دہلی کی ایک عدالت نے منگل کو دہلی فسادات سازش کیس میں ملزم عمر خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
عمر خالد نے اپنے مرحوم چچا کے چہلم میں شرکت اور اپنی والدہ کی تیمارداری کے لیے 15 روزہ عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جن کی سرجری ہونا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمر خالد کے والد 71 برس کے ہیں اور اپنی اہلیہ کی دیکھ بھال کے قابل نہیں، جبکہ ان کی پانچ بہنوں میں سے چار شادی شدہ ہیں اور مختلف مقامات پر رہتی ہیں۔
وکیل ساحل گھئی نے عدالت کو بتایا کہ عمر خالد خاندان کے بڑے اور واحد بیٹے ہیں، اس لیے والدہ کی سرجری سے قبل اور بعد میں ان کی دیکھ بھال صرف وہی کرسکتے ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ملزم اور دیگر شریک ملزمان کو عبوری ضمانت دی جاچکی ہے اور انہوں نے شرائط کی خلاف ورزی بھی نہیں کی، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بار درخواست پر ضمانت دی جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ چچا کے چہلم میں شرکت ناگزیر نہیں اور اگر تعلق اتنا قریبی تھا تو درخواست چچا کی وفات کے وقت دائر کی جاتی، نہ کہ کافی عرصہ گزرنے کے بعد۔
عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کی والدہ کی سرجری معمولی نوعیت کی ہے، جبکہ ان کی دیکھ بھال کے لیے والد اور بہنیں موجود ہیں، اس لیے عدالت کو عمر خالد کی رہائی کی کوئی معقول ضرورت نظر نہیں آتی۔