یونان میں 35 سال قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے برطانوی بچے کے کیس میں نیا موڑ سامنے آ گیا، جہاں برطانوی پولیس نے اب مزید فعال تحقیقات نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
برطانوی شہر شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والا بین نیڈہم صرف 21 ماہ کا تھا جب وہ 1991ء میں یونانی جزیرے پر پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا تھا، اس وقت وہ اپنے نانا نانی کے ساتھ ایک فارم ہاؤس میں مقیم تھا جبکہ اس کی والدہ جزیرے کے ایک ہوٹل میں ملازمت کرتی تھیں۔
بین کی والدہ کیری نیڈہم نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پولیس کے میجر کرائم یونٹ نے آگاہ کیا ہے کہ اب کیس کی مزید تحقیقات یونانی حکام کے سپرد ہوں گی۔
کیری نیڈہم نے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خبر میرے لیے تباہ کن ہے، اگر معاملہ مکمل طور پر یونانی پولیس کے حوالے کر دیا گیا تو مجھے لگتا ہے جیسے بین کی تلاش چھوڑ دینی چاہیے، کیونکہ یونانی حکام ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ یہ کیس ختم ہو جائے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر تحقیقات کی بنیادی ذمے داری یونانی حکام کے پاس ہے، تاہم پولیس اب بھی کیس کے لیے محدود وسائل فراہم کر رہی ہے، جن میں فیملی لائژن آفیسر اور ایک رابطہ افسر شامل ہیں۔
کیری نیڈہم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس اور برطانوی وزیرِ اعظم سے رابطہ کریں تاکہ کیس کو مکمل طور پر بند نہ کیا جائے۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ کوئی بھی والدین اپنے بچے کی تلاش کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور میں بھی کبھی ہار نہیں مانوں گی۔