یکم مئی کو لاہور کا سفر میرے لیے محض ایک ادبی تقریب میں شرکت نہیں تھا بلکہ یہ ایک فکری اور تہذیبی تجربہ بھی ثابت ہوا۔ اس دن میری کتاب ”جانبِ منزل“ کے پنجابی ترجمے کی کتاب ’’ ہڈ بيتی‘‘ (جيون کتھا) کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ جس کا پنجابی میں ترجمہ معروف ادیبہ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ کیا اور اس شاندار تقریب کا اہتمام بھی خود کیا۔ ان کی کاوشوں کے باعث لاہور کے ممتاز اہلِ علم، دانشور اور ادبی شخصیات اس محفل میں شریک ہوئیں، جس نے اس تقریب کو ایک یادگار ادبی اجتماع میں تبدیل کر دیا۔
ڈاکٹر صغریٰ صدف کے بارے میں وہاں موجود کئی دانشوروں کا خیال تھا کہ یہ ترجمہ محض الفاظ کی منتقلی نہیں بلکہ دو ثقافتوں کے درمیان احساسات، تاریخ اور شناخت کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کی ایک سنجیدہ اور خوبصورت کوشش ہے، جو سندھ اور پنجاب کے درمیان ایک نئے تعلق کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اس تقریب کو چار چاند لگانے کے لیے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات موجود تھیں۔ فلمی صنعت کا معروف نام سید نور بھی محفل کی رونق تھے، جبکہ سیاسی میدان کی اہم شخصیات، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور احمد بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔تقریب کے دوران قمر زمان کائرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادب اور زبانوں کا احترام ہی وفاق کو مضبوط بنا سکتا ہے، اور ایسی تقریبات قوموں کے درمیان قربت پیدا کرتی ہیں۔ جبکہ چوہدری منظور احمد نے بھی کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سوانح عمری نہیں بلکہ عام لوگوں کی جدوجہد اور سماجی حقیقتوں کا عکاس ہے، جس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔حفیظ اللّٰہ نیازی، جو اپنی صاف گوئی کے لیے معروف ہیں، نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ایسی ادبی نشستوں میں پیش کیے جانے والے خیالات سماجی اور سیاسی شعور کو ایک نیا رخ دے سکتے ہیں۔تقریب میں دیگر معزز مہمانوں میں میاں حبیب، آصف عفان، ڈاکٹر جواز جعفری، شیریں مسعود کھدر پوش، رخسانہ ڈیوڈ، ہجویری بھٹی اور ازکا مسعود شامل تھے۔ اس کے علاوہ قرۃ العین حیدر، یوسف پنجابی، اسلم شاہد، انور چانڈیو، نصیر احمد، امجد اقبال امجد، حبیب اللّٰہ، نبیل نجم، ڈاکٹر طارق شریف زادہ اور حمزہ کرامت جیسی علم دوست شخصیات کی موجودگی نے محفل کے علمی وقار میں اضافہ کر دیا۔
نامور شاعر امجد اقبال امجد کے حوالے سے بھی محفل میں یہ تاثر نمایاں تھا کہ ان جیسی شخصیات ادب کے ذریعے محبت، انسانیت اور سماجی شعور کو فروغ دیتی ہیں، اور ایسی تقریبات انہی اقدار کی عکاسی کرتی ہیں۔سندھ سے بھی میرے کئی دوست، خاص طور پر جامشورو اور سیہون سے اس تقریب میں شریک ہوئے۔ کراچی سے ملک ضمیر احمد اعوان، نامور صحافی شوکت میمن اور دیگر قریبی دوستوں کی شرکت نے مجھے یہ احساس دلایا کہ ہم جہاں بھی جائیں، اپنی مٹی کی خوشبو اور لوگوں کی محبت اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
اگر لاہور کے دانشوروں کے سندھ کے بارے میں شعور کی بات کی جائے تو سب سے متاثر کن پہلو ان کا سندھ کی تاریخ اور تہذیب پر گہرا مطالعہ تھا۔ تقریب میں گفتگو کرنے والے پنجابی ادیبوں اور دانشوروں کی متفقہ رائے تھی کہ ”ہڈ بیتی“ (جيون کتھا) جیسی کتاب سندھ اور پنجاب کے لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، اور بعض نے یہ بھی تجویز دی کہ ایسے ادب کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل دیگر صوبوں کی تاریخ اور ثقافت کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اگر اپنی دھرتی، دریا اور زبان سے محبت سیکھنی ہو تو سندھ سے سیکھنی چاہیے۔ ساتھ ہی پنجابی دانشوروں نے یہ بھی کہا کہ مسائل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے دکھ اور احساسات کو سنجیدگی سے سنا جائے، کیونکہ کسی بھی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے پیچھے موجود درد کو سمجھنا ہی اصل حل ہے۔
خصوصاً سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کی گفتگو نہایت بے باک تھی۔ انہوں نے 1947 کے فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پنجابیوں نے ہی پنجابیوں کو قتل کیا، جس سے پنجابی قوم پرستی کی بنیادیں کمزور ہو گئیں، جبکہ سندھ نے اپنی سماجی ہم آہنگی برقرار رکھی۔ ان کی یہ جرات مندانہ گفتگو سچ کی عکاسی تھی جس نے دونوں صوبوں کے تاریخی فرق کو واضح کرتے ہوئے ایک اہم بحث کو جنم دیا۔تقریب میں پنجاب کے مقررین نے سندھ کے صوفیوں، خاص طور پر حضرت لعل شہباز قلندر اور سچل سرمست کے ساتھ جس عقیدت کا اظہار کیا، اس سے یہ ثابت ہوا کہ روحانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ لاہور کے لوگوں کی مہمان نوازی اور خلوص واقعی قابلِ تحسین تھا۔
میں ڈاکٹر صغریٰ صدف کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس کتاب کے ذریعے سندھ اور پنجاب کے درمیان ایک مضبوط ادبی رشتہ قائم کیا۔ آج جب سوشل میڈیا پر نفرت کی زبان بولی جا رہی ہے، تو ایسی تقریبات محبت، رواداری اور یکجہتی کا پیغام دیتی ہیں۔ لاہور کی اس ادبی شام نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ ادب سیاست سے زیادہ سچا اور صاف آئینہ ہوتا ہے۔ سیاست جہاں کبھی فاصلے بڑھاتی ہے، وہیں ادب ان فاصلوں کو کم کر کے دلوں کو قریب لاتا ہے۔
اس تقریب کے دوران سامنے آنے والی باتوں سے یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ سندھ اور پنجاب کے درمیان اصل فاصلہ لوگوں کا نہیں بلکہ سوچ کا ہے، اور جب لوگ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ فاصلے ختم ہو سکتے ہیں۔یہ سفر مجھے یہ سکھا گیا کہ پاکستان کی اصل روح سیاسی بیانات میں نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں بستی ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کو سنیں اور سمجھیں تو ایک عظیم مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔