• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں امریکہ ایران تنازع سے عالمی اور خطے کی معیشت کو درپیش نقصانات کے بارے میں لکھا تھا۔ آج میں اس تنازع کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کے بارے میں لکھنا چاہوں گا۔ حال ہی میں UNDP پاکستان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو اس حوالے سے ایک پریزنٹیشن دی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی معیشت خطرے سے دوچار ہے اور پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ترقی پذیر ممالک کو توانائی، خوراک کی بڑھتی قیمتوں، ترسیلات زر میں ممکنہ کمی اور سخت مالیاتی پالیسی کا سامنا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ تنازع سے عالمی تیل، گیس کی مارکیٹس اور آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ماہیر بنچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ جنگ سے پاکستان اور افغانستان کی معاشی ترقی نمایاں طور پر سست ہوگئی ہے، افراط زر میں اضافے کو روکنے کیلئے سخت مالیاتی پالیسی ناگزیر ہے جسکے تناظر میں اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں مالیاتی پالیسی جائزے میں پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ کرکے10.5 سے 11.5 فیصد کردیا ہے جس پر بزنس کمیونٹی نے شدید تنقید کی ہے کیونکہ ان کی مالی لاگت میں اضافے سے وہ ایکسپورٹ میں غیر مقابلاتی ہورہے ہیں جس کا ثبوت ملکی امپورٹ میں اضافہ اور ایکسپورٹ میں کمی ہے۔پاکستان میں افراط زر آئندہ 12 مہینوں میں 10 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ ہر 10 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت میں اضافے سے آدھا فیصد افراط زر بڑھتا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں تو افراط زر 10 سے 11 فیصد تک ہوجائیگا جس کیلئے اسٹیٹ بینک کو پالیسی ریٹ میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا۔ ملکی معیشت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکی جی ڈی پی گروتھ جس کا آئندہ مالی سال 2026-27 ء میں ہدف 4فیصد رکھا گیاہے لیکن رواں مالی سال 2025-26میں جی ڈی پی گروتھ 2.5 سے 3 فیصد متوقع ہے، ملکی انڈسٹریل گروتھ 3.9 فیصد سے کم ہوکر ایک فیصد، زرعی گروتھ 4.4 فیصد سے کم ہوکر 4 فیصد اور سروس سیکٹر گروتھ 4 فیصد سے کم ہوکر 2.8 فیصد پر آگئی ہے۔ موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (CAD) 3.5 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 0.8 فیصد) بڑھ کر 8 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 1.9 فیصد) ہوسکتا ہے جبکہ مالی خسارہ (Fiscal Deficit) جی ڈی پی کا 4 سے 4.5 فیصد متوقع ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کے نتیجے میں حکومتی مداخلت کے بغیر روپے کی قدر میں5 سے 6 فیصد کمی متوقع ہے۔ رواں مالی سال روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 280 روپے اور آئندہ مالی سال 2026-27ء میں294 روپے متوقع ہے۔ پاکستان کا تیل کی امپورٹ پر انحصار 22 فیصد (15 ارب ڈالر) تک پہنچ چکا ہے جبکہ نان آئل امپورٹس بڑھ کر 48ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں حالانکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پیٹرول اور ڈیز ل کی کھپت میں 12فیصد کمی آئی ہے۔ مشرق وسطیٰ جنگ سے پہلے پاکستان کے ایک ہفتے کا امپورٹ بل 300ملین ڈالر تھا جو تیل کی قیمتیں بڑھنے سے اب 800ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ رواں مالی سال جولائی سے جون 2026ءمیں ملکی ایکسپورٹس 35ارب ڈالر اور امپورٹس 65ارب ڈالر متوقع ہیں جس سے حکومت کو 30ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ملے گا۔خلیجی ممالک میں کشیدگی اور معاشی سست روی کے نتیجے میں بیروزگاری بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جس میں پاکستانی ورکرز بڑی تعداد میں متاثر ہونگے۔ معاشی ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ خلیجی ممالک سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں 10فیصد کمی آئیگی جو مجموعی ترسیلات زر کا 3.5فیصد ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان کو ریکارڈ غیر ملکی ترسیلات زر 40 ارب ڈالر موصول ہوئی تھیں۔

خطے میں کشیدگی کے باعث 2 مئی تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج 7678 پوائنٹس (4.5فیصد) کم ہوکر 162994 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ جنگ کی وجہ سے ٹریژری بلز میں اپنی 94 فیصد تک سرمایہ کاری نکال لی ہے لیکن گزشتہ 9مہینوں میں نامساعد حالات میں بھی پاکستان نے 1.6ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری (FDI) حاصل کی جبکہ گزشتہ سال یہ 2.4 ارب ڈالر تھی۔ ملکی معیشت سے نکل کر اگر ایک عام آدمی کی زندگی کا جائزہ لیں تو مہنگائی نے مڈل کلاس طبقے کی کمر توڑ دی ہے، افراط زر 10.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 37فیصد اضافہ، شہری علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء میں 6.9 فیصد اور دیہی علاقوں میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے، ڈیزل کی قیمت 93فیصد بڑھی ہے، ایندھن کی سپلائی میں رکاوٹوں اور قیمتوں میں اضافے کے باعث صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کھاد اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے زراعت کا شعبہ متاثر ہوا ہے جس میں کاٹن کی فصل کی پیداوار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جو 13ملین بیلزسالانہ سے کم ہوکر 6ملین بیلز سالانہ پر آگئی ہے۔

لوگوں کی امیدیں آنے والے بجٹ پر لگی ہیں کہ انہیں ٹیکسز اور دیگر سہولتوں میں کیا مراعات دی جائیں گی۔ تنخواہ دار طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز بہت زیادہ ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ حکومت ان ٹیکسوں میں آنیوالے بجٹ میں کمی کرے گی لیکن ایف بی آر کے ریونیو وصولی ہدف میں شارٹ فال کے مدنظر مالی گنجائش کم نظر آتی ہے جسکی وجہ سے یکم جون کو آنے والا بجٹ ایک سخت بجٹ ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین