• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

( تھیلی سیمیا ڈے پر خصوصی تحریر)

ہم اکثر بڑے مسائل کا حل پیچیدہ جگہوں پر تلاش کرتے ہیں جبکہ کچھ مسائل کا حل نہایت سادہ ہوتا ہے،اتنا سادہ کہ ہم اسے سنجیدگی سے ہی نہیں لیتے۔ تھیلیسیمیا بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔ ایک ایسا مرض جس کا علاج مہنگا، طویل اور تکلیف دہ ہے مگر اس سے بچاؤ صرف ایک سادہ ٹیسٹ سے ممکن ہے۔ شادی سے پہلے ایک معمولی سا ٹیسٹ نہ صرف دو افراد بلکہ آنے والی پوری نسل کو اس بیماری سے محفوظ رکھ سکتا ہے مگر افسوس کہ ہم اس سادہ حل کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ہر سال 8 مئی کو دنیا بھر میں تھیلیسیمیا کا عالمی دن منایا جاتا ہےمگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس دن کے پیغام کو سمجھتے ہیں؟ یا یہ بھی دیگر ایام کی طرح صرف ایک رسمی سرگرمی بن کر رہ جاتا ہے؟ اس سال کا عالمی پیغامHidden No More: Finding the Undiagnosed, Supporting the Unseenہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے لوگ ایسے ہیں جو تھیلیسیمیا مائنر (کیریئر) ہیں مگر لاعلمی کے باعث وہ اس بیماری کو اگلی نسل میں منتقل کر رہے ہیں۔پاکستان میں تھیلیسیمیا ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں ایک لاکھ سے زائد مریض اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ہر سال تقریباً پانچ ہزار نئے بچے تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ ایک مریض بچے کی دیکھ بھال میں جو اخراجات، وقت اور جذباتی توانائی صرف ہوتی ہے وہ پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری نہ صرف جسم کو کمزور کرتی ہے بلکہ مریض کے گھروالوں کے حوصلے بھی توڑ دیتی ہے۔تاہم اگر ہم حقیقت کا سامنا کریں تو یہ ایک قابلِ روک تھام بیماری ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم کیوں نہیں کر رہے؟ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کیریئر ٹیسٹ کروانا نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی مہنگا۔ بلکہ سندس فاؤنڈیشن جیسے ادارے یہ سہولت بالکل مفت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہم اسے غیر ضروری سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہم رشتے طے کرتے وقت تعلیم، خاندان اور معاشی حیثیت کو اہمیت دیتے ہیں مگر صحت جیسے بنیادی عنصر کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور یہی غفلت ایک پوری نسل کو متاثر کر دیتی ہے۔

گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے سندس فاؤنڈیشن اس محاذ پر سرگرمِ عمل ہے۔ آج ہزاروں بچے یہاں باقاعدگی سے علاج، خون کی مفت فراہمی، ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ سندس فاؤنڈیشن اور اس جیسے دیگر فلاحی ادارے دن رات ان مریض بچوں کیلئے کوشاں ہیں تاکہ ان کی زندگی کو ممکن حد تک بہتر بنایا جا سکے۔ مگر اس سب کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ علاج ایک مسلسل جدوجہد ہے ایک ایسی جدوجہد جس کا اختتام صرف روک تھام میں ہے۔ہم نے ایسے بے شمار افراد دیکھے ہیں جو خاموشی سے خون کا عطیہ دے کر کسی کی زندگی بچا جاتے ہیں۔ مگر اسی معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو لاعلمی یا لاپروائی کی وجہ سے اس مسئلے کو بڑھنے دیتے ہیں۔ یہی تضاد ہمارے اجتماعی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس سمت کھڑے ہیں مسئلے کا حصہ یا اس کے حل کا؟ حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس حوالے سے قانون سازی اور آگاہی مہمات قابلِ تحسین ہیں اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ تاہم، قانون اور پالیسی اُس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے جب تک عوام خود اس ذمہ داری کو قبول نہ کریں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ریاست اور معاشرہ دونوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ ہسپتالوں میں نہیں بلکہ گھروں میں جیتی جائیگی ۔ اس وقت جب ایک نوجوان شادی سے پہلے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کرئیگا، جب والدین اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں گے اور جب معاشرہ اسے ایک معمول کی بات بنا دے گا۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب ہم واقعی اس بیماری کے پھیلاؤ کو روک سکیں گے۔دنیا کے کئی ممالک اس کی واضح مثال ہیں۔ ایران، قبرص اور اٹلی جیسے ممالک نے لازمی اسکریننگ اور مؤثر آگاہی کے ذریعے تھیلیسیمیا کے کیسز میں نمایاں کمی حاصل کی ہے۔ پاکستان بھی یہ کر سکتا ہےاگر ہم سنجیدگی سے اس مسئلے کو لیں اور انفرادی و اجتماعی سطح پر عملی اقدامات کریں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک اجتماعی عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ خون کا عطیہ دینا اپنی سماجی ذمہ داری سمجھیں، آگاہی کو عام کریں اور سب سے بڑھ کر اس بیماری کو روکنےکیلئےسنجیدہ اقدامات کریں۔

تازہ ترین