• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کُرئہ ارض کے کُل رقبے 510 ملین مربع کلو میٹر پر 29 فیصد زمین اور 71 فیصد پانی ہے۔ دُنیا کی زمین کا تقریباََ 37 فیصد رقبہ کاشتکاری کیلئے استعمال ہو رہا ہے جس میں فصلیں ،کھیت کھلیان اور جانوروں کی چرنے کی جگہیں شامل ہیں۔ دُنیا بھر میں 1.386 بلین کیوبک کلومیٹر پانی موجود ہے مگر بد قسمتی سے اِس پانی کا تقریباََ 97.5 فیصد کھارا (Salt Water) جبکہ محض 2.5 فیصد میٹھا اور قابلِ استعمال ہے۔ آج دُنیا کی آبادی 8.3 بلین تک پہنچ چُکی ہے۔ ایک طرف انسان ترقی کرتے کرتے مریخ پر بسیرا کرنے کے قریب پہنچ چُکا ہے ۔ سمندر کی تہوں کو چھان چُکا ہے۔ فضائوں ، ہوائوں اور صحرائوں کو مُسخر کر چکا ہے۔ الیکٹرون ، نیوٹرون اور پروٹون کو فتح کئے ہوئے اِسے ایک صدی ہو چکی ہے۔ تعلیم اور سائنسی ترقی کے میدانوں میں انسان کی ناقابلِ یقین حد تک کامیابیوں اور معرکوں کے نہ رُکنے والے سفر اور سلسلے نےسب کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ جنگ و جدل کیلئے ایسے ایسے مُہلک ہتھیار بنائے جا چکے ہیںکہ جنکا تصوّر بھی ممکن نہیں تھا۔نِت نئی ایجادات کا ایک ایسا انبار لگ چکا ہے کہ انسان کی شاید ہی کوئی خواہش ، حسرت اور آرزو باقی بچی ہو۔

اب تو مصنوعی ذہانت کے کمالات ،کرامات اور کرشموں نے انسان کی سائنسی ترقی کو چار نہیں آٹھ چاند لگا دئیے ہیں یہ سب کچھ انسان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔ مگر دوسری جانب دُنیا بھرمیں صاف پانی اور خوراک کی کمی کے سنگین ترین مسائل سر اُٹھا رہے ہیں۔ حال ہی میں UN ورلڈ واٹر ڈیولپمنٹ رپورٹWater For all People; Equal Right and Opportunities کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اِس وقت دُنیا میں 2.1 بلین افراد صاف پانی سے محروم ہیں ۔ اِسی طرح UN ، دیگر عالمی اداروں اور اُن کے پارٹنرز کے زیرِ اہتمام Global Report on Food Crises 2026 شائع ہوئی ہے جس میں دس ایسےممالک کا ذکر کیا گیا ہے جو خوراک کی انتہائی کمی کے شکا ر ہیں۔ بد قسمتی سے اِس فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔ اِس رپورٹ میں خوراک کی کمی کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دُنیا کے صرف 47 ممالک میں 266 ملین لوگ انتہائی درجے کی خوراک کی کمی کا شکار ہیں ۔اِس صورتحال سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوراک کا مسئلہ شاید انسان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ خوراک کے تحفظ اور اِس حوالے سے آگاہی کے متعلق دُنیا میں شاید وہ کا م نہیں ہو رہا کہ جسکی اشد ضرورت ہے۔ اگر خوراک اور پانی ہی دستیاب نہ ہو تو دُنیا کی ترقی اور چکاچوند زندگی کوئی معنی اور حیثیت نہیں رکھتی۔ دُنیا کی یہ چمک دَمک اور رنگینی کسی مقصد کی نہیں۔ Dr. Norman Ernest Borlaug ایک امریکی ماہرِ زراعت اور پلانٹ پتھالوجسٹ تھے جنہیں دُنیا میں سبز انقلاب کا بانی کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے مختلف زرعی اجناس بالخصوص گندم اور چاول کی زیادہ پیداوار والی اقسام متعارف کروائیں جنکی وجہ سے دنیا کے کئی خطوں میں خوراک کی کمی کے مسائل بڑی حد تک حل ہوئے ۔ انہوں نے چھوٹے تَنےوالی گندم کی قسم متعارف کروائی جسکی وجہ سے پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔ اُنہوں نے ایشیا کے کئی ممالک بشمول پاکستان میں بھی زرعی انقلاب کیلئے کام کیا ۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایک زرعی مُلک ہوتے ہوئے بھی آج خوراک کی کمی کا شکار کیوں ہیں؟

یہاں ہر طرح کے موسم اور آب و ہوا موجود ہے۔ زرخیز ترین زمین ہے۔ ہر طرح کی فصلیں یہاں اُگتی ہیں۔ زراعت کو ہماری مُلکی معیشت میں ایک خاص مقام اور درجہ حاصل ہے۔

ہماری جی ڈی پی میں 24فیصد حصہ شعبہ زراعت کا ہے مگر ہماری زراعت کو بِلاشبہ کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کپاس کی فصل تو اَب تقریباََ قصہ پارینہ ہو چکی ۔ ہماری زراعت کو بڑا خطرہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ موسمی تغیرو تبدل اور اُتار چڑھائو نے سال2024-25ءمیں ہمارے ہاں تقریباََ 13.5 فیصد پیداوار کو نقصان پہنچایا ، اِسی طرح بے موسمی بارشیں سیلابی کیفیت کو جنم دے رہی ہیں۔ موسمی کیفیات میں تبدیلی کی بنا پر ہمارے گلیشیرز اَب پگھلنا شروع ہو چکے ہیں۔ایسی صورتحال ہم سے تقاضا کر رہی ہے کہ ہم آنے والی سنگین صورتحال کا مقابلہ کرنےکیلئے فی الفور کمر بستہ ہو جائیں سب سے ضروری یہ ہے کہ ہم زرعی شعبے اور موسمی تبدیلیوں کے موضوعات پر جدید سائنسی ریسرچ کا کام شروع کریں ۔ ان موضوعات کی اہمیت کے پیشِ نظر اِن کو اسکول کالج کے لازمی مضامین میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ایسے ماہرین تیار کئے جائیں جو آنے والوں وقت میں ملک و قوم کی راہنمائی کر سکیں ۔ ہمارے ہاں خوراک کے ضیاع کا بھی ایک افسوسناک رواج اور رویہ موجود ہے۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ تقریبات میں کھانا کھایا کم اور ضائع زیادہ کیا جاتا ہے اور ہمیں اِس کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔

خوراک کی کمی کے مسئلے پر جدید زرعی پروٹوکولز کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ زمین کی تیاری ، معیاری بیج ، فصل کا بیماریوں او ر موسمی اثرات سے بچائو اور خوراک کے تحفظ بشمول کھیت سے منڈی تک کی محفوظ اور بروقت ترسیل کے معاملات بے حد توجہ طلب ہیں۔ زراعت کے روایتی اور فرسودہ طریقوں کو خیرباد کہہ دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ درپیش و آمدہ صورتحال کے پیشِ نظر کسانوں کی مناسب تربیت اور راہنمائی کا اہتمام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے بیج متعارف کروائے جانے چاہئیں کہ فصل نہ صرف کم سے کم پانی سے تیار ہو جائے بلکہ موسمی اثرات کا بھی مقابلہ کر سکے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم خوراک کے تحفظ کی خاطر مِن حیث القوم اپنا کردار ادا کریں۔

تازہ ترین