امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو کم از کم 3 سے 4 ماہ تک برداشت کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ہی اسے شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی اخبار کے مطابق یہ رپورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے جلد خاتمے سے متعلق پرامید بیانات پر سوالات اٹھا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدید بمباری کے باوجود ایران اب بھی اپنے تقریباً 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور 70 فیصد میزائل ذخیرے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی حکومت نے اپنی زیرِ زمین میزائل سائٹس کو دوبارہ فعال کرلیا ہے، تباہ شدہ میزائلوں کی مرمت کی ہے اور نئے میزائل بھی تیار کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو اوول آفس میں کہا تھا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل تباہ ہوچکے ہیں، شاید صرف 18 یا 19 فیصد باقی ہیں۔ تاہم سی آئی اے کی رپورٹ اس دعوے سے مختلف ہے۔
امریکی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت سی آئی اے کے ابتدائی اندازے سے بھی زیادہ ہے، ایک اہلکار نے کہا کہ ایرانی قیادت زیادہ سخت اور پرعزم ہو گئی ہے۔