امریکی سیکرٹ سروس نے کہا ہے کہ اس کے افسران نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح اور مشکوک شخص کا سامنا کیا جس نے سیکرٹ سروس کے اہل کاروں پر فائرنگ کی اور فرار ہو گیا تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے نے اسے گولی مار دی، واقعے کے بعد کچھ وقت کے لیے وائٹ ہاؤس میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے اردگرد گشت میں مصروف ایجنٹوں نے ایک مشکوک شخص کو دیکھا جسے سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے مشکوک شخص قرار دیا جس کے پاس آتشیں اسلحہ بھی تھا۔
مشکوک شخص نے فرار ہونے کی کوشش کی تو سیکرٹ سروس کے افسران اس تک پہنچے جس پر اس نے سیکرٹ سروس پر فائرنگ کی جواب میں سیکرٹ سروس نے بھی اس مشکوک شخص پر گولی چلائی جو اسے لگی اور اسے اسپتال پہنچایا گیا۔
میتھیو کوئن نے بتایا کہ واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے نائب صدر جے ڈی وینس کی گاڑیوں کا قافلہ اسی علاقے سے گزرا تھا۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ مشکوک شخص جے ڈی وینس کے قافلے تک پہنچنا چاہتا تھا یا نہیں۔
مشکوک شخص نے قریب کھڑے ایک نوجوان کو مارا لیکن اس نوجوان کو کوئی ایسا زخم نہیں آیا جس سے اس کی زندگی کو خطرہ ہو، اس نوجوان کو بھی اسپتال پہنچایا گیا ہے۔
کوئن نے کہا کہ مشکوک شخص وائٹ ہاؤس کے احاطے میں نہیں تھا، مشکوک شخص کی یہ سرگرمی کس وجہ سے تھی ہم جلد جان لیں گے۔
مشکوک شخص سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے، واشنگٹن ڈی سی پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔