• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے ہفتے واہگہ بارڈر پر معرکہء حق کی سالگرہ جوش و خروش سے منائی گئی، عوام کی ایک بڑی تعداد اس موقعے پر اپنی فتح کا جشن منانے کیلئے اکٹھی تھی، پاک فوج کے حق میں نعرے لگ رہے تھے، بھارت کو اسکی سبکی کی یاد دہانی بڑے اہتمام سے کرائی جا رہی تھی۔ فتح کا غرور فضا میں تیر رہا تھا۔ کیا بارڈر کے دوسری طرف سوگ کا عالم تھا؟ جی نہیں۔ اُس طرف بھی آپریشن سیندور کی سفلتاکی ورشو گانٹھ کے شبھ سمے ناقوس بج رہے تھے۔ بھارتی عوام کی ایک بڑی تعداد کان چِیر نعرے بلند کر رہی تھی اور نعرہ زنوں کی آنکھوں میں وجیتا کا ابھیمان دیدنی تھا۔ یہ دو علاحدہ جنگوں کے جشن کا تذکرہ نہیں ہو رہا، یہ ایک ہی جنگ کی بات ہو رہی ہے، پچھلے سال مئی میں پاک بھارت چار روزہ جنگ۔ بات ہمارے لیے قابلِ فہم ہو جاتی اگر بھارت 1971 ءکی سالگرہ مناتا اور ہمارے زخموں پر نمک پاشی کرتا، اور ہم مئی 2025 کی سالگرہ منا کر ہندوستان کو اسکی ہزیمت یاد کراتے۔ مگر یہ ایک عجب دبدھا ہے، ایک جنگ، دو حریف، دونوں اپنے تئیں فاتح۔

حب الوطنی کی عینک جیب میں رکھ کر منظر کا جائزہ لیں۔ بھارت کے برہموس میزائل نے پاکستان کے ائر ڈیفنس سسٹم اور جغرافیائی گہرائی کو کامیابی سے چیلنج کیا۔ مگر پاکستان کی فضائی برتری (0-6) جنگی اور نفسیاتی اعتبار سے جنگ کا فیصلہ کن موڑ قرار دی گئی۔ عالمی عسکری ماہرین سے امریکی کانگرس رپورٹ تک، پاک بھارت مئی جنگ میں پاکستان کا پلہ بھاری تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ مگر بھارت میں "حقیقت سازی" کی صنعت بہت توانا ہو چکی ہے، ویسے تو دنیا بھر میں یہ صنعت رو بہ عروج ہے، مگر بھارت میں بی جے پی حکومت نے اس سیکٹر میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بھارتی عوام کی اکثریت مقامی ساخت کی ’’حقیقت‘‘ پر ایمان رکھتی ہے، اسی کا شاخسانہ ہے کہ بھارت میں حالیہ ریاستی انتخابات میں مودی صاحب کے ’’کامیاب‘‘ آپریشن سیندور نے بی جے پی کو فتح سے ہم کنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ تو ایک مثال ہے، ایسی درجنوں مثالیں ہیں جن سے سمجھ آتی ہے کہ موجودہ دور کو زمانہء بعد از حقیقت کیوں کہا جا رہا ہے۔ افواہیں تو ہر دور میں اڑتی تھیں، حکومتیں ہمیشہ سے پراپیگنڈا کے فن کی سرپرستی کرتی رہی ہیں، سنسر شپ کی کلہاڑی تو آئرن ایج سے بھی پہلے ایجاد ہو چکی تھی، اور سب سے بڑھ کر دیو مالا ہزاروں برس پہلے ’’حقیقت‘‘ کے سینے پرسوار ہو گئی تھی۔ تو پھر اب کیا نئی بات ہوئی ہے جسے حقیقت کی موت قرار دیا جا رہا ہے؟ یہ درست ہے کہ اگلے زمانوں میں دنیاوی ’’حقیقت‘‘ پر اتفاقِ رائے وسیع ہوا کرتا تھا، خواہ ان حقائق کی بنیاد پر مختلف نتائج اخذ کیے جائیں۔ مگر اب سچ دولخت ہو چکا ہے، میرے لئے میرا سچ، آپ کیلئے آپ کا سچ۔

مادی دنیا تو اب بھی موجودہے، حقیقت تو اب بھی موجود ہے، مگر اسکے ثبوت اور گواہی قابلِ اعتبار نہیں رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جتنی انفارمیشن کا آج کے انسان کو سامنا ہے اس سب کی تصدیق کیلئے عمرِ خضر درکار ہے۔ لہٰذا، تصدیق کیلئے ’’شارٹ کٹ‘‘ استعمال کئے جاتے ہیں، یعنی تعصبات، جذبات، انفلوئنسرز، الگورتھم۔ اور الگورتھم کا حقیقت سے کچھ لینا دینا نہیں، اسکا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ انگیجمنٹ ہے۔ آپ جو دیکھنا چاہتے ہیں الگورتھم آپ کو وہی دکھائے گا، آپ عمران خان کے مداح ہیں تو آپ کو سوشل میڈیا پر دن رات ایک سا مواد نظر آئے گا، یعنی ’’بندہ ایمان دار ہے‘‘۔ اور اگر آپ عمران خان کی سیاست کو پسند نہیں کرتے تو آپ کو "فرح گوگی اور ہیرے کی انگوٹھی" کے قصے سنائے گا۔ اس طرح پھیلتی ہیں دو حقیقتیں۔

پولیٹیکل پولرائزیشن میں اپنی اپنی حقیقت کو گلے لگا لیا جاتا ہے۔ ہر ثبوت اور ہر گواہی جو آپ کے تعصبات کی تصدیق نہیں کرتی فیک نیوز قرار پاتی ہے۔ اور اب تو اے آئی نے Seeing is believing والا معاملہ بھی مشتبہ بنا دیا ہے۔ پچھلے دنوں فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ٹرمپ صاحب فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ایک انویسٹمنٹ کمپنی کو بھی فنٹاسٹک قرار دے رہے ہیں جس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے پیسے راتوں رات ڈبل ہو جائیں گے۔ اسی طرح ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں کچھ لوگ ننگے پاؤں دہکتے ہوئے انگاروں پر چل رہے ہیں، ویڈیو کے نیچے کومنٹس میں لکھا تھا کہ یہ کولڈ فائر ہے، یعنی آگ نظر آتی ہے، دھواں بھی نکلتا ہے، مگر دراصل یہ ٹھنڈی ہے، ایک صارف نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ آگ، شعلے اور دھواں پوسٹ پروڈکشن کا کمال ہے۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ہم ان دعووں کی تصدیق کرنے نکل کھڑے ہوتے۔ ہماری ہمدردیاں انگاروں پر چلنے والوں کے ساتھ تھیں، سو ہم نے ویڈیو پر اعتبار کیا اور اگلی ویڈیو کی طرف چل پڑے۔ سنتے ہیں بچوں کے دماغ میں قریباً دس لاکھ نیورل کنکشن پر سیکنڈ بنتے بگڑتے ہیں، اٹینشن سپین مختصر ہوتا ہے، یاداشت بہت محدود ہوتی ہے۔ اس ڈیجیٹل دنیا میں ہمیں تو بڑوں کے دماغ کی حالت بھی کچھ مختلف نظر نہیں آتی۔ ہمارے پاس مشاہدات کی تصدیق کا وقت نہیں رہا، لہٰذا ہم مشاہدات کی من پسند تشریح کر لیتے ہیں۔ آج کل کی زبان میں اسی کو ’’بیانیہ’’ کہتے ہیں۔ میرؔ صاحب فرماتے ہیں۔

یہ توہم کا کارخانہ ہے

یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

تازہ ترین