بالی ووڈ ہو یا سیاست، کنگنا رناوت نے کبھی بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے اُن لوگوں پر جنہیں وہ اپنے خلاف سمجھتی ہیں تنقید کرنے میں کوئی نرمی برتی ہے۔
اداکارہ و سیاستدان نے حال ہی میں ایک سوشل میڈیا میم پیج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس نے ان کے بارے میں غلط معلومات پھیلائیں، اس کی ایک پوسٹ کو کنگنا نے مسئلہ پیدا کرنے والی اور توہین آمیز قرار دیا۔
گذشتہ روز انسٹاگرام کے ایک میم پیج نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں کنگنا سے منسوب کچھ ایسے بیانات شامل تھے جو انہوں نے درحقیقت کبھی دیے ہی نہیں۔
اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کنگنا نے کہا ہے کہ اگر لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور رائے بریلی سے کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ راہول گاندھی بی جے پی میں شامل ہو جائیں تو وہ ان سے شادی کرنے کو تیار ہیں۔
پیج نے یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وضاحت میں بھی اس بات پر زور دیا کہ کنگنا رناوت نے واقعی یہ بات کہی ہے اور لکھا کہ کنگنا ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ایک ’’دلیر اور قدرے غیر متوقع بیان‘‘ کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
پیج نے مزید کہا کہ یہ تبصرہ تیزی سے وائرل ہو گیا اور لوگ اس پر بحث کرنے لگے کہ آیا یہ طنز تھا، سیاسی حملہ تھا یا کنگنا کا مخصوص انداز۔
تاہم، اداکارہ و سیاستدان، جو اس وقت ہماچل پردیش کے منڈی حلقے سے بی جے پی کی رکنِ لوک سبھا ہیں، نے اس نام نہاد میم کو نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر اس پوسٹ کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے اس پیج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس نے اسے بنایا تھا۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یہ عوامی سطح پر خواتین کی بے عزتی کی ایک اور مثال ہے، چاہے ان کا عہدہ یا مقام کچھ بھی ہو۔ انہوں نے لکھا کہ یہ جعلی خبر کتنی افسوسناک ہے۔ سیاست میں بھی خواتین کے لیے کوئی وقار نہیں۔ ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔