• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ لوگ ذہین ہوتے ہیں۔کچھ عجیب سے ذہین ہوتے ہیں۔عجیب سے ذہین لوگ وقت سے پہلے مر جاتے ہیں۔ثاقب عجیب سا ذہین تھا۔ستاروں کی چال پر نظر رکھتا تھا۔پیسے کینسر کے علاج پر نہ لگ گئے ہوتے تو جواں مرگ اداکار سوشانت کی طرح ٹیلی اسکوپ خریدتا۔ جیمز ویب نے اربوں سال پرانی کہکشاؤں کی روشنی کو تصویر کیا توجذباتی ہوگیا تھا۔ چندریان تھری چاند کے مدار میں داخل ہوا تو دوستوں کی دعوت کی۔یہ جاننے میں اسے دلچسپی تھی کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے۔کاسمک کلینڈر کو کارل سیگن کا احسان مانتا تھا۔موسیقی سے اپنے درد کا علاج کرتا تھا۔

عجیب سے ذہین لوگ لاعلمی کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔میڈیکل رپورٹ انہیں بتادیتی ہے کہ وقت پورا ہو گیا ہے۔یہ بات سبھی پر گراں گزرتی ہے۔اس پر جانے کیا گزرتی ہے جس نے ابھی خواب دیکھے ہی ہوتے ہیں کہ رسید کٹ جاتی ہے۔جیسے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے اپنے بے ساختہ خط میں کہا تھا، ہم جیسوں کا وقت آتا ہے تو موت آڑے آجاتی ہے۔شاید اسی لیے عرفان خان نے لکھا، میں نے درد کو خدا سے بھی بڑا محسوس کیا۔عرفان خان شاید آخری حد پر جاکر سمجھانا چاہ رہا تھا کہ موت کا علم ہوجانا کتنا بڑا درد ہے۔اب پتہ نہیں یہ درد ہے یا آزادی کا احساس ہے۔شاید درد ہے۔تبھی موت کی نفسیات پر بات کرنے والے فرائیڈ کو موت کا احساس لرزا کے رکھ دیتا تھا۔یا شاید آزادی کا احساس ہے۔تبھی جواں مرگ شاعر ثروت حسین کو موت کے درندے میں ایک کشش محسوس ہوتی تھی۔اب دیکھو ثروت بھی عجیب سا ذہین تھا۔موت نہیں آئی تو خود موت کے پاس چلا گیا۔پتہ نہیں یہ سب کیا ہے اور اسکا علاج کیا۔کیا موت زندگی کا علاج ہے۔کیا زندگی موت کا علاج ہے۔دونوں میں سے کیا آسان ہے۔جینا یا مرنا۔کس کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔جانے والے کی یا رہ جانے والے کی۔یہ جو ہمارے وجودی بحران ہیں، مڈ لائف کرائسس ہیں یہ سب کیا ہے۔زندگی کا بھروسہ ہی نہیں ہے تو ہم خواب کیوں دیکھتے ہیں۔خواب دیکھتے ہیں تو موت کیوں ٹانگ اڑادیتی ہے۔ڈبویا مجھ کو ہونے نے۔

موت کا علم ہوجانے کے بعد انسان بجھ جاتا ہے یا پھر بے کچھ بے ساختہ سا ہوجاتا ہے۔احساس پوری سچائی کے ساتھ سرزد ہونے لگتا ہے۔جیسے اسپتال کے بیڈ پر عرفان خان سے خط سرزد ہو گیا تھا۔کافکا سے پوری کہانی سرزد ہوگئی تھی۔کافکا کی زندگی بیماریوں میں گزری۔موت آس پاس منڈلاتی رہتی تھی۔موت کا وقت مگر معلوم نہیں تھا۔میٹا مور فوسس جیسی کہانیاں لکھتا رہا۔پھر وقت معلوم ہوگیا۔تب اے ہنگر آرٹسٹ جیسی کہانی لکھ دی۔پہلی کہانی کسی کو بھی سمجھ آسکتی ہے۔دوسری کہانی کو در اصل ڈیتھ سیل جیسے وارڈ میں پڑا کوئی جواں سال ثاقب ہی سمجھ سکتا ہے۔ثاقب اس وارڈ میں داخل تھا جہاں تقریبا سبھی سے لاعلمی چھینی جاچکی تھی۔وہ جان گئے تھے عمر کی نقدی کتنی رہ گئی ہے۔ہر بات جان لینا کتنا برا ہے۔یا شاید بہت اچھا ہے۔مگر کیوں۔ پتہ نہیں کیوں۔شاید اسلئے کہ آپ اپنے طریقے سے روانگی کر پاتے ہیں؟ فضول بات۔جس طریقے سے بھی روانگی کریں، ہے تو روانگی نا۔ہاں ہے تو۔تو پھر؟ ہم کچھ نہیں۔

ثاقب کو جواب ملا تو اس سے بھی تحریریں سرزد ہونے لگی تھیں۔پاگل کردینے والی لائن لکھ جاتا تھا۔اس نے ایک تحریر لکھی، زوم کرو۔ثاقب سے زیادہ مجھے اسکی یہ تحریر یاد آتی ہے۔اس تحریر کا فائدہ پھر کبھی اٹھائیں گے۔شاید اگلے منگل کو۔ ثاقب نے ایک اور تحریر لکھی، ہم روز تھوڑے تھوڑے مر جاتے ہیں۔یہ اس نے ان مریض دوستوں کو یاد کرتے ہوئے لکھی جو اسکے ساتھ وارڈ میں تھے۔کہتا ہے، گزشتہ سال اسپتال سے نکلنے کے بعد ایک مریض سے رابطہ کیا تو گھر والوں نے بتایا کہ وہ مرگیا ہے۔یہ سن کر میں تھوڑا سا مرگیا۔عید پرسترہ سالہ ایک مریض کو عید کی مبارک دی تو والد نے اسکی قبر کی تصویر بھیج دی۔میں تھوڑا سا اور مرگیا۔چار چھ دوست مر گئے، مگر میرے بہت زیادہ دوست تو ابھی زندہ ہیں۔پرندے چہچہا رہے ہیں اور موسیقی زندہ ہے۔یہ چیزیں میری موت کو تھوڑا ٹال دیتی ہیں۔

کیا یہ سب وہ جھوٹ بول رہا تھا؟ ہاں شاید۔ بلکہ نہیں۔آخری بار اسے پنڈی کے اسپتال سے بلاوا آیا تو وہ کراچی سے آکر پہلے مری گیا۔زندگی اور فطرت سے آخری بار ہم کلامی کی۔ہجوم دیکھے۔ہنی مون مناتے جوڑوں کو پڑھا۔خوشی اور اداسی میں لپٹے ہوئے چہرے دیکھے۔سورج کو پہاڑوں کے پیچھے اترتے ہوئے دیکھا۔راہ چلتے بوڑھے سے باتیں کی۔تھرماس میں قہوہ بیچنے والے افغان مہاجر بچے کو دعا دی۔خدا تمہاری زندگی آسان کرے۔آسمان پر چاند تارے دیکھے۔ بندروں کیساتھ چھیڑ خانیاں کیں۔دوستوں سے ملا اور ڈھیر ساری موسیقی سنی۔وقت کی قید میں ہے زندگی مگر چند گھڑیاں یہی ہیں جوآزاد ہیں۔واقعی وہی گھڑیاں تھیں جو آزاد تھیں؟ یا وہ گھڑیاں آزاد ہیں جو کچھ دنوں بعد شروع ہونے والی تھیں۔ پتہ نہیں۔

ابھی موت کا علاج دریافت نہیں ہوا۔ہم بھی قطار میں ہی کھڑے ہیں۔ہماری خوش قسمتی بس یہ ہے کہ موت کی تاریخ معلوم نہیں ہے۔کل ملا کر یہی لاعلمی ہماری زندگی کا حاصل ہے۔سارے خواب ارادے اور تام جھام اسی لاعلمی کے دم سے ہیں۔موت کی حقیقت مگر لاعلمی اور زندگی سے بھی بڑی ہے۔ایک دن ہم بھی ثاقب کے ساتھ ’نیست‘ کے مقام پر کہیں ہوں گے۔کون تھے کہاں سے آئے کہاں گئے کسی کو خبر ہوگی نہ دلچسپی۔خبر ہو بھی کیوں۔کیا کچھ شعر معنی بدل بدل کر سامنے آرہے ہیں مگر ٹھیک سے یاد نہیں ہیں۔کتاب پتہ نہیں کہاں ہوگی۔ریختہ کھولنے کا دل نہیں ہے۔کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے۔

ایسے کسی کا چلے جانا در اصل والدین کا غم ہوتا ہے۔ساتھ جینے مرنے والے دوستوں کا غم ہوتا ہے۔اس لڑکی کا غم ہوتا ہے جس نے روانگی کا اشارہ ملنے کے بعد ہاتھ تھاما ہوتا ہے۔ان سب کا غم تسلی دلاسے کی ہر کوشش سے بڑا ہوتا ہے۔شاید موت سے بھی بڑا ہوتا ہے۔جانے والا تو چلا جاتا ہے، سہنے والے رہ جاتے ہیں۔انسان زندہ ہے تو غم بھی زندہ ہے۔موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں۔

تازہ ترین