• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک مرتبہ منو بھائی نے لکھا تھا فاختہ یا گھُگھی قسم کے پرندے نےچِیل سے پوچھا کہ خالہ! تمہاری شکل و صورت انکل شاہین سے ملتی ہے ، پنجے، آنکھیں،اونچی اڑان اور پھر اپنے شکار پر جھپٹنے کی صلاحیت بھی ، پر انکل جیسی ہیبت اور قدر و منزلت آپ کی نہیں،چیل نے کہا’’میرا بس ایک مسئلہ ہے کہ شکار کے قریب پہنچ کے میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے‘‘۔ رہی سہی کسر منیر نیازی کے اس مقبول شعر نے پوری کر دی:

اک چیل ،ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں

گلیاں اجڑ گئی ہیں،مگر پاسباں تو ہے

عام تصور یہ ہے کہ چِیل کسی ممٹی(ٹینکی) پر بیٹھی ہو تو وہ گھر اجڑ جاتا ہے ۔جب چیل کا یہ حال ہے تو آپ خود سوچیںگِدھ کو کتنا منحوس خیال کیا جاتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اس کا انگریزی میں نام لیتے ہیں،ولچر! تاہم اس کی ہیبت قائم نہیں ہوتی۔اب تو پنجاب میں ویسٹ مینجمنٹ یا ٹھیکیداری سسٹم میں کام کرنے والےخاکروب اذانِ فجر کے فوراٴ بعد کُوڑا یا کچرا اٹھانا شروع کرتے ہیں،بلدیہ یا زراعت کے محکمے کی گاڑیاں درختوں،پودوں کے ساتھ سڑکوں کی دُھلائی کرنا شروع کرتی ہیں اور اللہ کے یہ نیک بندے بڑے شہروں کی غلاظت کو سمیٹتے ہوئے کُر کُر نہیں کرتے،گالیاں بھی نہیں دیتے،خوانچے والے انہیں شاید رعایت سے چائے بھی پِلا دیتے ہیں،مگر اس بندوبست سے پہلے گِدھ، مامور من اللہ تھا یعنی جو جانور مر جاتے،شاید کچھ راہ گم کردہ مسافر بھی خاص طور پر تھل،چولستان،میانوالی،لیہ ،بھکر یا مظفر گڑھ کے ٹیلوں کے آس پاس مرنے والے یا ایسے لاوارث جن کے سرہانے کوئی تیمار دار ہوتا نہ معالج اور نہ نوحہ گر یہی منحوس ترین سمجھا جانے والا ہوتا۔ پھر یہ ہوا کہ یہ اللہ میاں کا قاصد غائب ہو گیا خاص طور پر تب سے جب سے بانو قدسیہ نے اس پر ناول ’راجہ گِدھ‘ لکھ دیا اور اسے سی ایس ایس کے نصاب میں شامل کیا گیا۔

اس کے بعد ماہرین نے امریکی امداد اور عینک سے اس کی گم شدگی کے اسباب پر غور کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ تین بڑے اسباب ہیں،یہ شیشم کے پیڑوں پر بسیرا کرتا تھا وہ شیشم ایک ایک کرکے مرنے شروع ہوئے ماہرینِ زراعت کی ایک کمیٹی کئی برسوں سے شیشم اگائو اسکیم پر سفارشات تیار کر رہی ہے امید ہے کہ ولچروں سے مماثل ان کے افسر اور وزیر مشیر اپنی فائلوں کے اندرہزاروں، لاکھوں شیشم اُگا لیں گے۔ دوسرے یہ بھی کچھ رمز کشائوں کو معلوم ہوا کہ ایک تخفیفِ درد کا ٹیکہ ہے ڈیکلرون جو اپنے بیمار مویشیوں کو کاشت کار خود لگا لیتے ہیں اس کے اندر کچھ ایسے اجزا ہیں جن سے اس سخت جان پرندے کے پر اور پنجے جھڑنے شروع ہوئے اور وہ ہمارے چولستان،تھل ،ملتان اور میانوالی سے غائب ہو گیا اور اپنی جگہ ٹرک ڈرائیوروں کے پسندیدہ ہوٹل چھوڑ گیا،جن کے کھانوں کی خوشبو مہذب یعنی متمول افراد تک بھی پہنچ گئی اور وہ اپنی قیمتی گاڑیوں حتیٰ کہ اسپورٹس کاروں اور جیپوں میں وہاں پہنچنے لگے،جب ایسے ہوٹل قائم ہوں اور رزقِ حلال یا مشکوک وسائل سے زندگی کی نعمتوں سے لطف لینے والے لوگ وہاں پہنچتے ہیں تو وہ کچھ سراسیمہ ہوجاتے ہیں،بھوکے،بیمار بچوں اور بچیوں کی قطاریں شاپر لے کر کھڑی ہوتی ہیں،وہ ہوٹل والوں سے کہتے ہیں کہ انہیںتخفیفِ درد کے ٹیکے لگا کے ان کی بھنبھناہٹ یا منمناہٹ سے بچائیں۔

یہ کچھ باتیں اس لئے بھی یاد آئیں کہ ترکیہ سے ایک دبلے پتلے اسمارٹ عبدالعلیم خان پی ایچ ڈی کر کے ملتان آئےتو میں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا کہ میرے استاد ڈاکٹر اے بی اشرف اور ترکیہ میں پاکستانی سفارت خانے کے سائبر سیکشن کے انچارج محمد اکرام اللہ ان کی بہت تعریف کرتے تھے،وہ زولوجی یا علم الحیوانات کے ماہر تھے،پھر پتہ چلا کہ لاکھوں ڈالر ان کی تحقیق کے لئے امریکہ سے منظور ہوئے ہیں،میں اردو ادبیات کا ایک خواب پرست مجھے توقع تھی کہ ہماری یونیورسٹی میں اس گرانٹ سے فیس یونی فارم اور شاید ایسا جیب خرچ جو انہیں کم خرچ قسم کا عشق کرنے میں مدد گار ہو،ممکن ہو جائے گا مگر ہوا یہ کہ یونیورسٹی کی بنجر زمین کے بے آباد حصے میں جگہ جگہ سرکنڈوں پر مٹی کے لوٹے لٹکا دئیے گئے،میں نے ڈاکٹر عبدالعلیم خان سے پوچھا یہ کیا ہے،اس نے کہا کہ یہ گِدھوں کی افزائشِ نسل کے لئے ان کی بیضہ پروری کے لئے عالمگیر کوشش کا ایک حصہ ہے۔میں نے مذاق اڑایا کہ یار! تم بھی امریکیوں کی اس سازش میں شریک ہو گئے ہو کہ وہ ہماری آبادیوں کے زرخیز ترین حصے یعنی دانش گاہوں کو ویران کرنا چاہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ راجہ گِدھ کی اشاعت یا مقبولیت کے بعد تو رزقِ حلال و حرام کی بحث بڑھی،ساتھ ہی ہر قسم کے منصب کو خریدنے کے نرخ میں اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود مجھے کسی نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالعلیم خان کے دو ایک الٹے لوٹوں میں سرسراہٹ ہوئی، یعنی کسی مادہ گدھ نے انڈہ یا بچہ دیا ۔

ہماری درسگاہوں میں کبھی تو کسی استاد کے بارے میں خوش خیالی کہتی ہے کہ اسے رئیسِ جامعہ ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا اور کبھی بدگمانی اسی لائق استاد کے خلاف ہراسانی اورفنڈز کے حسابات اوپر نیچے کرنے کے الزامات لگاتی ہے،تاہم پرسوں میں نے روزنامہ جنگ میں ایک کالم نگار کی تحریر دیکھی کہ کئی عشروں کے بعد چولستان میں گِدھ لوٹ آئے ہیں،اسی کالم میں ایک امریکی کے ساتھ پاکستان کے ڈاکٹر عبدالعلیم کا بھی نام تھا۔دو چار فقرے ’راجہ گدھ‘ کے دیکھ لیجئے:’’پرانے زمانے میں بھی شوہراپنی مائوں سے چھپ کر اپنی نو بیاہتا بیویوں کی ذہنی،جذباتی،جسمانی بھوک مٹانے اوپر کی منزل میں جاتے تو ان کے ہاتھ میں قلاقند کے دونے اور مولسری کے ہارہوتے۔۔ایک درخت سے لٹکی جوگی کی لاش کو رسی کی گرہ سے چُھڑا رہا تھا جب اس کے لہو کی پتلی سی دھار میرے حلق میں داخل ہوئی۔۔اب میرے جسم میں تمام لہو مُردار جسم سے بنتا ہے،میں موت کا دشمن اور موت ہی کا پروردہ ہوں۔اب میری نسلیں حرام کھانے لگیں۔مادہ گدھ جب بچہ پیدا کرنا چاہتی ہے تو وہ ہوا میں دیر تک اڑتی ہے ،آدھی اڑان میں واپس آتے ہوئےاس کا رحم کُھل جاتا اور وہ ہوا سے ایسے بار ور ہوتی،جیسے درخت،پودے ہوا سے پولن لے کر بار ور ہوتے ہیں۔‘‘

تازہ ترین