بہت پہلے مولوی عبدالحق نے کہا’’ہم دِلی کے لئے ہم کلامی ضروری ہے‘‘ یہ بات اس سوال کا جواب دینے کے لئےکی تھی کہ مختلف صوفیائے کرام اپنی اپنی مادری زبانوں(عربی،فارسی ترکی) میں دینی علوم سیکھ کے دمشق،قاہرہ،حلب،قونیہ اور ایسے مراکز سے ملتان،لاہور،بنگال اور جنوبی ہند میں آئے اور جن سے مخاطب ہوئے انہی کی زبان سیکھ کے ہم کلام ہوئے کہ وہ ہم دِلی چاہتے تھے ۔آج توزبانوں کے سیکھنےکیلئے بہت سے وسائل موجودہیں مگر یہ تو ذرا سمجھ دار لوگ جانتے ہیں کہ یہ صوفیا زعمِ پارسائی میں مبتلا نہیں تھے یعنی وہ مجھ جیسےکسی بچے سے یہ نہیں کہتے تھے ’’تمہارے والدِ مرحوم اور میرے والد رحمتہ اللہ علیہ میں شناسائی تھی‘‘ دوسرے وہ ذات پات کے سماج میں چھوت چھات کے قائل نہیں تھے ایک ہی پیالہ ان کی مجلس میں گردش کرتا اور جہاں پہنچتے اسی ٹیلے کے جھاڑ جھنکار کو صاف کرتے ،نئے پودے لگاتے اور وہاں کوئی نہ کوئی مفید پیشہ جیسے تعلیم،کتاب کی ورق بندی، کپڑ ابُنتے، جوتےمرمت کرتے،تیر کمان بھی بناتے مگر مختلف موسموں کی مناسبت سے کپڑے رنگ کے کوئی ایک ساز بھی بجاتے اورجنبشِ قلب کیلئے جنبشِ بدن سے بھی گریز نہ کرتے۔ یہ باتیں اسلئے یاد آئیں کہ ہمارےوزیرِ اعظم نے کل علمائے کرام سے خطاب کرتے ہوئے جب عربی زبان بولی تو علما کی مجلس میں مہمانِ خاص سعودی سفیر کے چہرے پر ملائمت کے سبب ایک طرح سے بشاشت کی لہر دوڑ گئی مگر اس سے اگلے روز سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے اسی مجلس سے انگریزی میں خطاب فرمایا توبشاشت کی جگہ تکّدر نے لے لی ۔ہمارے گیلانی صاحب شاید ابھی تک پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کے اندازِ دلربائی کے اسباب سمجھ نہیں سکے کہ ان کے پاس بھی ایک سے ایک بڑھیا کوٹ پتلون،اور نکٹائیاں تھیں،ان کی مادری زبان سندھی تھی مگر ان کی ساری تعلیم انگریزی زبان میں ہوئی تھی پھر وہ کیوں ڈھیلا ڈھالا شلوار قمیض پہن کر جلسوں سے خطاب کرتے تھے؟ کوئی وجہ تو تھی اس کی تحریر اور تقریر سے وہ خوف زدہ رہے جنہوں نے اسے پھانسی پر لٹکایا تھا۔ اتفاق سے رحیم یار خان کی ایک شادی کی تقریب میں، میں بھی اپنے کچھ شاگردوں کے ساتھ تھا جب بھٹو کے وزیرِ اطلاعات اور ’دیدہ ور‘ کے مصنف مولانا کوثر نیازی کوٹ پتلون اور نکٹائی میں ملبوس پہنچے مگر وہ لٹک لٹک کے چل رہے تھے کہ ان کے پاوں کی زینت ایک طلائی کُھسہ تھا،بھٹو نے محفل میں ہی کہا ’’مولانا یا تو اس کُھسے کی مناسبت سے کپڑے پہنو یا پھر ابھی جائو اور سوٹ کے ساتھ بوٹ پہن کے آئو‘‘ چنانچہ مولاناکو اس شہر کے شاہی بازار کی ایک دکان سے بوٹ خرید کے آنا پڑا۔ جو بھٹو کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ بھٹواپنی کابینہ کے اراکین کی تذلیل کرتے تھے اسی لئے وہ ان کا ساتھ چھوڑ گئے ۔اصل میں وہ بدذوقی پسند نہیں کرتے تھے۔سنسرشپ کے باوجود بہت سے ڈرامے ان پر لکھے گئے،شاعری ہوئی، یاد نگاری ہوئی، بیورو کریٹ ابھی تک پھانسی پر چڑھنے سے پہلےاس کے آخری الفاظ بڑے یقین سے بتاتے ہیں،جب کہ سیدھی بات ہے کہ اپریل کی تین اور چار کی درمیانی رات کو اس نے شیو کیا اور کہا میں اللہ کے سامنے اپنا اصلی چہرہ لے کر جانا چاہتا ہوں۔ یہ سب باتیں کچھ اس لئے بھی یاد آرہی ہے کہ حال ہی میں اردو کے ریڈیائی ڈرامے کی نصف صدی (سینتالیس سے ستانوے تک) پر راجن پور کے ڈاکٹر رب نواز مونس کی کتاب فیصل آباد سےشائع ہوئی ہے۔ریڈیائی ڈرامے کو استادِ محترم ڈاکٹر سلیم اختر رزقِ ہواکہتے تھے کہ سنا اور تحلیل ہوا مگر ایسا نہیں خواجہ معین الدین، امتیاز علی تاج،اشفاق احمد،انتظار حسین ، شوکت صدیقی ،بانو قدسیہ ،امجد اسلام امجد اور اصغر ندیم سید کے ڈرامے سنے بھی گئے ،پڑھے بھی گئے اور دیکھے بھی گئے۔ اجازت دیں تو میں ایک گم نام ڈرامہ نگار کے دو ڈراموں ’ستاروں پہ کمند‘ اور ’کوزہ گر‘ کے اقتباسات انہی کتب سے پیش کروں:
ستاروں پہ کمند۔شاہد(کم سن مزدور بچوں پر فیچر تیار کرنے والا صحافی): اوئے نِکے! تمہارا جی نہیں چاہتا کہ تم بھی باقی بچوں کی طرح بستہ لے کر اسکول جائو؟
نِکا: پتہ نہیں جی ہم تو سڑک کی طرف کمر کر کے کام کرتے ہیں۔
شاہد: بھورے ! تم جو غبارے بیچتے ہو ،تمہارا دل نہیں چاہتا کہ ان غباروں سے خود بھی کھیلو؟
بھورا: کیوں نہیں جی،جو غبارے بِک نہیں سکتے،میں انہیں لے کراپنی بیمار دادی کے ساتھ کھیلتا ہوں جب تک میری دادی کو نیند نہیں آتی۔
٭ ٭ ٭
کوزہ گر۔(اس کھیل کے تین ٹریک ہیں،نچلی ذات کے ہندو بِملا اور اس کے والدین ،یوسف اور اس کاخاندان جوبہاء الدین زکریا کا مرید ہے ،جو ناصرالدین قباچہ کی فتنہ انگیزی کے حوالے سے حضرت کا خط لے کر دِلّی جاتا ہے مگر قباچہ کے سپاہی اسے گرفتار کر لیتے ہیں ،یوسف ایک خطاط ہے،اس کوایک کمہارکی بیٹی کی کوزہ گری سے دلچسپی ہے،ایک بار بِملا اسےایک کوزہ یہ کہتے ہوئے تحفے میں دیتی ہے)
بِملا:اس کی مٹی میں نے خود گوندھی تھی،پھر اسے اپنے آنسوئوں سے بھگویا تھا اور اس کے بیل بوٹوں میں میری رَت شامل ہے۔ یوسف اس کوزے کو گھر میں لا کر موتیے کے گجرے اس کے گلے میں ڈال دیتا ہے مگر حاکم، یوسف کو قاضی سے سزائے موت دلا کر پھانسی پر چڑھا دیتے ہیں،جب یوسف کی ماں کو پتہ چلتا ہے تو وہ یہ کوزہ توڑ دیتی ہے ،کوزہ ٹوٹتا ہے ،پھول بکھرتے ہیں تو ماں کی نظر اس ڈوری پر پڑتی ہے جس میں یوسف نے یہ پھول پروئے تھے وہ بیٹے کی وصیت سمجھ جاتی ہے اور بِملا کے سر پرایک دوپٹہ اوڑھاکے اس کی ماں سے کہتی ہے یہ بِملا مجھے دے دو اب ہم دونوں نئے نقش و نگار کے کوزے بنائیں گے۔
بے شک دنیا ابھی تک صدر ٹرمپ کے ان لفظوں میں پھنسی ہے ’’معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں‘‘ یا پھر نریندر مودی جیسے جنگ باز نے کئی لاکھ مسلم ووٹروں کے ووٹ کاٹ کے مغربی بنگال کی ممتا بینر جی کو ہرا دیا ہے مگردنیا میں نفرت اور تشدد کی قوتیں امن،مساوات اور رواداری کو پسپا کر سکتی ہیں؟