• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیاری بیٹی باران کے اے لیول کے امتحانات 30 اپریل سے آغاز ہوئے۔ جب باران صاحبہ پہلا پرچہ دے کر لوٹیں تو ان کا منہ لٹکا ہوا تھا، آنکھیں نم ناک تھیں۔ صاف لگ رہا تھا کہ پیپر اچھا نہیں ہوا۔ زیادہ پریشانی اس بات کی ہوئی کہ پہلا پرچہ ہی اگر بُرا ہو جائے تو سارا امتحان متاثر ہوتا ہے۔ اور حیرت اس بات کی تھی کہ حساب وہ واحد مضمون تھا جسکی باران نے ٹیوشن پڑھی تھی اور تیاری بھرپور تھی۔ خیر، جب وہ بولنے پر آمادہ ہوئیں تو فرمانے لگیں کہ پیپر بہت اچھا ہوا ہے۔ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔پھر بتانے لگیں کہ جب وہ کمرہ امتحان سے باہر نکلیں تو ساتھیوں نے بتایا کہ کل سے یہ پیپر ہو بہ ہو سوشل میڈیا پر لیک ہو چکا تھا، اس لیے قوی امکان ہے کہ یہ پیپر منسوخ ہو جائے گا۔ لہٰذا، ساری محنت، بے خواب راتیں، تمام تگ و دو ضائع۔ اور پھر ایسا ہی ہوا، اے لیول کا امتحان لینے والے ادارے نے ایک دن بعد ہی اعتراف کیا کہ پیپر لیک ہو گیا تھا اور 7 مئی یعنی آج وہ اس سلسلے میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ او لیول یا اے لیول کے پیپر یا اس کے کچھ حصے لیک ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، کئی سال سے ایسا ہو رہا ہے، اب تین سال سے تو مسلسل یہ ہو رہا ہے۔ اس سارے عمل میں متاثر طلبا کی تعداد25000 بتائی جا رہی ہے۔

پاکستان میں ایک سے دو فی صد طلباء کیمبرج کے اس تعلیمی نظام کا حصہ ہیں جنکی بھاری اکثریت کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں پائی جاتی ہے۔ ان سکولوں میں اشرافیہ کے بچے پڑھتے ہیں یا مڈل کلاس کے وہ بچے پڑھتے ہیں جنکے والدین سکول فیس اکٹھی کرنے میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے گرد و پیش میں بچوں کی تعلیم پر اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر رقم صرف کرنے کی مثالیں جا بہ جا نظر آتی ہیں۔

او اور اے لیول کے ہر مضمون کا امتحان دینے کیلئے ہر طالبِ علم کو 30 سے 40 ہزار کیمبرج کو ادا کرنے ہوتے ہیں۔ پاکستان اس امتحانات کے ضمن میں سالانہ 100 ارب روپے سے زیادہ زرِ مبادلہ ادا کرتا ہے، یاد رہے کہ یہ رقم ملک کی تمام یونی ورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے۔ کیمبرج کے تعلیمی نظام میں داخل ہونے والے طلباء کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ بنیادی فائدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ نظام دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے، اور اس کی بنیاد پر دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ اس نظام میں اور بھی کئی خوبیاں ہیں، سب تسلیم، مگر "خوگرِحمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔"

پاکستان میں یہ تعلیمی نظام ایک خاص کردار ادا کر رہا ہے۔ او لیول اے لیول بہتر تعلیمی نظام ہے تو 99 فی صد آبادی کو اس سے باہر کیوں رکھا گیا ہے؟ یہ کیمبرج کا تعلیمی نظام ایک جزیرہ ہے، جس پر ملک کی ایک فی صد آبادی رہتی ہے۔ یہ اشرافیہ کا بندوبست ہے، جنوبِ عالم کی اکثر ریاستوں میں اشرافیہ نے ایسے ہی جزیرے بنا رکھے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ 99 فی صد پاکستان کا تعلیمی مستقبل ریاستی ترجیحات میں شامل ہی نہیں رہا۔ کوئی ایمرجنسی تو ہے نہیں، اپنے بچے تو عالمی معیار کے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، اشرافیہ کی جان نشین اشرافیہ تو تیار ہو رہی ہے، ایسے میں 99 فی صد پاکستانیوں کے مستقبل بارے غور کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ یہ تلخ گوئی بے سبب نہیں۔ سری لنکا سے ملائشیا تک، درجنوں ملک ہیں جو آہستہ آہستہ اپنا تعلیمی نظام مضبوط کر کے غیر ملکی تعلیمی نظام سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ بھارت کا داخلی تعلیمی نظام رفتہ رفتہ عالمی اعتبار حاصل کر چکا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ بحث سرے سے کی ہی نہیں جا رہی۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ ریاست سنجیدگی سے اپنے تعلیمی نظام کی توقیر بحال کرنےکیلئے کوئی منصوبہ سازی کر رہی ہے؟ کوئی مستقبل کا تعلیمی نقشہ آپ کی نظر سے گزرا ہے؟ کتنے برسوں میں ہم اپنے تعلیمی نظام کے معیار کو عالمی سطح تک اٹھا لیں گے؟یا کتنے برسوں میں ہم اپنے تمام سرکاری سکولوں میں کیمبرج کا نظام رائج کر دیں گے؟ یہ بحث مفقود ہے۔

غیر ملکی تعلیمی نظام کلچرل امپیریل ازم کا صدر دروازہ کہلاتا ہے۔ زبان بدلتی ہے، کلاس بدلتی ہے، اقدار کا نظام بدلتا ہے، تاریخ کو پڑھنے کی عینک بدلتی ہے، حالاتِ حاضرہ کو دیکھنے کا عدسہ بدلتا ہے، ہیرو بدلتے ہیں، بیانیہ بدلتا ہے۔ یعنی زمین سے جڑیں کٹ جاتی ہیں، نئی نسل گملے میں اُگتی ہے، جو اپنی زمین اور اپنے لوگوں سے لاتعلق ہوتی جاتی ہے۔ ان سکولوں میں مقامی زبان بولنے پر جرمانہ ہوتا ہے۔ اس نسل کی "فطری" آب و ہوا مغرب ہے۔ مقامی لوگوں سے مستقبل کی اشرافیہ کی خلیج مزید بڑھ جاتی ہے، "حاکموں" اور "رعایا" کے درمیان عداوت کا رشتہ استوار ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں کلی طور پر غیر ملکی تعلیمی نظام کا مطلب ہے نسلِ نو کی شناخت سازی کو آؤٹ سورس کر دینا۔ ہمارے گرد و پیش میں یہ عمل دہائیوں سے جاری ہے اور ہم ریت میں سر دیے اونگھ رہے ہیں۔اگر اس ملک کو کسی ہائی برڈ نظام کی ضرورت ہے تو وہ تعلیمی ہائی برڈ نظام ہے، اپنا نصاب بنایے، جس میں مغربی تہذیب ڈی فالٹ تہذیب نہ ہو، عالمی اور مقامی مواد کے ادغام سے ہائی برڈ نصاب بنائیں، باہر کا تعلیمی نظام کرٹکل تھنکنگ سکھاتا ہے تو پھر اس تھنکنگ کو باہر کے نصاب پڑھنے کے ’’ثمرات" پر تفکر کیلئے بھی استعمال کرنا چاہیے۔ مگر یہ سب کرے گا کون؟ حکم ران اشرافیہ؟ ’’مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں۔‘‘

تازہ ترین