے ہُرمُز میں متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی کے بحری جہاز پر ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ایران کی جانب سے 4 میزائل متحدہ عرب امارات کی طرف فائر کر دیے گئے۔

 عرب میڈیا کے مطابق فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں آگ لگ گئی ہے۔ فجیرہ پٹرولیم انڈسٹریل سائٹ پر حملے میں 3 بھارتی شہری زخمی ہوئے۔ تینوں کو اسپتال پہنچادیا گیا۔ جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق واقعہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں پیش آیا، جس کے بعد صنعتی زون میں آگ لگ گئی۔

اماراتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں گرنے والے ملبے اور ڈرون سے متعلق واقعات شامل ہیں، جنہوں نے شہری انفراسٹرکچر کو متاثر کیا۔

اب تک ملک بھر میں مختلف واقعات کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 227 تک پہنچ گئی ہے، جن میں مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ان واقعات کے دوران بعض علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن نظام اور صنعتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک واقعے میں، یکم اپریل کو 1 بنگلا دیشی تارکِ وطن ہلاک ہو گیا جو مبینہ طور پر گرنے والے ملبے کی زد میں آ یا تھا۔

اس عرصے میں فجیرہ میں ڈرون سرگرمیوں اور ملبے کے گرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے، جس کے باعث بندرگاہی اور صنعتی علاقوں میں سیکیورٹی اور ایمرجنسی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔

حکام کے مطابق تمام واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور متاثرہ انفرااسٹرکچر کی بحالی کا کام بھی مرحلہ وار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اماراتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے فائر 3 میزائل اماراتی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیے،جبکہ ایک میزائل سمندرمیں جا گرا۔

اس سے پہلے امارات کے رہائشیوں کو وزارت داخلہ نے محفوظ مقامات پر جانے اور ایرانی میزائل حملوں کا الرٹ بھیجا تھا۔ الرٹ بھیجنے کے کچھ دیر بعد دوسرے پیغام میں کہا گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور عوام اپنے روز مرہ کے معمولات جاری رکھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد پھر عوام کو محفوظ مقامات پر منتقلی کا الرٹ بھیج دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق فجیرہ بندرگاہ سے گزشتہ سال روزانہ اوسطاً 17 لاکھ بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات برآمد کی گئیں، جو عالمی طلب کا تقریباً 1.7 فیصد بنتا ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور خلیج عمان کے ساحل پر موجود ہے، جو اسے اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم بناتا ہے۔

فجیرہ کو دنیا کے بڑے فیول اسٹوریج اور ریفائنڈ آئل ہبز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں تقریباً 1.8 کروڑ مکعب میٹر ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں تیل کی بلینڈنگ اور ریفائننگ سے مختلف بین الاقوامی معیار کے فیول تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے۔

یہ پورٹ سنگاپور، روٹرڈیم اور چین کے ژوشان کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا مرین فیول ٹرمینل ہے، جہاں بڑی تجارتی تیل کمپنیاں  بھی سرگرم ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید